میری اردو بہت خراب ہے!

اپ ڈیٹ 29 مارچ 2015

ای میل

"امی! مجھے نہیں پڑھنی اردو، کتنی مشکل ہے بھئی!"

میری بیٹی نے جھنجلا کر کتاب زور سے پٹخی۔ "یہ کیا بات ہوئی؟ انگلش پڑھنے میں تو کبھی مسئلہ نہیں ہوتا، جہاں ذرا اردو پڑھنے کو کہو، تمہارا منہ بننا شروع!" میں نے اسے گھورا۔ "تو انگلش آسان ہے ناں! اس نے منہ بسورا۔ "اردو بھی آسان ہے، نرسری سے پڑھ رہی ہو، گھر میں بولی جاتی ہے، بس خواہ مخواہ کا مسئلہ بنا لیا ہے"۔ میں نے ڈانٹا اور اس نے کوئی جائےِ امان نہ پا کر کتاب دوبارہ اٹھا لی۔

اگلے دنِ گلی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک چہل قدمی کی غرض سے چکر لگاتے ہوئے میرے کانوں میں ایک جملہ پڑا۔ "بس کر دو یار! ایک تو تمہارا بھاشن شروع ہو جاتا ہے"۔ میں نے گردن گھما کر دیکھا جہاں 12-14 سال کے بچے بچیاں آپس میں کسی بات پر بحث کر رہے تھے۔" بھاشن کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟" میں نے بلند آواز میں ان سے پوچھا اور آگے بڑھ گئی۔ گلی کے کونے سے مڑ کر جب دوبارہ اسی جگہ پہنچی تو ایک بچی نے جواب دیا۔ "آنٹی! اسپیچ (speech) کہتے ہیں۔"

میں نے قدم روک لیے، "مگر اسپیچ تو انگریزی کا لفظ ہے۔ اردو میں کیا کہتے ہیں بھاشن کو؟"

بچوں نے متذبذب انداز میں ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور ایک نے جواب دیا "بھاشن ہی تو کہتے ہیں اردو میں!"۔

میں نے گہری سانس لے کر کہا "بھاشن ہندی کا لفظ ہے بیٹا! اسے اردو میں تقریر کہتے ہیں!"

سب نے پر جوش انداز میں گردن ہلائی، "اوہ ہاں! یاد آیا" "But speech is so easy word than taqreer Aunty” ایک لڑکی نے کندھے اچکائے۔ "مشکل صرف وہ ہوتا ہے بیٹا جسے آپ مشکل بنا دیتے ہیں۔" میں نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا اور آگے بڑھ گئی۔

پڑھیے: اردو ہے جس کا نام

یہ محض دو واقعات نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی نئی نسل میں ابھرنے والی سوچ ہے جو انہیں اپنی قومی زبان کو مشکل سمجھنے پر اکساتی ہے۔ گذشتہ چند عشروں سے ہماری قوم میں تنزلی کے جو آثار نمودار ہوئے ہیں، اردو سے دوری اور اپنی زبان پر شرمندگی بھی ان آثار کا ایک حصہ ہے۔ اردو سے اس دوری میں نئی نسل سے زیادہ ہم قصوروار ہیں جنہوں نے بچوں کو ابتدا سے ہی انگریزی سکھانے پر تو توجہ دی مگر اردو کو نظر انداز کیا۔ اردو زبان ہمارے نصاب کا حصہ تو ہے مگر شاید ہماری توجہ سے سب سے زیادہ محروم ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ جہاں گورنمنٹ اسکولوں میں مسائل انتہائی درجے تک بڑھے، وہیں ہر گلی محلے میں کھلنے والے نام نہاد انگلش میڈیم اسکولوں نے انگریزی کا تو جو برا حال کیا سو کیا، اردو کا تو بیڑہ ہی غرق کر دیا۔ اور صرف اسکولوں کو ہی قصوروار کیوں ٹہھرائیے، بحیثیت والدین، سرپرست، اور خاندان، ہم نے بھی تو نئی نسل میں انگریزی الفاظ اور بول چال کو پروان چڑھانے اور اردو کو پیچھے رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

آتے جاتے مہمانوں کے سامنے بچوں کو انگریزی میں تلقین و سرزنش کی جاتی ہے تاکہ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا رعب پڑے۔ ننھے بچوں کو انگریزی نظمیں گا کر مہمانوں کو سنانے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ بتایا جا سکے کہ بچے کے اسکول میں انگریزی زبان سکھانے پر کتنی توجہ دی جاتی ہے۔ یہ المیہ محض انگریزی کی ترویج تک ہی محدود نہیں بلکہ گھر گھر چلنے والے ہندی ڈراموں، فلموں اور پروگراموں نے ہندی کو بھی ہر گھر کی عام بول چال کا حصہ بنا دیا ہے۔

اب گھروں میں "سکون" کے بجائے "شانتی" تلاش کی جاتی ہے اور رات کو "خواب" کے بجائے ہم "سپنے" دیکھتے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ بعض گھرانوں میں جہاں خالہ اور پھوپھا کے رشتوں کو انکل اور آنٹی کے القاب دے دیے گئے ہیں، وہیں "دیدی" اور"جیجو" بھی سننے میں آتے ہیں۔

