کراچی کا اوتار: اے کے ہنگل

15 اپريل 2015

ای میل

اے کے ہنگل فلم اوتار میں رشید میاں کے کردار میں۔ — rediff.com
اے کے ہنگل فلم اوتار میں رشید میاں کے کردار میں۔ — rediff.com

ہم آج کل اپنے دوستوں کی فرمائشوں کی زد میں ہیں۔ ڈان ڈاٹ کام پر بلاگ شائع ہوتے ہی دوستوں کے فون اور پیغامات آنے شروع ہوجاتے ہیں۔ اس موضوع پر لکھو، اس موضوع پر لکھو۔ کراچی کے حوالے سے فلاں شخصیت پر ہم نے نہیں لکھا، ان پر بھی لکھنا چاہیے تھا۔ یہ تمام تر پیغامات دیکھ کر مجھے خوشی بھی ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے صدمہ بھی ہے کہ ایک تو وسائل محدود ہیں، اور دوسرے ذرائع بھی۔ لیکن بہ قول حسرت کے:

ہے مشق سخن جاری اور چکی کی مشقت بھی

سینیئر صحافی اور انسانی حقوق کے فعال کارکن زمان خان نے لاہور سے فون کیا کہ ہمیں اے کے ہنگل پر لکھنا چاہیے اور انہوں نے یہ مہربانی فرمائی کہ ہنگل کا انٹرویو بھی ہمیں بھیج دیا۔ اے کے ہنگل ہندوستانی فلم انڈسٹری میں تین سو کے لگ بھگ فلموں میں کام کر چکے ہیں۔ ہنگل ایک راسخ العقیدہ کمیونسٹ تھے اور وہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور ہندوستان میں کمیونزم نافذ کرنا چاہتے تھے۔ اپنے خیالات پر پختہ رہنے کی وجہ سے انہیں کراچی میں دو سال قید بھگتنا پڑی، اور وہ حیدرآباد جیل میں بھی رہے۔

ہنگل کا پورا نام اوتار کشن ہنگل تھا۔ انہوں نے پاکستان چھوڑنے کے بعد انڈین فلموں میں بطور کریکٹر ایکٹر بہت نام کمایا۔ خاص طور پر 1975 کی مشہور ہندوستانی فلم شعلے میں ”رحیم چاچا“ کا کردار ان کی شناخت بن گیا۔

کراچی میں اگر کمیونسٹوں اور کمیونسٹ پارٹی کا ذکر کریں، تو اس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ان کمیونسٹوں میں زیب النساء عرف شانتا دیوی، سوبھو گیانچندانی، امام علی نازش، سجاد ظہیر اور اس طرح کے بے شمار لوگ شامل تھے۔ لیکن ایک اور دلچسپ کردار لیاری کے بخشی کامریڈ تھے۔ بخشی کامریڈ کا اوڑھنا بچھونا کمیونزم تھا۔

وہ کمیونزم سے جذباتی طور پر اس حد تک وابستہ تھے کہ کئی برس قبل کی بات ہے فٹبال ورلڈ کپ میں روس کا مقابلہ کسی اور ٹیم سے تھا اور روس وہ میچ ہارگیا۔ یہ مقابلہ لیاری میں ایک عمارت کی تیسری منزل پر بڑی اسکرین پر دیکھا جارہا تھا۔ جیسے ہی روس میچ ہارا، بخشی کامریڈ نے تیسری منزل سے چھلانگ لگادی اور نتیجے میں ہاتھ پیر تڑوا بیٹھے۔ اس وقت کے کامریڈ اتنے ہی سچے ہوتے تھے۔

خیر ہم ذکر کر رہے تھے کراچی کے اوتار کا۔ اوتار اپنے نظریات کی وجہ سے کراچی جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے کہ اچانک یہ حکم صادر ہوا کہ انہیں حیدرآباد جیل منتقل کیا جائے۔ جب انہیں حیدرآباد جیل منتقل کیا گیا تو اس جیل منتقلی کا احوال انہوں نے اپنے انٹرویو میں کچھ یوں بیان کیا:

'جب مجھے حیدرآباد جیل منتقل کیا گیا تو وہاں غنی خان بھی قید تھے۔ غنی خان غفار خان کے صاحبزادے اور ولی خان کے بھائی تھے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ میں کیوں پاکستان میں رہ رہا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تم ایک ہندو ہو اور تمہارا یہاں کیا مستقبل ہے۔ کچھ بھی نہیں۔ میں نے جواباً کہا کہ آپ ایک مسلمان ہیں اور جیل میں ہیں۔ آپ کا یہاں کیا مستقبل ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم پختونوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے، گو کہ گانگریس نے ہم سے دھوکا کیا۔'

اوتار نے سوبھو گیانچندانی کے ہمراہ ایک درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی تھی۔ ان کے چار وکیل تھے جن میں سے ایک نوجوان شیخ ایاز تھے۔

اے کے ہنگل کمیونسٹ تھے۔ اس کی وجہ ان کی کراچی میں موجودگی تھی جہاں وہ کمیونزم سے متاثرہوئے۔ کراچی میں اپنی رہائش کے دوران انہوں نے ایک درزی کی دکان پر ملازمت حاصل کی تھی اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ کپڑے کاٹنے میں بے انتہا مہارت رکھتے تھے۔

یہاں تک تو معاملہ ٹھیک تھا۔ دکان مالک سے ان کی بہت زیادہ دوستی تھی بلکہ اکثر خواتین گانے والیوں سے گانا سننے کے لیے وہ دونوں ایک ساتھ جایا کرتے تھے۔ لیکن اے کے ہنگل کمیونزم کے پیغام سے بہت زیادہ متاثر ہوچکے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ کمیونزم ہی وہ واحد طرز معیشت ہے جس میں تمام لوگوں کو اپنے حقوق حاصل ہوسکتے ہیں۔

چنانچہ انہوں نے کراچی میں ٹیلرنگ ورکرز یونین کی بنیاد رکھی۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا وہ مالک جو ان کا بہت اچھا دوست تھا وہ ان کے خلاف ہوگیا۔ اوتار نے ملازمین کے حقوق کی بحالی کے لیے مطالبات کی ایک فہرست بنائی اور مالک کو پیش کی۔ ان مطالبات میں بنیادی نقطہ یہ تھا کہ یونین بنائی جائے اور شاپ اینڈ اسٹیبلشمنٹ ایکٹ کی پاسداری کی جائے۔ لیکن اس کے جواب میں ہنگل اور دیگر ملازمین کو ان کے دوست نے برطرف کر دیا۔

1946 میں انہیں کمیونسٹ پارٹی کا سیکریٹری منتخب کیا گیا۔ جیل جانے کے بعد حکومت پاکستان اور انڈیا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر ایک معاہدہ ہوا۔ جب ان کی انڈیا منتقلی کے احکامات آئے تو انہوں نے جانے سے اِنکار کر دیا۔ اس کے بعد ان کی نظربندی کے احکامات میں مزید چھ ماہ کا اضافہ کر دیا گیا۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ آخرکار انہیں زبردستی ہندوستان بھیج دیا گیا۔

اوتار ایک آزاد خیال اور مذہبی ہم آہنگی کا پرچار کرنے والے انسان تھے۔ وہ پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار گاہے بہ گاہے کرتے رہتے تھے۔ انڈیا کے اِنتہا پسند مذہبی رہنما بال ٹھاکرے کو ان کی یہ ادا پسند نہ آئی۔ ٹائمز آف انڈیا کی ویب سائٹ پر 26 اگست 2012 کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق شیو سینا کے قائد بال ٹھاکرے نے اے کے ہنگل پر غداری کا الزام لگایا۔ ان کی فلموں کا بائیکاٹ کیا گیا۔ شیو سینا کی طرف سے ان کے پتلے جلائے گئے اور متعدد فلموں سے ان کے سین بھی خارج کردیے گئے۔

روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اوتار نے اس کا جواب یوں دیا۔ ”بال ٹھاکرے نے 6 دسمبر 1992 میں بمبئی میں ہونے والے بم دھماکوں اور ایودھیا کے واقعے کے بعد بیان دیا کہ میں اینٹی۔انڈین ہوں۔ میں نے اسے بتایا کہ میں اس وقت سے دیش بھکت ہوں جب آپ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ ہم آزادی کی جدوجہد کے لیے لڑے اور جیل گئے۔ ہم نے قربانیاں بھی دیں۔ ہمیں آپ سے دیش بھکتی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے روز رات کو قتل کیے جانے کی دھمکیاں ملتی رہیں لیکن میں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ آپ مہارا شٹر کا بڑا لیڈر ہونے کا دعوی کرتے ہیں جب کہ میں نے مہاراشٹرکے لیے قربانیاں دیں۔ میں جب بمبئی آیا تو میں نے مہاراشٹر موومنٹ میں حصہ لیا۔ اس میں میری بیوی بھی شامل تھی، اسے اس جیل بھیجا گیا جہاں پر خطرناک مجرموں کو رکھا جاتا تھا۔“

پاکستان کے معروف دانشور راحت سعید کی اوتار سے بہت زیادہ ملاقاتیں رہیں۔ ان کے مطابق ہنگل صاحب پاکستان اور خصوصاً سندھ سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ سال میں ایک بار پاکستان ضرور آئیں۔

میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ کو ان کی کوئی خاص بات یا عادت یاد ہے تو راحت صاحب نے بتایا کہ لوگ اکثر ان سے مطالبہ کرتے تھے کہ ”شعلے“ فلم کے وہ ڈائیلاگ ضرور سنائیں جب ان کے بیٹے کو قتل کردیا جاتا ہے، اور اس کی لاش رام گڑھ پہنچتی ہے تو ان کا پہلا جملہ یہ ہوتا ہے ”بسنتی او بسنتی اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی۔“ میں نے یہ بھی دیکھا کہ ایک دن میں دس سے پندرہ بار مختلف اوقات میں ان سے یہ فرمائش کی جاتی تھی مگر وہ بیزاری کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ اس ”سناٹے“ نے انھیں امر کردیا۔

یوں تو انہوں نے سینکڑوں فلموں میں کام کیا لیکن یہ جملہ ان کی شناخت بن گیا۔ اس موقع پر ہم اوتار کے ڈائیلاگ جوں کے توں بیان کرتے ہیں۔

بسنتی او بسنتی!

یہ اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟

کون ویرو؟ بیٹے یہ خاموشی کیوں ہے یہاں؟ ہاں!

کیا ہوا؟ یہ کیا ہوا تھا بیٹا۔ یہ کہاں لے جارہے ہو؟

احمد، احمد، احمد۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

کوئی یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا ہے بھائی۔ جانتے ہو دنیا کا سب سے بڑا بوجھ کیا ہوتا ہے؟

باپ کے کندھوں پر بیٹے کا جنازہ! اس سے بھاری بوجھ کوئی نہیں ہے۔ میں بوڑھا یہ بوجھ اٹھا سکتا ہوں اور تم ایک مصیبت (گبر سنگھ) کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے؟ بھائی میں تو ایک ہی بات جانتا ہوں۔ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے کہیں اچھی ہے۔ بیٹا میں نے کھویا ہے، میں پھر بھی یہ ہی چاہوں گا کہ یہ دونوں (جے اور ویرو) یہیں رہیں۔

یہ تھے وہ ڈائیلاگ جنہوں نے ہنگل صاحب کو لافانی کردیا۔ پاکستان سے انڈیا ہجرت کرنے والے روشن خیال ہندو دانشور انڈیا میں بھی انتہا پسندی کا شکار ہوئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اوتار پاکستان میں ہوتے تو شاید پاکستان کی فلم انڈسٹری اور تھیٹر کو عروج ملتا۔ ان کے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کو ہندوستان بھیج دیا گیا اور پھر اپنے وطن سے محبت کے جرم میں ان کے خلاف اشتعال انگیزی کی گئی اور انہوں نے اپنی آخری عمر بڑی کسمپرسی میں گزاری۔ میں تو جب بھی اپنے آس پاس ہونے والے واقعات پر لوگوں کی خاموشی دیکھتا ہوں، تو مجھے اے کے ہنگل کا یہی ڈائیلاگ یاد آتا ہے کہ:

بسنتی او بسنتی! یہ اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