سانحہ بلدیہ: فیکٹری مالکان کے بیانات ریکارڈ

10 اکتوبر 2015

ای میل

ایک ماہ میں رپورٹ جمع کروا دی جائے گی ... فائل فوٹو
ایک ماہ میں رپورٹ جمع کروا دی جائے گی ... فائل فوٹو

کراچی : کراچی کی فیکٹری میں آتشزدگی پر بلدیہ ٹاؤن کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مالکان کا بیان ریکارڈ کر کے کراچی واپس پہنچ گئی۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے دبئی میں ریکارڈ کیے گئے فیکٹری کے مالکان بھائیلہ برادران کے بیان کو تفتیش کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : رینجرز رپورٹ: سانحہ بلدیہ ٹاﺅن میں ایم کیو ایم ملوث قرار

9 رکنی تحقیقاتی ٹیم گامنٹس فیکٹری علی انٹر پرائزیز کے مالکان عزیز بھائیلہ، شاہد بھائیلہ اور ارشد بھائیلہ کے انٹرویو کے لیے دبئی گئی تھی۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس ایڈمن سلطان خواجہ کا کہنا تھا کہ بیانات ریکارڈ کرلیے ہیں لیکن حتمی رپورٹ ایک ماہ میں پیش کی جائے گی۔

ذرائع کاکہناہے کہ تحقیقات کے لے مزید فرانزک ٹیسٹ کرائے جائیں گے۔

خیال رہے کہ بلدیہ ٹاؤن کی ٹیکسٹائل فیکٹری میں آگ لگنے کا واقعہ 11 ستمبر 2012 کو پیش آیا تھا۔

آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی تھی، جس میں ڈی آئی جی ایڈمن سلطان خواجہ، ڈی آئی جی ایسٹ منیر شیخ، سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) پیرمحمد شاہ اور ساجد سدوزئی سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران شامل ہیں۔

جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم جو پانچ روز قبل کراچی سے دبئی گئی تھی، میں رینجرز، ایف آئی اے، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے بھی نمائندے شامل ہیں۔

ابتدائی طور پر مارچ 2015 میں یہ تحقیقاتی ٹیم ڈی آئی جی آفتاب پٹھان کی سربراہی میں بنائی گئی تھی البتہ 15 روز بعد ہی ان کو ہٹا کر سلطان خواجہ کو ٹیم کا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 11 ستمبر 2012 میں کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاﺅن میں ایک فیکٹری میں آتشزدگی سے 258 ورکرز کی ہلاکت کے سانحے میں رواں برس فروری میں ایک ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب رینجرز کی جانب سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) کو اس واقعے میں ملوث قرار دیا گیا۔

رینجرز کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروائی کی گئی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے کارکن محمد رضوان قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ 'پارٹی کے ایک معروف اعلیٰ عہدیدار' نے اگست 2012 کو اپنے فرنٹ مین کے ذریعے آتشزدگی کا نشانہ بننے والی فیکٹری علی انٹرپرائزز کے مالک سے 20 کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں : سانحہ بلدیہ کی رپورٹ مسترد،متحدہ کاملزم سے اظہار لاتعلقی

بعد ازاں ایم کیو ایم کی جانب سے جے آئی ٹی کو مسترد کر دیا گیا تھا اور اس پر تنقید کی گئی تھی۔

ایم کیو ایم کی جانب سے ملزم سے اظہار لاتعلقی کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ کسی فردِ واحد کے فعل کی ذمہ داری پوری جماعت پر ڈالنا غیر قانونی ہے۔

مزید پڑھیں : سانحہ بلدیہ رپورٹ:فوج نےاعتراضات مسترد کردیئے

دوسری جانب ایک پریس بریفنگ کے دوران پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جے آئی ٹی (جوائنٹ انویسٹی گیشن) رپورٹ پر کچھ حلقوں کے اعتراضات کو مسترد کر دیا تھا۔

رینجرز پاک فوج کا ہی حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ' بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ سیکٹر انچارج نے لگائی'

بعد ازاں ایم کیو ایم کے مرکزی الیکشن سیل کے گرفتار رکن عمیر صدیقی نے 120 افراد کے قتل کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ سیکٹر انچارج کے کہنے پر لگائی گئی۔

اس بیان کے سامنے آنے کے بعد ایم کیو ایم نے عمیر صدیقی سے بھی اعلان لاتعلقی کر دیا تھا۔