قومی ترانہ: دھن، شاعری اور تنازعات

اپ ڈیٹ 13 اگست 2015

ای میل

دائیں: قومی ترانے کی دھن کے خالق احمد غلام علی چھاگلہ۔ بائیں: قومی ترانے کے شاعر حفیظ جالندھری
دائیں: قومی ترانے کی دھن کے خالق احمد غلام علی چھاگلہ۔ بائیں: قومی ترانے کے شاعر حفیظ جالندھری

قیامِ پاکستان کے بعد 7 برس تک پاکستان کا کوئی قومی ترانہ نہ تھا۔ بس ترانے تھے جو مختلف سرکاری تقریبات پر گائے جاتے تھے۔ پاکستانی قیادت کو آئین بنانے میں جتنی دشواریوں کا سامنا تھا، اتنا ہی قومی ترانہ بنانے میں۔ اس کی ایک وجہ غالباً یہ رہی ہوگی کہ ترانہ کس زبان میں لکھا جائے، کیونکہ پاکستان کے اکثریتی علاقے مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان بولی جاتی تھی، جبکہ مغربی پاکستان میں 4 زبانیں یعنی سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو بولی جاتی تھیں، جبکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کی زبانوں سے ہٹ کر اردو کو قائدِ اعظم محمد علی جناح صاحب کی جانب سے قومی زبان کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس بات پر مشرقی پاکستان میں بسنے والے بنگالی خاصے معترض تھے۔

عقیل عباس جعفری اپنی کتاب ”پاکستان کا قومی ترانہ: کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ؟“ میں لکھتے ہیں کہ:

”4 اگست 1954 کو کابینہ کا ایک اور اجلاس منعقد ہوا جس میں حفیظ جالندھری کے لکھے گئے ترانے کو بغیر کسی ردو بدل کے منظور کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس اجلاس میں کابینہ نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ اس ترانے کی موجودگی میں اردو اور بنگالی کے دو قومی نغمات کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔“

پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کے خالق کا انتقال 5 فروری 1953 کو ہوا، جبکہ قومی ترانے کی دھن اور ترانے کی منظوری 4 اگست 1954 کو ہوئی۔ انہیں اپنی زندگی میں یہ دن دیکھنے کا موقع نہ ملا۔ ان کی اس خدمت کا اعتراف بھی ایک بڑے عرصے بعد کیا گیا۔ جمیل زبیری اپنی کتاب ”یاد خزانہ ریڈیو پاکستان میں 25 سال“ کے صفحہ نمبر 21 پر قومی ترانہ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ:

”پاکستان کے قومی ترانے کی دھن محمد علی چھاگلہ (کتاب میں شاید پروف کی غلطی کی وجہ سے احمد غلام علی کی جگہ محمد علی لکھ دیا گیا ہے لہٰذا ہم نے من و عن لکھ دیا ہے) نے بنائی۔ اس کے بعد اس دھن پر ترانے لکھنے کے لیے ملک کے تمام شعراء کو مدعو کیا گیا اور سب سے بہتر ترانے کا فیصلہ کرنے کے لیے حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔

"جب چھاگلہ کی بنائی ہوئی دھن ریڈیو پاکستان میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے سنی تو انہوں نے سب سے پہلے نہال عبداللہ کمپوزر وغیرہ کو بٹھا کر اس دھن کو موسیقی کی زبان میں ”بانٹا“ اور پھر اس پر سب سے پہلے ترانے کے بول لکھے۔ اسی دوران میں حفیظ جالندھری اور دیگر شعراء کے لکھے ہوئے ترانے موصول ہوگئے۔ سارے ترانے کمیٹی کے سامنے رکھے گئے اور کمیٹی نے حفیظ جالندھری کے ترانے کو منظور کر لیا۔

"کہتے ہیں کہ بخاری اس پر کافی ناراض ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے انہوں نے ترانہ لکھا۔ بہر حال کمیٹی کا فیصلہ حتمی تھا۔ اس کے بعد ریڈیو پاکستان کے انگریزی پروگراموں کی سپروائیزر مسز فیلڈ برگ (Feld Berg) نے اس کی orchestration کرنے اور notation تیار کرنے کے لیے لندن بھیج دیا۔ جب یہ چیزیں تیار ہو کر ترانہ واپس آیا تو ریڈیو پاکستان میں اس کی ریکارڈنگ ڈائریکٹر جنرل بخاری اور حمید نسیم نے مل کر کی۔ گانے والوں میں نہال عبداللہ، دائم حسین، نظیر بیگم، رشیدہ بیگم، تنویر جہاں، کوکب جہاں، اور چند دیگر فنکار شامل تھے۔ اس طرح ریڈیو پاکستان نے ملک کا قومی ترانہ تیار کیا۔“

