فیس بک بن سکتی ہے ڈپریشن کا باعث؟

12 ستمبر 2015

ای میل

فیس بک آئیکون — کریٹیو کامنز فوٹو
فیس بک آئیکون — کریٹیو کامنز فوٹو

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک نوجوانوں میں نیند متاثر ہونے، ڈپریشن اور ذہنی پریشانیوں جیسے نفسیاتی امراض کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ دعویٰ اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

گلاسکو یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ بہت زیادہ استعمال کرنے والے نوجوانوں کے اندر یہ خوف بیٹھ جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کی نظروں سے کوئی چیز چھوٹ نہ جائے اور ان پر زیادہ سے زیادہ وقت تک ان سائٹس سے جڑے رہنے کا دباﺅ ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں بڑی اکثریت نوجوانوں کی ہی ہوتی ہے اور جو ہر وقت خاص طور پر رات رات بھر اس سے چپکے رہتے ہیں ان میں جذباتی مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں فیس بک کے بہت زیادہ استعمال سے طویل المعیاد ذہنی مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔

محقق ڈاکٹر ہیتھر کلیلینڈ ووڈز کے مطابق فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا سائٹس کا بہت زیادہ استعمال ڈپریشن، ذہنی الجھنیں اور نیند کی خرابی جیسے مسائل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 467 نوجوانوں سے بات چیت کی گئی جس کے دوران ان کی نیند اور سائٹس کے استعمال کے دوران دباﺅ وغیرہ کو دیکھا گیا۔

اس سے انکشاف ہوا کہ مجموعی طور سوشل میڈیا کا استعمال خاص طور پر رات میں نیند کے معیار پر نمایاں اثرات مرتب کرتا ہے، جبکہ ڈپریشن اور دیگر ذہنی مسائل کا خطرہ کافی زیادہ ہوتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی سوشل میڈیا کے استعمال اور نفسیاتی مسائل کے درمیان ایک تعلق کو دریافت کیا گیا خاص طور پر ان افراد میں جو روزانہ ان سائٹس کو دو گھنٹے سے بھی زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

یہ نئی تحقیق برٹش سائیکلوجیکل سوسائٹی کانفرنس میں پیش کی گئی۔