'مجھ سے میرا سی ویو مت چھینو'

اپ ڈیٹ 24 جون 2015

ای میل

فوٹو بشکریہ — علی خورشید
فوٹو بشکریہ — علی خورشید

صبح کا آغاز ساحل کی سیپیوں کی چمک سے ہوتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ریت سے مس ہوتے ہوئے گزرتے ہیں۔ مسافر پرندے لمبے سفر پر جانے سے پہلے پانی میں آخری غوطہ کھاتے ہیں۔ سیکنڈ کے اربویں حصے کے لیے سورج کی روشنی سمندر کی سطح سے ٹکرا کر قوسِ قزح کا نظارہ دیتی ہے۔ سی ویو روڈ، جسے کلفٹن بیچ بھی کہتے ہیں، پر دن کا آغاز ہوچکا ہے۔

یہ منظر کسی گذشتہ زمانے کا رومانوی منظر نہیں، بلکہ گذشتہ سردیوں کی ایک ٹھنڈی صبح کا آنکھوں دیکھا حال ہے۔ بدبو دار سیاہ پانی اور کچرے سے بھرا ساحل اب بھی ان لوگوں کے لیے راحت کا سبب، سکون کا سانس، اور ایک بہترین تحفہ ہے جو جنگل نما اس شہر کے باسی ہیں اور اپنے روزانہ کے کاموں سے تھوڑی فراغت چاہتے ہیں۔

چند میلوں پر محیط یہ جگہ اب بھی کراچی کی ایک بڑی آبادی، یا اکثریت کے لیے بہترین تفریحی مقام ہے۔ یہ جگہ محفوظ بھی ہے، پہنچ میں بھی ہے، اور جیب پر بھاری بھی نہیں پڑتی۔

تصاویر: خوبصورت کراچی کی شاندار تصویریں

امیر لوگ کہیں بھی جا سکتے ہیں۔ اگر آپ بہت امیر ہیں یا پراڈو میں گھومنے والوں میں شمار ہوتے ہیں تو پکنک کے لیے آپ چاہیں تو ہاکس بے جائیں، یا مزید مغرب کا رخ کرتے ہوئے گوادر تک چلے جائیں۔ دبئی ہی کیوں نہیں چل دیا جائے؟ جان اور مال، دونوں کی حفاظت کے لیے دبئی اس پسماندہ شہر سے کہیں بہتر ہے۔

لیکن میرے حجام اقبال حسین جیسے لوگوں کے لیے اپنے اہل خانہ یا گھر والوں کے چہروں پر خوشی اور مسکراہٹ لانے کے لیے ایک ہی آپشن ہوتا ہے کہ وہ ان سب کو سیر کے لیے سی ویو لے جائے۔

فوٹو بشکریہ — علی خورشید
فوٹو بشکریہ — علی خورشید

یہاں آکر اس جگہ کی فراخدلی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ہم، ہمارے جانور، اور ہماری صنعتیں جو بھی فضلہ دن رات اگلتے ہیں، وہ سب آپ کو یہاں ملے گا۔ اگر آپ کا کبھی صبح سویرے یہاں آنا ہو، اور لہریں دھیمی ہوں، تو ماحول کو آلودہ کرنے والی ہر نقصاندہ چیز آپ کو یہاں بڑی مقدار میں نظر آئے گی، جس کے ساتھ ساتھ مری ہوئی مچھلیاں اور دیگر مرتی ہوئی آبی حیات شامل ہیں۔

یہاں ان نچلے درجے کے انسانوں کا بھی ذکر کرنا چاہیے جو کچرے میں سے اپنی غذا تلاش کرتے ہیں۔ رات بھر کے بھوکے کتے بلیاں بھی اسی کچرے کے ڈھیر سے کھانا ڈھونڈتے ہیں اور سب ساتھ ہی ناشتہ کرتے ہیں۔ یہ اس سمندر کی فراخدلی کہیں یا کیا، کہ یہ جن جن کو جس بھی صورت میں کھلا سکتا ہے، کھلاتا ہے۔

