جب بگروٹ وادی نے سیلاب کا مقابلہ کیا

اپ ڈیٹ 12 ستمبر 2015

ای میل

وادیء بگروٹ کے ایک دریا کا منظر۔ — فوٹو سید زاہد حسین۔
وادیء بگروٹ کے ایک دریا کا منظر۔ — فوٹو سید زاہد حسین۔

اس جولائی میں بڑھے ہوئے درجہ حرارت اور شدید بارشوں نے ہندوکش، قراقرم، ہمالیہ کی ایک دور دراز وادی چترال میں بڑی تباہی پھیلائی۔

گلیشیئرز کے کناروں پر موجود کم از کم تین جھیلیں ایسی تھیں جو پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے پانی سے چھلکیں یا پھٹ گئیں۔ سیلابی سلسلوں کے ساتھ آنے والی پگھلی ہوئی برف اور بارشوں نے پہلے ہی ندیوں اور دریاؤں کو آخری حدوں تک لبریز کیا ہوا تھا۔

قریبی وادی بگروٹ کے ارد گرد موجود پانچ گلیشیئرز میں سے تین اس وادی پر سایہ کیے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ متعدد پہاڑی ندیوں کے راستے میں ہونے کی وجہ سے بگروٹ وادی بھی اتنے ہی خطرات کے زد میں تھی، لیکن سیلاب نے یہاں نسبتاً کم نقصان کیا اور کوئی ہلاکت بھی نہیں ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ وادی کے رہائشیوں میں کسی حد تک آگہی موجود تھی۔

انہوں نے اطراف کے گلیشیرز کی نگرانی اور خطرات سے خبردار کرنے کے لیے نگراں گروپ (Hazard watch groups) تشکیل دیے تھے جو گلیشیئرز میں موجود جھیلوں کے ابلنے یا ان کے پھٹنے کے صورت میں خبردار کرسکیں۔ پھر جیسے ہی خطرے کی اطلاع ملتی، وادی کے لوگ اونچی جگہوں پر بنی پناہ گاہوں میں منتقل ہوجاتے۔ یہ پناہ گاہ عموماً کسی مسجد یا کسی امیر باشندے کے پہاڑی کی چوٹی پر بنا ہوا گھر ہوتی۔

گلگت-بلتستان کا ایک بپھرا ہوا دریا. — فوٹو سید زاہد حسین۔
گلگت-بلتستان کا ایک بپھرا ہوا دریا. — فوٹو سید زاہد حسین۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ گلوبل وارمنگ نے سیلاب کے خدشات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ سارے ہمالیائی علاقے میں گلیشیئرز میں موجود جھیلوں کے پھٹنے (جسے تکنیکی طور پر گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) کہا جاتا ہے) کے خطرات موجود ہیں۔ زیادہ تر گلیشیئرز کے اختتام پر ملبے کے ڈھیر ہوتے ہیں جنہیں مورین ( ملبے کا ڈھیر جو برفانی تودے نے جمع کیا ہوتا ہے) کہا جاتا ہے۔ کناروں پر پگھلتا ہوا پانی اور ٹوٹی ہوئی برف کے ٹکڑے اس ملبے سے رستے ہیں کیونکہ مورین کے اوپر اور زمین کے نیچے پانی کا بہاؤ موجود ہوتا ہے۔ دیگر ندی نالے اس میں ملتے رہتے ہیں اور آخر میں یہ سب مل کر ایک دریا کے آغاز کی صورت میں وادی کے نشیب میں بہنے لگتے ہیں۔

لیکن اب گلیشیئرز گلوبل وارمنگ کی وجہ سے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ٹوٹے ہوئے برف کے ٹکڑوں کے اخراج کے لیے رساؤ کافی نہیں ہے۔ لہٰذا غیر مستحکم مورین میں جھیلیں بنتی ہیں اور ہر سال بڑی ہوتی جاتی ہیں۔ خاص طور پر موسم گرما میں، یا شدید بارشوں میں یا برفباری کے بعد جھیلوں کے ابلنے اور کناروں کے پھٹنے سے نیچے وادی میں سیلاب آجاتا ہے۔

