پیپلز پارٹی پر تنقید، قادر پٹیل کی رکنیت معطل

اپ ڈیٹ 21 مارچ 2015

ای میل

پاکستان پیپلز پارٹی نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے پر کراچی ڈیژن کے صدر عبدالقادر پٹیل کی پارٹی رکنیت معطل کردی ہے — فوٹو: اے پی پی فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے پر کراچی ڈیژن کے صدر عبدالقادر پٹیل کی پارٹی رکنیت معطل کردی ہے — فوٹو: اے پی پی فائل فوٹو

کراچی: سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے پر کراچی ڈیژن کے صدر عبدالقادر پٹیل کی پارٹی رکنیت معطل کردی ہے۔

عبدالقادر پٹیل نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ پارٹی اس وقت ’مفاہمت کے نام پر سمجھوتے کی سیاست‘ کررہی ہے۔

پی پی کے سینئر رہنما نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے عبدالقادر پٹیل کی پارٹی رکنیت معطل ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عبدالقادر پٹیل کی رکنیت پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری، سینٹر تاج حیدر نے صوبائی صدر اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی ہدایات پر کی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان اور وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی کا کہنا تھا کہ عبدالقادر پٹیل کے 10 مارچ کے بیان پر ان کو ایک ہفتے میں جواب جمع کروانے کا کہا گیا تھا اور اس حوالے سےایک شو کازنوٹس جاری کیاگیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ عبدالقادر پٹیل کی جانب سے شوء کاز نوٹس کا جواب نہیں دیا گیا جس کے بعد پارٹی کے بعد ان کی پارٹی رکنیت معطل کردی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ عبدالقادر پٹیل اب پی پی کراچی ڈیژن کے صدر نہیں ہیں اور ان کی جگہ تمام معاملات کراچی ڈیژن کے سینئر نائب صدرسردار خان دیکھ رہے ہیں۔

عبدالقادر پٹیل کے پارٹی میں مستقبل کے بارے میں پی پی کے اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کو اب کراچی ڈویژن میں کسی قسم کی ذمہ داری دوبارہ نہیں دی جائے گی۔

ذرائع نےعبدالقادر پٹیل کو پارٹی میں دوبارہ ذمہ داریاں دیے جانے کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، عبدلقادر پٹیل کی جگہ پارٹی کے سینئر ممبر کے نام کا اعلان کرنے والے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں پی پی کے رہنما عبداللہ مراد کی 11ویں برسی کے موقع پرعبدالقادر پٹیل نے پیپلز پارٹی رہنماوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے انھوں نے پارٹی کی نظریات اور پالیسی پر سمجھوتا کرلیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ پیپلز پارٹی کے انتہائی اہم کارکن عبداللہ مراد کی برسی کے موقع پراس کے دشمن اور دوست اپنے ذاتی مفادات کے لئے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے جارہے ہیں۔

عبدالقادر پٹیل نے عبدالرحمان ملک پر تنقید کرتے ہو ئے کہا تھا کہ پارٹی کے اہم امور رحمان ملک جیسے لوگوں کے ہاتھ میں دے دیئے گئے ہیں جو پارٹی کے حقیقی کے کارکنوں کو نظر انداز کررہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ کو سندھ حکومت میں شمولیت کے دعوت دینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایسے سمجھوتوں سے ناصرف کارکن بد دل ہو جائے گئے بلکہ اس سے سندھ کی خوشحالی کے خواب کو بھی نقصان پہنچے گا۔