گلیڈی ایٹرز بمقابلہ یونائیٹڈ کے پانچ اہم نکات

اپ ڈیٹ 05 فروری 2016

ای میل

کوئٹہ کے کھلاڑی وکٹ کے حصول پر جشن مناتے ہوئے۔
کوئٹہ کے کھلاڑی وکٹ کے حصول پر جشن مناتے ہوئے۔

باؤلنگ اور بیٹنگ میں شاندار مظاہروں کے ساتھ پاکستان سپر لیگ کے اولین ایڈیشن کا آغاز ہو گیا ہے جو اسلام آباد کی یونائیٹڈ کی ٹیم کیلئے کچھ بہتر ثابت نہیں ہوا جسے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم نے افتتاحی میچ میں چاروں شانے چت کردیا۔

میچ کے حوالے سے پانچ قابل ذکر باتیں یہاں پیش ہیں۔

اگر پاکستان سپر لیگ(پی اسی ایل) شروع ہونے سے قبل آپ محمد نواز کو جانتے تھے تو اپنے ہاتھ کھڑے کریں۔ میچ سے قبل ایک انٹرویو میں نواز نے بتایا کہ دو ہفتے قبل وہ دبئی میں ہی انگلینڈ لائنز کے خلاف پاکستان اے ٹیم کی نمائندگی کر رہے تھے اور ڈومیسٹک سطح پر نیشنل بینک کی نمائندگی کرتے ہوئے بھی انہوں نے بہترین کارکردگی دکھائی۔

لیکن اگر ہم ان کی اس شاندار کارکردگی کو نہیں دیکھ سکے تو اس میچ کے ذریعے پورا پاکستان اس نوجوان لڑکے باؤلنگ کو سراہتے ہوئے اس کے حق میں کھڑا ہو گیا جس نے باؤلنگ پر بہترین کنٹرول دکھانے کے ساتھ ساتھ دماغ کا استعمال کرتے ہوئے باؤلنگ کی۔

انہوں نے بہترین اسپن کارکردگی دکھاتے ہوئے چار اوورز میں صرف 13 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیلئے میچ میں فتح کی بنیاد رکھی۔ شین واٹسن کو چالاکی سے قابو کیا تو سیم بلنگز کو کرکٹ کا بھولا سبق یاد دلایا، بابر اعظم اپنے کزن عمر اکمل کی طرح کھیلتے ہوئے آؤٹ ہوئے اور عمران خالد ایک بڑا شاٹ کھیلنے کی ناکامی کوشش میں وکٹ گنوا بیٹھے۔

اگر ایک طرف ان کی باؤلنگ متاثر کن تھی تو دوسری جانب مڈل آرڈر میں ان کی بیٹنگ کی صلاحیت بھی انتہائی خوش آئند تھی۔

انہوں نے کوئی غلط شاٹ نہیں کھیلا، مسلسل رن لے کر اسٹرائیک دوسرے اینڈ پر موجود اپنے سیٹ پارٹنر کو دیتے رہے اور وکٹوں کے درمیان ان کی رننگ اس بات کو ثابت کرتی تھی کہ وہ ناصرف اپنے کھیل کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں بلکہ بہتر طریقے سے میچ کی صورتحال بھی بھانپ سکتے ہیں۔

یاسر شاہ پر پابندی کے بعد پاکستان کو ایک عدد اسپنر کی اشد ضرورت ہے لیکن اس میچ کے نتیجے کے بعد یقیناً عماد وسیم کو بھی اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

یہ کہنا بالکل درست ہے کہ غیر ملکی کھلاڑی متحدہ عرب امارات میں پاکستانی اسپنرز کو کھیل کر فائدہ حاصل کریں گے لیکن محمد نواز نے جس طرح شین واٹسن کو آؤٹ کیا وہ ایک معیار کی عکاسی کر رہا تھا۔

پی ایس ایل نے فوراً ہی پہلا اسٹار فراہم کردیا ہے اور پاکستان کو اب ایک اچھے کی تلاش کی مزید کوئی ضرورت نہیں۔

انور علی نے پی ایس ایل کی تاریخ کا پہلا اوور کرایا جو میڈن رہا۔

لیکن اگر شین واٹسن آف پر موجود فیلڈرز کا حصار توڑنے میں کامیاب رہتے تو صورتحال انتہائی خراب ہو سکتی تھی۔ انہوں نے تین مرتبہ انور علی کی گیند پر زور دار شاٹ جڑے اور تینوں مرتبہ اسے باؤنڈری کی جانب جانے سے روک لیا گیا۔

دوسرے اوور میں ایک شارٹ گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھا دی لیکن صاف نظر آ رہا تھا کہ انور علی کو اپنی لائن اور لینتھ برقرار رکھنے میں دشواری پیش آرہی ہے۔