ہو سکتا ہے بعض لوگ اسے دنیا کو گلوبل ولیج قرار دیے جانے اور زبان کو سرحدوں کی حدود سے آزاد کر دینے کے خلاف میرا لسانی تعصب قرار دیں، لیکن اصل مقامِ فکر تو یہ ہے کہ جہاں ہماری قوم، ہماری نسل اپنی بہت سی روایات، تہذیب، افکار اور شناخت پر سمجھوتے کر رہی ہے، وہیں وہ زبان جو کبھی ہمارا فخر، ہمارا غرور اور مان ہوا کرتی تھی (میرے نزدیک آج بھی ہے) کہیں ایسے ہی کسی سمجھوتے کی نذر نہ ہو جائے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس بات کی نشاندہی سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ کیا ہمارے یہ کہنے سے کہ ہماری نئی نسل کو اپنی زبان پر فخر کرنا چاہیے، سوچ میں تبدیلی آجائے گی؟ ہرگز نہیں! اگر ہمیں واقعی اپنی زبان کو آگے بڑھانا ہے تو ہمیں اس کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایسی راہیں تلاش کرنی ہوں گی جن پر عمل کر کے ہم اسے پروان چڑھا سکیں۔

مزید پڑھیے: اردو زبان کے بارے میں چند غلط تصورات

"کون بنے گا کروڑپتی" میں جب امیتابھ بچن شدھ ہندی بولتے ہیں، یا نیشنل جیوگرافک کے میں پروگراموں کی ہندی ڈبنگ کی جاتی ہے، اور میچ کی ٹھیٹھ ہندی میں کمنٹری کی جاتی ہے، تو سن کر ہم کہتے ہیں کہ دیکھو! وہ اپنی زبان کو کیسے آگے بڑھا رہے ہیں۔ لیکن جب ہمارے کرکٹ کے کھلاڑی اردو بولتے اور اردو میں انٹرویوز دیتے ہیں تو ہم ان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ دیکھوں انہیں انگلش تک نہیں آتی۔

چین اور جاپان کے وزرائے اعظم انگریزی سمجھنے کے لیے مترجم کا سہارا لیتے ہیں اور اپنی تقاریر اپنی زبانوں میں کرتے ہیں تو ہمارا رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے مخلص ہیں۔ لیکن اگر ہمارا کوئی سیاستدان، وزیر یا ٹی وی اداکار انگریزی سے لاعلمی یا کم علمی کا اظہار کرے تو ہم اسے "پینڈو" کہہ کر پکارتے ہیں۔

اگر ہمیں اپنی زبان کو آگے بڑھانا ہے تو سب سے پہلے ہمیں اسے دلِ سے اپنانا ہوگا۔ اس پر شرمندگی کے بجائے فخر کرنا ہوگا۔ عام بول چال میں اسے ترجیح دینی ہوگی۔ ہم نے جو اپنی زبان کو انگریزی سے کم تر سمجھنے کا رویہ اپنا لیا ہے، اس سوچ کو بدلنا ہو گا۔ اردو کو احساسِ کمتری کے پردے سے باہر نکالنا ہو گا۔

کیا آپ نے کبھی کسی انگریز کو یہ کہتے سنا ہے کہ وہ اچھی انگریزی نہیں بول سکتا؟ کبھی کسی جرمن کو اپنی زبان پر شرمندہ ہوتے دیکھا ہے؟ تو کیوں ہم بڑے فخر سے محفلوں میں کہتے نظر آتے ہیں کہ "My Urdu is really bad" اسی ملک میں پیدا ہونے، پلنے بڑھنے والے، تعلیمی اداروں سے اسی زبان میں تعلیم پانے والے، گھروں میں مکمل اردو (یا کوئی علاقائی مادری زبان) بولنے والے یہ کہتے ہوئے ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے؟ املا غلط، تلفظ غلط اور افسوس کی بات یہ کہ اس غلطی کو سدھارنے کے بجائے اس کا فخریہ اعلان! چار جملوں کی بات کے درمیان دو جملوں میں انگریزی الفاظ کا غیر ضروری تڑکا اس بات کا غماز ہے کہ کس طرح ہم اپنی شناخت اور فخر پر سمجھوتے کرتے جا رہے ہیں۔

جانیے: پاکستان میں اقلیتی مادری زبانیں

اردو کو پروان چڑھانے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ خود کو انگریزی یا دیگر زبانوں سے دور کر لیا جائے۔ جتنی چاہے زبانیں سیکھیے، سمجھیے، بولیے، پڑھیے، لیکن ساتھ ساتھ اردو کو بھی یاد رکھیں۔ اسے وہ درجہ، وہ مقام دیجیے جو اس کا حق ہے۔ اردو بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ چین اور جاپان کی طرح ہر زبان میں تخلیق کیا گیا جدید اور بہترین ادب، نئی تحقیقات، نئے رجحانات اپنی زبان کے سانچے میں ڈھالیں، تاکہ نئی نسل کو تمام تر معلومات اور علم اپنی زبان میں میسر آسکے۔ اسِ ضمن میں بہت کام ہو بھی رہا ہے، لیکن حکومت اور اردو بورڈ سے زیادہ بحیثیتِ پاکستانی یہ ہمارا اور آپ کا فرض ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو وہ ورثہ منتقل کریں جو غالب، میر، فیض اور فراز نے ہمارے لیے چھوڑا ہے۔

انہیں اس ترکے کی حفاظت کی ذمہ داری سونپیں جو ہمیں عصمت چغتائی، منٹو، منشی پریم چند، انتظار حسین اور مشتاق احمد یوسفی سے ملاِ ہے۔

ہر گھر میں، روزمرہ بول چال میں، اپنے ابلاغ میں اردو کو اتنی ترویج دیں کہ اردو کی ایک بار پھر بقول مرزا داغ دہلوی دھوم سارے جہاں میں ہو جائے۔