تحریکِ انصاف اور ن لیگ کی جنگ کیوں؟

08 جولائ 2015

ای میل

دونوں جماعتوں کے چاہنے والے اپنی جماعت کے حوالے سے اندھی شخصیت پرستی کا شکار ہیں۔ — فائل فوٹو
دونوں جماعتوں کے چاہنے والے اپنی جماعت کے حوالے سے اندھی شخصیت پرستی کا شکار ہیں۔ — فائل فوٹو

ترک امریکی ماہرِ سماجی نفسیات مظفر شریف کو سماجی نفسیات کے مطالعے کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے منفرد تجربات نے ماہرینِ نفسیات کو سماجی گروہوں کے درمیان تنازعات، اور ان کے پیچھے کارفرما نفسیاتی عوامل کو سمجھنے میں مدد دی ہے۔

جو قارئین عمرانیات یا سماجی نفسیات میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ مظفر شریف کے Robbers Cave Experiments سے واقف ہوں گے جس کا مقصد دو گروہوں کے بیچ وسائل کے حصول کی خاطر تنازعات، منفی جذبات، اور ایک دوسرے کو غلط ناموں سے پکارنے کے رجحانات کا مطالعہ کرنا تھا۔

اس تجربے کے پہلے مرحلے میں متوسط طبقے اور یکساں ماحول سے تعلق رکھنے والے 22، 12 سالہ بچوں کا انتخاب کیا گیا اور انہیں 2 گروپس میں تقسیم کر کے بوائے اسکاؤٹس آف امریکا کے کیمپ لے جایا گیا۔ 5 سے 6 دن تک کیمپ میں ان دونوں گروپس کو ایک دوسرے سے بالکل الگ رکھا گیا اور گروپ ممبران میں مختلف مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے بتدریج باہمی وابستگی اور تعاون پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی۔ کچھ وقت کے بعد دیکھا گیا کہ دونوں گروپ ممبران نے اپنے گروپ کے لیے ایک نام مخصوص کر لیا اور مشترکہ سرگرمیوں میں دلچسپی لینے لگے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے گروپ کے لیے مخصوص اصطلاحات بھی اپنا لیں۔

تجربے کے اگلے مرحلے میں دونوں گروپس کے درمیان مقابلوں کا انعقاد کیا گیا اور جیتنے والے گروپ کے لیے انعامات کا اعلان کیا گیا جبکہ ہارنے والے گروپ کو خالی ہاتھ گھر جانا پڑتا۔ یہ مرحلہ 4 سے 6 دن پر محیط تھا۔ اس عرصے میں دونوں گروپس کے درمیان واضح تناؤ دیکھنے میں آیا۔ دونوں نے اپنے علاقے متعین کر لیے، اور نشان کے طور پر جھنڈے تیار کرلیے۔ دونوں ہی گروپس مقابلوں کے دوران ایک دوسرے پر "دھاندلی" کا الزام لگاتے، اور مزے کی بات ایک دوسرے کی جاسوسی کی بھی کوشش کرتے، ایک دوسرے کو مختلف ناموں سے پکارتے، اور ایسی حرکات کرتے جن سے دوسرا گروپ اپنی ہتک محسوس کرتا۔

مظفر شریف کا یہ تجربہ کسی مخصوص قومیت/فرقے یا گروپ کے متعلق نہیں تھا بلکہ معاشرے میں جہاں کہیں بھی مشترکہ مفادات، ترجیحات، یا نظریات کی بنیاد پر گروہ بنائے جاتے ہیں، ان سب پر اس تجربے سے حاصل کردہ مشاہدات کا اطلاق ہوتا ہے۔ ایسے گروہوں کے ممبران اپنے گروہ کے نہ صرف وفادار ہوتے ہیں، بلکہ اپنے بارے میں ایک مخصوص خود پسندی میں مبتلا رہتے ہیں جبکہ اپنے مقابل گروپ سے متعلق منفی رائے رکھتے ہیں (شاید یہ گروپ سے وفاداری کا تقاضا ہوتا ہے کہ جانتے بوجھتے بھی اپنے گروپ کی خامیوں اور کوتاہیوں کو درگزر کردیا جاتا ہے)۔ جب ایک ہی ترجیحات اور مفادات پر مبنی ایسے دو گروپس کا آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے تو گمبھیر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

پاکستانی سیاسی میدان پر ایک نظر ڈالیں تو آزادی سے آج تک ملکی سیاست ایسے ہی گروہوں کا اکھاڑا رہی ہے۔ اسی اکھاڑے میں آج کل دو جماعتیں خاصی سرگرم نظر آتی ہیں: ایک حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن، اور دوسری حکمران جماعت بننے کا سپنا دیکھنے والی پاکستان تحریک انصاف۔

دونوں جماعتوں کے چاہنے والے اپنی جماعت کے حوالے سے اندھی شخصیت پرستی کا شکار ہیں اور اپنے لیڈروں کی ہر جائز و ناجائز بات کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں، حتیٰ کہ اس کوشش میں مبالغہ آمیزی اور جھوٹ سے بھی باز نہیں آتے۔ باقی رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی ہے، جہاں پچھلے کئی ماہ سے ان دونوں گروپس کی سوشل میڈیا ٹیمیں کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف رہتی ہیں۔

