'میرے دوست' مسعود حامد کی یاد میں

20 اپريل 2015

ای میل

ڈان کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر مسعود حامد — فائل فوٹو
ڈان کے مارکیٹنگ ڈائریکٹر مسعود حامد — فائل فوٹو

جب ایک 30 سال پرانا دوست کراچی شہر کی تاریک راہوں میں آپ سے چھن جائے، تو کچھ کہنے کے لیے الفاظ باقی نہیں رہتے۔

آپ کیا کہہ سکتے ہیں جب آپ کا دوست اپنی زندگی کے عروج پر آپ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوجائے۔

آپ کیا کہہ سکتے ہیں جب وہ دوست مسعود حامد ہو۔

جو شخص بھی ان سے ملتا تھا، ان کی شفقت، مزاح، اور محبت کا معترف ہو جاتا تھا۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ، لطیفوں کا کبھی نہ ختم ہونے والا ذخیرہ، زندگی سے بھرپور ہنسی، یہی میرے دوست مسعود حامد تھے۔

جب ہم یونیورسٹی میں ہوا کرتے تھے، تو پرانی (اور بسا اوقات میلی) جینز ٹی شرٹ نہ صرف یہ کہ فیشن میں ہوا کرتی تھیں، بلکہ ہم صرف یہی پہننا افورڈ کر سکتے تھے۔ لیکن مسعود اس وقت بھی صاف ستھری سفید شرٹ اور گرے پینٹ پہنا کرتے تھے۔ ان کی شیو بھی ہمیشہ بنی ہوئی ہوتی تھی۔ اور جب بعد میں وہ بزنس معاملات کی بہترین سمجھ کے باعث ترقی کے زینے عبور کرتے گئے، تو ان کے عمدہ سلائی والے سوٹ دیکھ کر سب ہی جلن محسوس کرتے تھے۔

ہم لوگوں نے ساتھ میں اتنی خوشیاں دیکھی ہیں، کہ میں گن بھی نہیں سکتا۔ وہ ان دوستوں میں سے تھے، جن کا نام کسی بھی مشکل وقت میں سب سے پہلے یاد آتا ہے۔ ان کے پاس ایسا جادو تھا، کہ وہ پریشان سے پریشان شخص کو بھی یقین دلا دیتے تھے کہ اس کے مسائل کا حل چٹکیوں میں ہو سکتا ہے۔

ہم لوگوں نے کئی مشکل اور آسان وقت ساتھ گزارے ہیں، اور وہ ہمیشہ زندگی کے اس سفر پر فخر کرتے تھے۔ جب ہم آخری دفعہ ہارون ہاؤس (ڈان کا دفتر) کی پارکنگ میں ایک ساتھ پہنچے، اور ہم دونوں کے ڈرائیوروں نے ہمیں دیکھ کر گاڑیاں اسٹارٹ کیں، تو مسعود ہنس پڑے اور کہا:

"عباس، حسن اسکوائر کی وہ دوپہر یاد ہے؟"

میں وہ دوپہر کیسے بھول سکتا ہوں۔

ہم دونوں ہی یونیورسٹی کیمپس سے ایک دوست کے ساتھ آئے تھے، جو اور آگے نہیں جا رہا تھا، جبکہ ہم دونوں کو اپنے اپنے اپائنمنٹس کے سلسلے میں صدر میں ہونا تھا۔

کرکٹ اعداد و شمار کے ماہر مسعود حامد اپنے گرو، پیارے ایڈیٹر، اور کرکٹ پر لکھنے والے گل حامد بھٹی کے ساتھ اپنی میٹنگ کے لیے لیٹ نہیں ہوسکتے تھے۔ تو ہم دونوں نے ہی اپنے اپنے بٹوے کھولے، اور یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اس دن ہم بس کے بجائے رکشہ افورڈ کر سکتے تھے۔

مجھے اب بھی یقین نہیں آرہا کہ مسعود اب نہیں رہے۔ میں بغیر دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ جو بھی ان کے ساتھ تعلق میں رہا، چاہے وہ کیسا بھی تعلق ہو، ان کے یوں چلے جانے پر اداس ہوگا۔ ان کی دوستی ویسی ہی دوستی تھی جس پر 'یاروں کا یار' محاورہ بالکل صادق آتا ہے۔

ایک اچھے دوست کے علاوہ مسعود اپنی فیلڈ کے ماہر پروفیشنل بھی تھے۔ 1990 میں ہیرالڈ کے اسٹاف رپورٹر حسن جعفری، جو اب سنگاپور میں رہتے ہیں، کے فیس بک پیج سے ان کی تحریر ان کی اجازت سے یہاں نقل کر رہا ہوں:

"مسعود حامد پاکستان کے بہترین میڈیا مارکیٹنگ پروفیشنلز میں سے تھے۔ ایک ایسا بزنس جہاں ادارتی اور کمرشل مفادات اکثر ٹکراؤ کا شکار رہتے ہیں، وہاں مسعود اس تنی ہوئی رسی پر چلنے کے ماہر تھے۔

"مسعود ایک پرامید اور مثبت شخص، اور سیلز کے ایسے پروفیشنل تھے، جو ناامید، دوسروں پر شک کرنے والے، مسائل کھڑے کرنے والے، بے ہنگم، خود کی تشہیر کرنے والوں، اور خود پسند لوگوں سے بھری ہوئی کمپنی میں بھی آرام سے کام کر لیتے تھے۔ ہمارے پاس ہر طرح کے مسائل تھے، اور مسعود تمام مسائل سے نمٹ سکتے تھے۔

