ہندوستان : 16 سالہ لڑکی کا والد اور بھائی پر ریپ کا الزام

12 اپريل 2015

ای میل

مغربی بنگال کی لڑکی نے پولیس کو بتایا ہے کہ والد، بھائی اور چچا اسے دو برس تک ریپ کا نشانہ بناتے رہے ہیں — رائٹرز فائل فوٹو
مغربی بنگال کی لڑکی نے پولیس کو بتایا ہے کہ والد، بھائی اور چچا اسے دو برس تک ریپ کا نشانہ بناتے رہے ہیں — رائٹرز فائل فوٹو

ہندوستان میں ایک سولہ سالہ لڑکی نے اپنے والد، بھائی اور چچا پر اسے دو سال تک ریپ کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

دو سال تک خاموش رہنے والی نوجوان لڑکی نے اس حوالے سے سب سے پہلے اپنی اسکول ٹیچر کو بتایا جس نے اس کی پولیس میں شکایت درج کروانے میں مدد کی۔

مغربی بنگال کے علاقے دھوپگری میں لڑکی نے پولیس کو درج کروائی گئی اپنی شکایت میں کہا ہے کہ اس عرصے کے دوران وہ حاملہ بھی ہوئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق پولیس نے شکایت پر تینوں مردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

مقامی پولیس کے ترجمان کے ایل شرپا کا کہنا ہے کہ 'متاثر لڑکی کا اس کے 50 سالہ کسان باپ نے متعدد مرتبہ ریپ کیا۔ لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے چچا نے بھی اس کا ریپ کیا جب کہ بعد ازاں اس فعل میں اس کا بھائی بھی شامل ہو گیا'۔

لڑکی کا کہنا ہے کہ اس نے اس عرصے کے دوران چار مرتبہ خودکشی کی بھی کوشش کی۔

متاثرہ لڑکی کے مطابق وہ ماضی میں اس بات کے بارے میں بتانے سے کافی خوفزدہ تھی جب کہ اس زیادتی کے بارے میں اس کی ماں کو بھی پتا تھا۔

پولیس کاکہنا ہے کہ لڑکی اس وقت اپنی ایک رشتہ کے پاس ہے۔

یاد رہے کہ خواتین پر مظالم کی تعداد کے لحاظ سے ہندوستان سرفہرست ہے جہاں سال 2013 میں خواتین پر مظالم کے تین لاکھ سے زائد کیس رپورٹ ہوئے۔

مغربی بنگال میں ہی گزشتہ برس دیہی عدالت نے کے حکم پر ایک 20 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر ایک دوسری براردری کے شخص کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں 13 افراد نے ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