خطرات میں کمی

وادی بگروٹ کا ایک کاشتکار مظہر حسین اپنے کھیتوں میں کام کر رہا تھا کہ تب اس نے پاکستان محکمہ موسمیات سے تربیت یافتہ خطرے کی پیشگی اطلاع دینے والے گروپ کی جانب سے انتباہ سنا۔ مظہر حسین جو ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم ڈوبانی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ساتھ منسلک ہے، کا کہنا ہے کہ اگر بروقت لوگوں کو خبردار نہ کیا جاتا تو سیلاب کی وجہ سے کئی لوگ ہلاک ہوسکتے تھے۔

گلگت-بلتستان کا ایک بپھرا ہوا دریا. — فوٹو سید زاہد حسین۔
گلگت-بلتستان کا ایک بپھرا ہوا دریا. — فوٹو سید زاہد حسین۔

مگر حکومت پاکستان، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور اقوام متحدہ ایڈاپٹیشن فنڈ کے مشترکہ منصوبے کی بدولت جانی کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی کم ہوا۔

پاکستان کی وزارت موسمیاتی تبدیلی اس منصوبے پر عملدرآمد کر رہی ہے جبکہ یو این ڈی پی تکنیکی معاونت اور نگرانی کر رہی ہے۔ وادی بگروٹ میں یہ منصوبہ خاص طور پر کامیاب رہا ہے۔ کیونکہ یہاں کی مقامی آبادی پہلے ہی سے ان خطرات سے آگاہ تھی، وہ اپنے گھروں اور کھیتوں پر موسمیاتی تبدیلی کا مشاہدہ کر رہی تھی اور اپنے طور پر خطرات سے نمٹنے کی تگ و دو میں مصروف تھی۔

GLOF منصوبے کے پیسوں سے وادی کے گرد دیواریں بنائی گئیں اور بندوں کی جانچ پڑتال کی گئی تاکہ وہ کم از کم سیلاب کے زور کو توڑ سکیں۔

گلگت-بلتستان کا ایک بپھرا ہوا دریا. — فوٹو سید زاہد حسین۔
گلگت-بلتستان کا ایک بپھرا ہوا دریا. — فوٹو سید زاہد حسین۔

452 مربع کلومیٹر پر محیط وادی بگروٹ میں واقع 14 دیہاتوں کے باشندے جانتے ہیں کہ انہیں ہنارچی، برچی، گوتومی، راکاپوش اور یون گلیشیرز سے براہ راست خطرات ہیں۔ وادی کے لوگ چونکہ اپنے بھیڑوں اور یاک کے ریوڑوں کو اونچی جگہوں پر چرانے لے جاتے ہیں، لہٰذا پہاڑوں اور ارد گرد کے ماحول میں ہونے والی کوئی بھی تبدیلی ان کی نظر سے نہیں بچ سکتی۔ وہ اس حد تک بھی جانتے ہیں کہ گلیشیئرز کے رساؤ سے کون سی جھیلیں پھیلتی جارہی ہیں۔

GLOF پروجیکٹ کے مینیجر زاہد حسین نے تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ صرف یہ پانچ گلیشیئرز ہی وادی بگروٹ کے لیے خطرہ نہیں ہیں بلکہ بلندیوں پر کم از کم 11 گلیشیئرز اور ایسے ہیں جن میں سے 9 کا رخ وادی کی طرف ہے جن سے برفانی تودوں اور پانی کے ریلوں کے آنے کا خطرہ ہے۔

پاکستان محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول نے کہا کہ منصوبے کے ایک حصے میں بارش، برف باری اور دریا کی سطح ناپنے والے آلات کے ساتھ خودکار موسمیاتی مراکز قائم کیے گئے ہیں اور خبردار کرنے والے رضاکار گروپوں کو ان آلات کو سمجھنے اور ضرورت پڑنے پر خبردار کرنے کی تربیت دی گئی ہے۔

