ہندوستان:100 دلت خاندانوں کا قبول اسلام

09 اگست 2015

ای میل

دلت ذات کےافراد کے مطابق اب کو اونچی ذات کے ہندوؤں نے ظلم کا نشانہ بنایا۔۔۔ فوٹو: بشکریہ انڈیا ٹومورو
دلت ذات کےافراد کے مطابق اب کو اونچی ذات کے ہندوؤں نے ظلم کا نشانہ بنایا۔۔۔ فوٹو: بشکریہ انڈیا ٹومورو

نئی دہلی: ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں اعلیٰ ذات کے ہندووں کے خلاف 2 سال سے احتجاج کرنے والے نچلی ذات کے ہندوؤں نے اسلام قبول کر لیا۔

ہندوستان کے علاقے ہسار کے بگانا گاؤں سے تعلق رکھنے والے ان خاندانوں کا تعلق دلت ذات سے بتایا گیا تھا۔

ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں خاندانوں کی تعداد 100 بتائی ہے۔

دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق دلت خاندانوں کے اس اعلان کے بعد ہندوستان کی انتہاء پسند تنظیم وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ مذہب کی یہ تبدیلی دلت خاندانوں کا استحصال ہے

وی ایچ پی کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے اس کو روکنے کے لیے ’وقت پر مداخلت‘ کی کوشش بھی کی گئی۔

دلت تنظیم کے کنونیئر جنگدیش کاجلا کا کہنا ہے کہ ’ہم ہندو مذہب ترک کررہے ہیں اور اب انتظار کرکے تھک چکے ہیں۔

جنگدیش کاجلہ کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ اور پولیس سے مل چکے ہیں جس کے جواب میں انہیں صرف وعدوں کے سوا کچھ نہیں ملا، کسی فرد نے کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایسی کمیونٹی میں رہنے کا جواز کیا ہوتا ہے جب کوئی اس وقت ہمارے پاس نہیں آتا جب اس کی ضرورت ہو۔

انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ جانوروں کی طرح برتاؤ کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب وی ایچ پی دہلی کے ترجمان وینود بانسال کا کہنا تھا کہ ’متاثرہ لوگوں کو زبردستی اسلام قبول کرنے کی اطلاعات پر ہمارے کچھ کارکن جنتر منتر گئے تھے، اور یہ انتہائی حیران کن ہے کہ یہ سب پارلیمنٹ کے قریب ہوا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جس وقت کارکن وہاں پہنچے اور پولیس سے رابطہ کیا تو انہیں پکڑ لیا گیا اور بعد ازاں مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا اور ہم مذہب کی تبدیلی کو روکنے میں مداخلت نہ کرسکے۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا تھا کہ فروری 2012ء میں جاٹ برادری کے سربراہ نے اس زمین پر دعویٰ کیا جو کہ دلت خاندانوں کے زیر استعمال تھی۔

مئی میں دلت خاندانوں کی جانب سے ہسار کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا گیا جس کے جواب میں اونچی ذات والوں نے پنچائیت طلب کی اور دلت کا مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کیا گیا۔

23 مارچ کو مبینہ طور پر چار دلت لڑکیوں کو اٹھایا گیا اور گاؤں میں ریپ کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد 80 دلت خاندان دارالحکومت آگئے۔