قومی ترانے کی اصلی کمپوزیشن۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کب ترتیب دی گئی؟ اور کیا اس سے پہلے بھی کوئی قومی ترانہ تھا یا نہیں؟ سینیئر صحافی نعمت اللہ بخاری کا کہنا ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد ان کے اسکولوں میں ترانے کے لیے علامہ اقبال کی مشہور نظم ”چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا، مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا“ پڑھی جاتی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکن اقبال علوی کا کہنا ہے ان کے دور میں اقبال کی مشہور نظم ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری“ پڑھی جاتی تھی۔ لیکن کیا کہیے کہ یہ دونوں نظمیں پاکستان کا قومی ترانہ نہ بن سکیں۔ عقیل عباس جعفری کے مطابق 1960 میں امین الرحمٰن نے ایک مضمون میں پاکستان کے قومی ترانے کی دھن تیار کرنے کا قصہ یوں بیان کیا ہے:

”1950 کے اوائل میں ایران کے جواں سال حکمراں رضا شاہ پہلوی شہنشاہِ ایران، حکومت کی دعوت پر پاکستان کے سرکاری دورے پر تشریف لائے۔ شہنشاہِ ایران کے استقبال کی تقریب پر رواج و آداب کے لحاظ سے ضروری تھا کہ معزز مہمان کا استقبال قومی ترانے سے کیا جائے۔ چنانچہ سرکاری طور پر پاکستان کے قومی ترانے کی ضرورت شدید طور پر محسوس کی گئی۔

احمد غلام علی چھاگلہ اس سے پہلے ہمارے پڑھے لکھے موسیقی داں طبقے میں ایک ماہرِ موسیقی کی حیثیت سے غیر معروف نہ تھے۔ اس تنگ وقت میں جناب چھاگلہ نے صحت کی خرابی کے باوجود شب و روز محنتِ شاقہ سے کام کیا اور آخر کار پاکستان کے قومی ترانے کے لیے ایک مناسب دھن مرتب کر ہی لی۔ جب شہنشاہ ایران پاکستان تشریف لائے تو ہمارے بحریہ کے بینڈ نے اس ترانے کو شہنشاہ ایران کے استقبال کے موقع پر بجایا، جو اسے سن کر بہت متاثر ہوئے۔“

پاکستان کا پہلا قومی ترانہ کس نے لکھا، اس حوالے سے گزشتہ ایک دہائی سے دانشوروں اور صحافیوں کے درمیان ایک جنگ چل رہی ہے۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ پاکستان کا پہلا قومی ترانہ جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا، اس ضمن میں جگن ناتھ آزاد کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کے مطابق جناح صاحب نے انہیں یہ کام سونپا تھا کہ وہ پاکستان کا قومی ترانہ لکھیں۔ تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جگن ناتھ آزاد نے کہیں بھی اپنے ترانے کو ترانہ نہیں کہا۔ لیکن یہ ایک جنگ ہے جو تا حال جاری ہے۔

سینیئر صحافی نعیم احمد نے اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ: ”مجھے نہیں لگتا کہ جگن ناتھ آزاد کو جناح صاحب نے قومی ترانہ لکھنے کا کہا ہوگا، اگر ایسا ہوتا تو جگن ناتھ آزاد اس بات کو فخریہ بتاتے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جناح کو اردو شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا اور نہ ہی جگن ناتھ آزاد اور جناح صاحب کبھی کسی شہر میں یکجا رہے ہیں۔"

اگر نعیم صاحب کی بات کو درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کی کیا دلیل ہے کہ اردو سے ناواقف ہونے کے باوجود قائدِ اعظم کا اصرار تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی، حالانکہ سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں بسنے والے ان کی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بنگالی چاہتے تھے کہ پاکستان کا قومی ترانہ ایسا ہو جس میں بنگالی زبان کے الفاظ بھی شامل ہوں۔ لیکن ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

عقیل عباس جعفری اپنی مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر 37 پر لکھتے ہیں کہ:

”ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ کے مطالعے اور ڈاکٹر صفدر محمود کی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات پایہء ثبوت کو پہنچتی ہے کہ 14 اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب ریڈیو پاکستان کی اولین نشریات میں جگن ناتھ آزاد کا کوئی نغمہ یا کوئی ترانہ شامل نہ تھا۔ ممکن ہے کہ جگن ناتھ کا تحریر کردہ نغمہ جسے وہ خود ترانہ اور ان کے مداحین قومی ترانہ کہنے پر مصر ہیں، بعد میں کسی اور وقت نشر ہوا ہو، مگر ابھی تک ریڈیو پاکستان کا کوئی ریکارڈ یا ریڈیو پاکستان سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کی کوئی تحریر اس کی بھی تصدیق نہیں کر سکی ہے۔“

