چین: کتوں کی کھال سے مصنوعات بنانے میں اضافہ

18 دسمبر 2014

ای میل

فوٹو:peta.org
فوٹو:peta.org
فوٹو:peta.org
فوٹو:peta.org
فوٹو:peta.org
فوٹو:peta.org
فوٹو:peta.org
فوٹو:peta.org
فوٹو:peta.org
فوٹو:peta.org

بیجنگ : چین میں کتوں کی کھال سے بننے والی مصنوعات کی فروخت پر غیر ملکیوں سمیت مقامی فلاحی تنظیمیں نالاں نظر آتی ہیں۔

واضح رہے کہ چین کے ہوٹلوں میں کتوں کے گوشت سے بنائے گئے پکوان تو پہلے ہی کافی مقبول ہیں۔

چینی صنعت کار مختلف مصنوعات کی تیاری میں گائے اور بھیڑ کی کھال کی بجائے اب کتے کی کھال کو استعمال کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

کتوں کی کھال غیر معیاری ضرور ہیں مگر کم قیمت کے باعث صنعت کاروں کو ان میں زیادہ منافع دکھائی دے رہا ہے۔

اس صورتحال کے باعث مقامی منڈیوں میں کتوں کی خرید وفروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب مقامی اور غیر ملکی تنظیمیں انسان دوست سمجھے جانے والے جانور کے ساتھ ہونے والے سلوک پر ناخوش ہیں۔

ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ اب چین کی دوسری بڑی صنعت میں کتوں کی کھال سے دستانے، جوتے، ٹوپیاں، تھیلیوں سمیت دیگر مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔

جانوروں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم پیپل فار دی ایتھیکل ٹریٹمنٹ آف اینیمنلز (پی ای ٹی اے) کے مطابق چین میں کتوں کی کھال سے بنائی جانے والی مصنوعات بیرون ملک بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

پی ای ٹی اے کا کہنا ہے کہ چین کی مصنوعات استعمال کرنے والے صارفین پہلے دیکھ لیں جو وہ پہن رہے ہیں وہ کس چیز کی کھال سے بنا ہوا ہے

تنظیم کی جانب سے ایک تحقیقات کار کو نومبر 2014 میں چین بھیجا گیا تھا جہاں اس نے ایک پلانٹ (کارخانے) کا دورہ بھی کیا جہاں کی خاتون نگراں نے اس کو بتایا کہ 30 ہزار سے زائد کتوں کی لاشوں کو اس وقت گودام میں موجود ہیں۔

ان تحقیقات سے یہ بھی اندازہ لگایا گیا کہ ایک وقت میں ایک پلانٹ میں اس قدر بڑی مقدار میں کھالیں موجود ہیں تو پورے چین میں یہ صورتحال مزید خراب ہو گی۔