یہاں مچھیرے بھی دیکھے جاسکتے ہیں جن کے گانے اور کہانیاں اس سرزمین کی ثقافت اور لوک شاعرانہ روایت کی بنیاد ہیں۔ میں نے یہاں دھوپ سے جلے چہروں، غذائی قلت سے کمزور بچوں، پسینے میں ڈوبے ماتھوں کو دیکھا۔ ان لوگوں کے ریت پر پھیلے ہوئے جال بھی دیکھے جن میں یہ لوگ مچھلیاں پھانستے ہیں، جو شاید رات کے کھانے کے لیے بمشکل ہی کافی ہوں گی۔

فوٹو بشکریہ — وقار احمد
فوٹو بشکریہ — وقار احمد

اس ہی سڑک پر دو میل جنوب کی طرف کروڑوں ڈالر سے ایک عالیشان اور پر آسائش رہائشی علاقہ وجود میں آ رہا ہے، جس کے مکینوں کا علیحدہ اور ذاتی ساحل ہوگا۔

چند میٹر دور انتظامی اور انجینیئرنگ مہارت کا قبرستان موجود ہے۔ ایک ایسا پراجیکٹ جس نے ایک دہائی پہلے علاقے کے لاکھوں لوگوں کو صاف پانی پہنچانا تھا۔ یہ اب بھی فعال نہیں ہے، اور جو لوگ اس سے مستفید ہوسکتے تھے، وہ سمندر کنارے آباد شہر کے باقی کروڑوں لوگوں کی طرح ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر ہیں۔

اب بات کھانے پینے کی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ بک اسٹورز کے بیکریوں اور ریسٹورنٹس میں تبدیلی کے مخالف ہوں گے، لیکن یہاں ہمارے جیسے کھانے کے شوقین لوگوں کی تواضع کرنے کے لیے بہت سے لوگوں نے اپنا کاروبار جما رکھا ہوا ہے۔ ان میں سے کچھ آپ کو کھانے کا ایسا بل دیتے ہیں جو کہ شاید میرے حجام اقبال حسین کی مہینے بھر کی آمدنی سے بھی زیادہ ہوں گے۔

چلیں واپس ساحل کے اس پُرہجوم مقام پر پہنچتے ہیں، یہاں میں ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگوں کو پسمنظر میں کے پی ٹی کی عمارتوں اور ڈوبتے سورج کے سامنے تفریح کرتے ہوئے دیکھ سکتا ہوں۔

فوٹو بشکریہ — علی خورشید
فوٹو بشکریہ — علی خورشید

اگر کوئی اس بدبودار علاقے میں اونٹوں کے فضلوں اور سائلنسر جیسے تکلف سے آزاد چار پہیوں والی شیرشاہ ساختہ موٹرسائیکلوں کے شور اور دھوئیں میں پکنک کرنا چاہے تو یہ بلاشبہ ایک یادگار شام ہوگی، ان لوگوں کے لیے تو اور بھی زیادہ جو یہاں کھلی سوزوکیوں، چنگچیوں، یا زنگ آلود موٹرسائیکلوں میں آتے ہیں۔

یہ ان کا وینس ہے، ان کا برائٹن، ان کا بینکاک اور ان کے لیے اگر یہاں کی ریت سفید نہیں، اور پانی شفاف نیلا نہیں، تو یہ شام کے گہرے سایوں کا نتیجہ ہے یا موسموں کی بدلتے رت کا کمال ہے۔

چائے خانوں کی تعداد بے شمار ہے، جو آپ کو دودھ پتی تو پیش کریں گے لیکن اس کے اوپر ریت کی ایک باریک تہہ ہوسکتی ہے۔ اس آلودہ ساحل پر ملنے والے بھٹے بے ذائقہ ہوسکتے ہیں، مگر ایک بات یقینی ہے کہ لاکھوں لیٹر کولڈ ڈرنکس، لاتعداد گمنام برانڈز کے جوس، اور پانی کی کھلی بوتلیں بھی یہاں آپ کے لیے ہمیشہ دستیاب ہوتی ہیں۔ اورخدا کا شکر ہے کہ پولیس بھی جوڑوں کو نکاح نامے کی تصدیق شدہ نقل کے بغیر آنے کی اجازت دیتی ہے۔

