ڈالفن فورس پنجاب حکومت کا نیا سفید ہاتھی؟

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2015

ای میل

ڈولفن فورس کے اہلکار 500 سی سی موٹر سائیکلوں کے ساتھ ۔ — تصویر فیس بک
ڈولفن فورس کے اہلکار 500 سی سی موٹر سائیکلوں کے ساتھ ۔ — تصویر فیس بک

نئی ایلیٹ سیکیورٹی یونٹ’ ڈالفن فورس‘ کا نام بھلے عادی مجرموں کے دلوں میں اپنا خوف پیدا نہ کر سکے لیکن اس کے اہلکاروں نے لاہور کی سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے۔

ڈالفن فورس کا آئیڈیا اور نام ترکی کے ایک خصوصی یونٹ سے مستعار لیا گیا ہے، جس سے وزیر اعلی پنجاب انتہائی متاثر تھے۔

ایک طرف جہاں شہباز شریف اس فورس کو متعارف کرانے میں انتہائی سنجیدہ تھے وہیں اعلیٰ پولیس افسران نے اس نئے یونٹ کو شبہات کی نظر سے دیکھا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ماضی کے خصوصی یونٹس کی طرح اس کا بھی انجام صرف شرمندگی ہو گا۔

ڈولفن فورس کی ممکنہ ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اس پر اٹھنے والے کثیر اخراجات ہوں گے۔

یونٹ کیلئے اب تک 35 ہنڈا سی بی موٹر سائیکلیں خریدیں جا چکی ہیں اور ہر موٹر سائیکل کی قیمت پندرہ لاکھ روپے ہے۔

۔ — ڈان نیوز سکرین گریب
۔ — ڈان نیوز سکرین گریب
نئی فورس کیلئے اخراجات کی فہرست یہیں مکمل نہیں ہوتی کیونکہ ایک منصوبے کے تحت فورس کے ہر اہلکار کیلئے پچاس ہزار روپے مالیت کی وردی خریدنے پر غور ہو رہا ہے۔ اس وردی میں کیمرے کے ساتھ ساتھ اہلکار کی نقل و حرکت دیکھنے کیلئے خصوصی چپ بھی نصب ہو گی۔

اس کے علاوہ ماضی میں قائم ہونے والے پیٹرولنگ یونٹس کے مقابلے میں ڈولفن فورس کی مینٹیننس اور ریپئرنگ اخراجات زیادہ ہوں گے۔

پولیس افسران نے نام نہ ظاہر کرنے کی شناخت پر کہا کہ تھوڑے عرصے میں ہی ڈولفن فورس اور اس کے ساز وسامان کیلئے فنڈز ختم ہو جائیں گے اور بلاآخر اسے جرائم کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے وی آئی پی شخصیات کی حفاظت کیلئے تعینات کر دیا جائے گا۔

ڈولفن فورس کے ڈی ایس پی میر کاشف خلیل کا کہنا ہے کہ سٹریٹ کرائمز میں ملوث مجرموں کا پیچھا اور گرفتار کرنے کیلئے یونٹ کے پاس اس طرح کی طاقت ور موٹر سائیکلیں ہونا ضروری ہے۔

تاہم، اسی طرح کی دوسری ایلیٹ یونٹس ’محافظ فورس‘ اور ’ کوئیک رسپانس فورس‘ قائم ہونے کے کچھ عرصے میں ہی 125سی سی موٹر سائیکلوں کی مینٹیننس کیلئے فنڈز ختم ہونے کی وجہ سے بیکار ہو گئیں۔

ان یونٹس کے زیادہ تر اہلکار روزمرہ کے ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئے اپنی سواری استعمال کرنے پر مجبور ہوئے اور انہیں اس کام کیلئے روزانہ 1.5 لیٹر فیول آلاؤنس دیا جانے لگا۔

پولیس حکام نے دعوی ٰکیا کہ صوبائی حکومت سے پولیس اسٹیشنوں کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد بڑھانے کیلئے کئی بار درخواستیں ارسال کی گئیں لیکن ان پر کوئی عمل نہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ لاہور کے زیادہ تر پولیس اسٹیشنوں میں صرف دو سرکاری گاڑیاں ہیں جو شہر میں امن و امان برقراررکھنے کیلئے ناکافی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی ایلیٹ فورس پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے اسے موجودہ فورسز کی بہتری کیلئے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ فی الحال پولیس حلقوں میں ڈولفن فورس کی کامیابی کے حوالے سے تھوڑی امید ہی پائی جاتی ہے۔(رپورٹنگ وسیم ریاض اوردانیال حسن)۔