"ایک پروفیشنل کے طور پر نہ صرف یہ کہ وہ خبروں کی مارکیٹنگ میں لطف لیتے تھے، بلکہ انہیں خبر بنانے کے مراحل میں بھی اتنا ہی مزہ آتا تھا۔

"ڈان جو کہ پاکستان ہیرالڈ پبلیکشنز پرائیوٹ لمیٹڈ کا روزنامہ ہے، کافی نپا تلا اور سنجیدہ ہے، اور یہ تقریباً 7 دہائیوں سے ایسا ہی ہے۔ حالاتِ حاضرہ کا میگزین ہیرالڈ گھر کے خود سر بچوں کی طرح تھا، جو کبھی کسی کو خوش کرنے کے لیے کچھ شائع نہیں کیا کرتا تھا۔

"کبھی کبھی مسعود نیوز روم میں آتے، اور اپنے مخصوص دوستانہ انداز اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے: 'یہ خبر جو تم لوگ لگانے جا رہے ہو، بہت خطرناک ہے یار۔ لیکن تم لوگ فکر نہ کرو۔ تم لوگ اپنا کام کرو، اور ہم اپنا کام کریں گے۔'

"کبھی کبھی وہ نیوزروم میں آتے اور کہتے: 'یار… مروا دیا۔ آخر فلاں شخص کے بارے میں خبر لگانے کی کیا ضرورت تھی؟' اور پھر وہ اشاعت کے بعد ہونے والے مارکیٹنگ نقصانات کو کنٹرول کیا کرتے تھے۔"

میں اس سے زیادہ تو کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن ایک ایسے دور میں جب دوسرے اخبارات کے مارکیٹنگ باسز اپنے صفحہ اول کو بھاری قیمت ملنے پر اشتہارات سے بھرنے میں عار محسوس نہیں کرتے، تب بھی میرے بحیثیتِ ایڈیٹر ڈان 4 سالوں میں کبھی مسعود نے فون کر کے مجھے اس طرح کے اشتہارات کے لیے جگہ بنانے کی درخواست نہیں کی۔

بسا اوقات کولیگ انہیں اس طرح کی درخواستیں بھیجا کرتے تھے تاکہ ان پر ایڈیٹر سے منظوری لی جا سکے۔ اور ان درخواستوں پر ایڈیٹر جو بھی فیصلہ لیا کرتا تھا، مسعود اس پر کبھی بھی شکایت نہیں کرتے تھے۔

ان کی منتخب کردہ ٹیم نے ملک کی بہترین مارکیٹنگ ٹیم کا روپ لیا، جو ان کی اپروچ، اخلاقیات، اور رویے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈان کی ویب سائٹ ڈان ڈاٹ کام کے پروجیکٹ پر مسعود کا جوش دیکھنے لائق تھا، کیونکہ وہ آن لائن میڈیا کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔

لیکن ڈان میں اپنے وقت کے دوران مجھے صرف ایک بات پر ان سے اختلاف رہا۔ 'مسعود، یہ "سر" کیا ہوتا ہے، مجھے بہت شرمندگی ہوتی ہے۔"

اور وہ کہتے: 'تم ایڈیٹر ہو۔ اور میں ہماری دوستی کی وجہ سے زیادہ آزادی نہیں چاہتا۔' ان کے اس حتمی جواب کے بعد میں ان سے مزید بحث نہیں کر سکا۔

اب بس افسوس اور گزرے ہوئے وقت کی یادیں باقی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میں پہلی بار مسعود کی اہلیہ سے کلفٹن برج کے پاس ان کے فلیٹ پر ملا تھا۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جب میں بی بی سی لندن چھوڑ کر کراچی آیا تھا تاکہ ڈان جوائن کر سکوں، تو افشاں اور مسعود نے ہی میری فیملی کے کراچی آنے پر ہمارا فریج طرح طرح کے کھانوں سے بھر دیا تھا۔

میں وہ تمام سپورٹ، جو مسعود، ان کی اہلیہ، اور ان کی ٹیم نے مجھے اور میری فیملی کو ذاتی سطح پر دی، کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔ میری اہلیہ نے بی بی سی میں اپنی جاب چھوڑی تھی، تاکہ پاکستان آ سکے۔ وہ مسعود کو ایک مسیحا کے طور پر یاد رکھتی ہیں۔ میں جب بھی کام پر ہوا کرتا تھا، اور میری بچیوں میں سے کسی کی طبیعت خراب ہوتی تھی، تو وہ مسعود کو فون کرتیں، اور پھر مسعود تمام انتظامات کو یقینی بناتے۔

مجھے یاد ہے کہ کس طرح مسعود اور ڈان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حمید ہارون بغیر بتائے بی بی سی میں میرے آفس آئے، اور میرے ساتھ طویل بحث کی کہ میں ڈان جوائن کروں کیونکہ یہ ملک اور میڈیا کی تاریخ میں ایک اہم وقت ہے۔

اور جب میں نے ڈان کے بعد کام ڈھونڈنے کی کوشش کی، تو مسعود ہی میرے واحد دوست تھے جو ہمیشہ رابطے میں رہتے، مجھے ای میل اور فون کرتے، "میرے دوست!" کہتے، اور مجھے ہمت دلاتے۔

میں افشاں، طوبیٰ، اور اسد کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔ میں ڈان فیملی کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔

انگلش میں پڑھیں۔