عید پر تو یہ جگہ بہت مصروف ہوجاتی ہے۔ اگر ہزاروں نہیں، تو سینکڑوں لوگ خوشیاں منانے کے لیے اپنے خاندانوں کے ساتھ یہاں جمع ہوجاتے ہیں، کیونکہ اس شہرمیں حقیقی تفریح گاہوں کی شدید کمی ہے۔

مٹھی بھر پارک، عجائب گھر، اور دیگر تاریخی مقامات ڈھائی کروڑ کی آبادی کے لیے کس طرح کافی ہو سکتے ہیں؟ لگتا ہے کہ یہ سوچنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ ہر کوئی اس شہر کو بس چلائے رکھنا چاہتا ہے، وہ بھی کم از کم معیار پر۔

ساحل پر ایک بار آ کر یہ لوگ نا شکرے اور غیر ذمہ دار ہو جاتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے پریشانیاں کھڑی کرتے ہیں جنہوں نے بالآخر روشنیوں کے اس شہر میں ہونے والی ہر بات کی ذمہ داری لینی ہوتی ہے۔ یہ لوگ کسی حفاظتی اقدام کو خاطر میں نہیں لاتے، اور اکثر تھوڑے سے مزے کے لیے جان دے دیتے ہیں۔

تصاویر: سانحہ سی ویو

گذشتہ سال عید کی تعطیلات کے موقع پر لگ بھگ دو درجن جانوں کا ضیاع ہوا۔ حکام نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ساحل کو دو ماہ تک کے لیے بند کردیا، جس دوران موسمِ گرما گزر گیا۔ واہ کیا زبردست حل ہے اور جب اسے دوبارہ کھولا گیا تو انتظامات میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ نہ کوئی نئی سہولیات، نہ کوئی حفاظتی اقدامات۔

فوٹو بشکریہ — وقار احمد
فوٹو بشکریہ — وقار احمد

ان ہفتوں کے دوران کوئی خوردبین سے بھی تلاش نہیں کرسکتا کہ 70 ارب کے صوبے کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں کچھ لاکھ روپے ہی ان ساحلوں پر کنکریٹ بینچز لگانے، نئی راہگزر کی تعمیر، حفاظتی ریلنگز، یا کچھ چند نئے کچرہ دانوں پر ہی خرچ کیے گئے ہوں۔

تاہم پانی، ٹھنڈی ہوا، سیپیوں، قوسِ قزح اورخاکستری نارنجی شاموں کے لیے فطرت کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

عید اب کچھ ہفتے دور رہ گئی ہے، اور یہ مون سون کا بھی موسم ہے مگر گذشتہ ایک سال کے دوران شہر میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔

پڑھیے: مسئلے کا سادہ حل؟ پابندی

اور انتظامیہ نے نئی تدابیر کے بجائے ایک بار پھر سمندر بند کر دیا ہے۔ بجائے اس کے کہ اسے اتنا محفوظ بنایا جاتا کہ لوگ ڈوبے بغیر گہرے پانیوں میں جاسکتے، حکومت نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے وہ پابندیاں لگانا ہی زیادہ بہتر سمجھتی ہے۔

وہ اس عید پر بچوں کو کہاں لے جائے گا، میں نہیں جانتا۔ مگر مجھے امید ہے کہ اقبال حسین اور اس کے خاندان کے لیے یہ ایک محفوظ موسم گرما اور عید کی تعطیلات پرلطف ثابت ہوں۔

فوٹو بشکریہ — علی خورشید
فوٹو بشکریہ — علی خورشید