جمیل زبیری نے اپنی کتاب ”یاد خزانہ، ریڈیو پاکستان میں 25 سال“ کے ابتدائیے میں ایک انکشاف کیا ہے کہ سندھ کے پہلے ریڈیو اسٹیشن نے 4 اگست 1947 کو اپنے کام کا آغاز کیا۔ اس ریڈیو اسٹیشن کے قیام کا بنیادی خیال ایس کے حیدر نامی شخص کو تھا جن کی کراچی میں ریڈیو کی دکان تھی۔ انہوں نے اس سلسلے میں اے ایم چھاگلہ سے مشورہ کیا اس کے بعد وہ دونوں حکومتِ سندھ کے اس وقت کے ایک مشیر اڈنانی سے ملے اور کچھ پرانے ٹرانسمیٹروں کی مرمت کر کے تین کمروں پر مشتمل ایک ریڈیو اسٹیشن بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کا نام ”سندھ گورنمنٹ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن“ رکھا گیا۔ 10 اگست سے اس کی باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوگیا۔ 14 اگست 1947 کو اس اسٹیشن سے پاکستان کے قیام اور قائدِ اعظم کے گورنر جنرل کے عہدے کا حلف اٹھانے کی کارروائی کا آنکھوں دیکھا حال نشر کیا گیا۔ اس ریڈیو اسٹیشن کی نشریات صرف دس روز جاری رہیں۔ 20 اگست 1947 کو اسے بند کر دیا گیا کیوں کہ وائرلیس ایکٹ کے تحت کوئی بھی صوبائی حکومت ریڈیو اسٹیشن نہیں چلا سکتی تھی۔“

کراچی کے حوالے سے معروف محقق گل حسن کلمتی اپنی کتاب ”کراچی کے لافانی کردار“ کے صفحہ نمبر241 پر لکھتے ہیں:

”ممکن ہے اسی تجرباتی ریڈیو اسٹیشن سے جگن ناتھ آزاد کا ترانہ بھی نشر کیا گیا ہو، لیکن اس بات کی تصدیق کرنے والوں میں سے اب کوئی بھی حیات نہیں۔ اس میں مزید تحقیق کی گنجائش ہے۔“

قومی ترانے کی دھن 1950 میں ترتیب دی گئی، لیکن اس قومی ترانے کی منظوری آزادی کے تقریباً 7 سال بعد 1954 میں ہوئی۔ چھاگلہ صاحب نے یہ دھن بنائی اور بڑی محنت سے بنائی۔ اس کا اندازہ دھن سنتے ہی ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ اپنی زندگی میں اس دھن کی منظوری نہ دیکھ سکے اور نہ ہی اس حوالے سے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی اس بے بہا خدمت کا اعتراف کیا گیا۔ ان کی اس خدمت کے صلے کے لیے ان کے خاندان کو تقریباً 46 برس تک انتظار کرنا پڑا۔ گل حسن کلمتی اپنی کتاب ”کراچی کے لافانی کردار“ کے صفحہ نمبر 242 پر لکھتے ہیں کہ:

”آخرکار 43 سال بعد 1996 میں محترمہ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں احمد علی چھاگلہ صاحب کو صدارتی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا۔ یہ ایوارڈ چھاگلہ صاحب کے فرزند عبدالخالق چھاگلہ جو کہ امریکی ریاست ہیوسٹن میں مقیم ہیں، انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں 23 مارچ 1997 میں پاکستانی سفارت خانے میں منعقد ہونے والی تقریب میں وصول کیا۔“ چلیں ”دیر لگی آنے میں تم کو، شکر ہے پھر بھی آئے تو“۔

حفیظ جالندھری کا انتقال 21 دسمبر 1982 کو ہوا۔ حکومتِ پاکستان حفیظ جالندھری کی اس خواہش پر ایک عرصے تک غور کرتی رہی کہ انہیں ان کی خواہش کے مطابق علامہ اقبال کے پہلو میں دفنایا جائے یا کہیں اور۔ معروف مؤرخ اور محقق ڈاکٹر معین الدین عقیل کے مطابق حکومت پاکستان ان کی یہ آخری خواہش پوری نہ کر سکی۔ ابتداء میں انہیں ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں امانتاً دفن کیا گیا۔ بعد ازاں مینارِ پاکستان کے باغ میں ان کا مقبرہ بنا کر انہیں وہاں دفن کیا گیا۔ یہ تھا پاکستان کے قومی ترانے کی دھن اور شاعری کا قصہ۔