ذرا غور کریں تو آپ کو Robbers Cave Experiment اور دونوں جماعتوں کے اطوار میں واضح مماثلت نظر آئے گی۔ اپنے لیڈران کی دیکھا دیکھی ان جماعتوں کے کارکنان ہمہ وقت سوشل میڈیا پر سینگ سے سینگ بھڑائے باہم دست و گریباں رہتے ہیں۔ دونوں ہی جماعتیں خود کو سچائی، ایمانداری، انصاف، اور ترقی (منہ زبانی ہی سہی) کا علمبردار سمجھتی ہیں اور عوامی حمایت رکھنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ایک جماعت خود کو ٹائیگر کہلانا پسند کرتی ہے تو دوسری خود کو شیر کہلاتی ہے۔ دونوں ہی جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے کو یوتھیا، پٹواری، تحریکی، نونی، جیسے نہایت دلچسپ اور مضحکہ خیز ناموں سے پکارتے ہیں۔

دونوں جماعتوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی انہیں سوشل میڈیا پر تو لے آئی لیکن اسے ایک صحتمند اور پر دلیل بحث مباحثے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہ کرسکی۔ ایک دوسرے کے عناد میں دونوں جماعتوں کی سوشل میڈیا ٹیمیں اس حد تک آگے بڑھ گئی ہے کہ بہتان تراشی اور کردار کشی سے بھی باز نہیں آتیں؛ دونوں فریقین ایک دوسرے کے لیڈروں اور ان کی ذاتی زندگی پر کیچڑ اچھالتے ہیں؛ طرح طرح کی تصویریں فوٹو شاپ کر کے انٹرنیٹ پر اپلوڈ کی جاتی ہیں، ٹوئیٹر پر عجیب و غریب ٹرینڈ چلائے جاتے ہیں؛ اور خاص کر پارٹی کی خواتین کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ وہ چیزیں ہیں جن کا پارٹی نظریات سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا، بلکہ محض مخالف جماعت کے حمایتیوں کو زچ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا غلطی سے تنقید کر بیٹھے تو گالم گلوچ کا وہ سلسلہ شروع ہوجاتا ہے کہ توبہ ہی بھلی۔ جعلی اکاؤنٹس کے پیچھے چھپی یہ سوشل میڈیا ٹیمیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ باقاعدہ ان جماعتوں کے تنخواہ دار ملازم ہیں، نوجوانوں پر مشتمل ہیں، اور ایسی زبان استعمال کرتی ہیں جو شاید بدنام ترین بازاروں میں بھی استعمال نہی کی جاتی ہوگی۔ ان کا انداز گفتگو اور خیالات پڑھ کر ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا یہ لوگ اپنے گھروں میں بھی ایسی ہی زبان استعمال کرتے ہوں گے اور کیا یہ اپنے خاندان کی خواتین کے لیے ایسے ہی خیالات رکھتے ہوں گے؟ ایسے لوگ کسی طرح بھی ایک مہذب معاشرے کے فرد محسوس نہیں ہوتے۔

کچھ روز پہلے اسی حوالے سے ایک دلچسپ ٹوئیٹ پڑھنے کو ملی، افسوس کہ اسے محفوظ کرنے کا موقع نہ ملا، ٹوئیٹ کے الفاظ کچھ یوں تھے: "الیکشن 2013 کے نتیجے میں دو قومیں، مسلم لیگ۔ن اور پاکستان تحریک انصاف وجود میں آئیں اور دونوں نے ہی خواتین کے ادب اور احترام میں کوئی کسر نہ چھوڑی"۔ یہ ٹوئیٹ اس ناگوار رجحان کی عکاس ہے جو آج کل سوشل میڈیا پر زور و شور سے جاری ہے۔ اس موقع پر پارٹی نمائندوں کو بھی داد دینی چاہیے جنہوں نے نوجوان نسل کو ایسے کام پر لگا دیا ہے جس میں نہ ان کی کوئی سیاسی نشونما ہو رہی ہے اور نہ ہی کردار کی تشکیل۔ محض وقت کا زیاں اور اخلاقی پسماندگی کا مظاہرہ۔

بہرحال واپس آتے ہیں Robbers Cave Experiments کی طرف، جس کے اگلے مراحل پر دونوں گروہوں کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ابتداء میں تو کوئی کامیابی نہ ہوئی، بالآخر اس کے سوا کوئی اور چارہ نہ بچا کہ دونوں گروپس کو کسی ایسی مشکل میں الجھا دیا جائے جس کا حل سوائے مشترکہ تعاون کے کسی طرح نہیں نکل سکے۔ مزے کی بات اس ترکیب کے خاطر خواہ نتائج بھی برآمد ہوئے۔ لیکن کیا ان دونوں جماعتوں سے ہم اس بات کی توقع کرسکتے ہیں کہ کسی بڑے قومی مسئلے پر ملکی مفاد کی خاطر یہ دونوں یکجا ہوجائیں گی؟