گلگت-بلتستان کا ایک بپھرا ہوا دریا. — فوٹو سید زاہد حسین۔
گلگت-بلتستان کا ایک بپھرا ہوا دریا. — فوٹو سید زاہد حسین۔

چرواہے جو مویشیوں کو موسم گرما میں اونچی چراگاہوں پر لے جاتے ہیں، ان کو اس بات کی تربیت بھی دی گئی ہے کہ وہ پہاڑوں میں نمودار ہوتی کسی چھوٹی بڑی دراڑوں کو دیکھ سکیں اور ان کے پھیلاؤ کی نگرانی کرسکیں۔

پراجیکٹ مینیجر زاہد حسین نے کہا کہ رضاکار اس عمل کو یقینی بناتے ہیں کہ منتخب کردہ محفوظ پناہ گاہیں بلا رکاوٹ راستوں، خوراک، کمبل اور دیگر اشیا سمیت دیگر ہنگامی فراہمی کے ساتھ لیس ہوں۔ GLOF پراجیکٹ کی انتظامیہ نے ڈوبانی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن جیسی مقامی غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ برابری کی بنیاد پر قدرتی آفت سے بچاﺅ کا ایک انتظامی منصوبہ تشکیل دینے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جو کہ دیگر مقامات پر ایک ماڈل کے طور پر بھی پیش کیا جا سکے گا۔

سیلاب سے ہونے والی تباہی۔ — فوٹو سید زاہد حسین۔
سیلاب سے ہونے والی تباہی۔ — فوٹو سید زاہد حسین۔

قدرتی آفات سے بچاؤ کی تیاری کی مشقیں اور ہنگامی نقد رقم کے حامل فنڈ کا قیام بھی اس نظام کا حصہ ہے۔ یہ غیر سرکاری تنظیمیں اب ارد گرد ہنگامی کٹس تقسیم کرنے جا رہی ہیں اور اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ ہر کسی کے موبائل فون میں وہ نمبر موجود ہو جس سے کسی بھی خطرے کی صورت میں خبردار کیا جائے گا۔ پوری وادی کے لیے ایک آفت سے بچاؤ کے انتظام کا منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

سیلابوں سے نمٹنے کی یہی ایک حد ہے جس کے بعد اس طرح کے اقدامات کارآمد نہیں ہوتے۔ یہ سیلاب اتنا طاقتور تھا کہ ایک 25 سال پرانا پل بہا لے گیا، آبپاشی کے ذرائع کو نقصان پہنچایا اور سب سے اہم یہ کہ وادی اور باہر کی دنیا کے درمیان سڑک کو کاٹ دیا۔ اس وقت بگروٹ کے کسان پھل اور آلو کی فصلیں کاٹ چکے تھے مگر وہ انہیں مارکیٹ نہیں لے جا سکتے تھے۔

بگروٹ کے قریب دریا کا منظر۔ — فوٹو سید زاہد حسین۔
بگروٹ کے قریب دریا کا منظر۔ — فوٹو سید زاہد حسین۔

یہ ستم ظریفی ہے کہ کسان گندم چھوڑ کر آلو کی طرف آئے کیونکہ گندم کی جو قسم وہ بو رہے تھے وہ بدلتے موسم سے نمٹنے کے قابل نہیں تھی چنانچہ بگروٹ میں اب ہر کسان آلو اگا رہا ہے جو گندم کے مقابلے میں زیادہ قیمت پاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں وہ امیر تو ہو گئے ہیں لیکن اب نہیں جانتے کہ کیا کرنا ہے جبکہ ان کے آلو کو پھپھوند لگ رہی ہے!

ترجمہ: شبینہ فراز

بشکریہ دی تھرڈ پول ڈاٹ نیٹ