ایک ان فارم بلے باز ممکنہ طور پر ان خراب گیندوں کا زیادہ بہتر طریقے سے فائدہ اٹھا سکتا تھا اور اگر وہ اسی لائن اور لینتھ پر کرس گیل کو باؤلنگ کرتے ہیں تو ان کیلئے ان تباہ کن بیٹنگ سے بچنا یقیناً معجزہ ہو گا۔

لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انور علی اپنی غلطی کو درست کرنے اور اپنی لائن لینتھ درست کرنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب انور کا عمر گل سے موازنہ کیا جائے تو آندرے رسل نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا لیکن ایک اوور میں 20 رنز کھانے والے تجربہ کار بلے باز نے اننگ کے آخری اوور میں بہترین باؤلنگ کی اور صرف سات رنز دیے۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کیلئے ٹیم میں جگہ کے حصول کیلئے ان دونوں کھلاڑیوں میں مقابلہ ہو گا اور یقیناً پاکستان ایک ایسے باؤلر کا انتخاب کرے گا جسے اپنی فارم، ردھم اور باؤلنگ پر مکمل کنٹرول ہے۔

اگر عمر گل اور انور علی دونوں کو ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کیلئے پاکستانی اسکواڈ میں جگہ بنانی ہے تو انہیں مزید محنت درکار ہو گی۔

جب احمد شہزاد کا دن ہو تو انتہائی خطرناک بلے باز ہوتے ہیں۔ لیکن حال ہی میں ان کی متعدد غیر معیاری کارکردگی کے بعد یہ ماضی بعید کا قصہ معلوم ہوتا ہے اور پہلے میچ میں بھی یہ سلسلہ برقرار رہا۔

وہ میچ میں متاثر کن باؤلنگ کرنے والے عمران خالد کو کیچ دے کر پویلین لوٹ گئے اور وکٹ پر سیٹ، اسے سمجھنے، مستقل رن لینے کا موقع دیا اور حتی کہ دوسرے اینڈ پر موجود اپنے ساتھی بلے باز سے بھی کچھ سیکھنے سے صلح لینے کی ضرورت محسوس نہ کی۔

احمد شہزاد کا اپنی صلاحیتوں پر ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کو ایک عرصے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بہت جلد ہی وہ یہ بات بھی جان لیں گے کہ ان کیلئے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں اور پی ایس ایل میں ناکامی کی صورت میں وہ قومی ٹیم کے اسکواڈ سے ڈراپ ہو سکتے ہیں۔

نئے اسپنرز پہلے ہی اپنی دھاک بٹھا چکے ہیں، اگر کسی نئے اوپنر بھی ایسا کردیا تو پھر کیا ہو گا؟

اگر اوپننگ بلے باز لیوک رائٹ کی بات کی جائے تو وہ اپنی ناقابال شکست اننگ پر یقیناً داد کے مستحق ہیں لیکن اس کا سہرا بھی محمد نواز کے سر جاتا ہے جو پہلے ہی میچ کو کسی حد تک یکطرفہ بنا چکے تھے۔

لیکن لیوک رائٹ نے جس طرح محمد عرفان، سیمیول بدری اور آندرے رسل کو آڑے ہاتھوں لیا، وہ اس بات کا عملی نمونہ تھا کہ ایک اوپننگ بلے باز کو کس طرح پراعتماد انداز میں بیٹنگ کرنی چاہیے۔

شہزاد اور دیگر اوپننگ بلے باز براہ مہربانی اس بات کو نوٹ کر لیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم پہلے ہی میچ میں فاتحانہ حکمت عملی کامیابی ہونے پر خود کو انتہائی خوش قسمت تصور کر رہی ہو گی تاہم ان کیلئے اب سے بڑا چیلنج اس معیار کو برقرار رکھنا ہے جو انہوں نے پہلے ہی میچ میں قائم کیا۔

کسی بھی کھلاڑی کی میچ میں دلچسپی کو جانچنے کیلئے اس کے جذبے کو دیکھا جاتا ہے۔

وسیم اکرم نوجوانوں کی کوچنگ اور انہیں مفید مشوروں سے نوازنے کیلئے دنیا کے ایک کونے سے طویل سفر طے کر کے پہنچے۔

لیکن ایک عرصہ ہوا جب وسیم اکرم کو تناؤ اور مایوسی کا شکار دیکھا گیا ہو، جیسا کہ وہ اپنے دور میں ڈریسنگ روم میں بیٹھ کر پاکستانی ٹیم کی خراب بیٹنگ پر کڑھتے نظر آتے تھے۔ تاہم اسلام آباد یونائیٹڈ کی پہلی اننگ میں بدترین بیٹنگ کے بعد وسیم اکرم ایک بار پھر اسی کیفیت سے دوچار نظر آئے۔

گزرے وقتوں میں اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وسیم اکرم اب بہت ہی خطرناک باؤلنگ کا مظاہرہ کریں گے اور اکثر مواقعوں پر حریف سے حاصل ہونے والا فائدہ چھین لیتے تھے۔

تاہم اس موقع پر وہ ڈگ آؤٹ میں بیٹھے بالکل بے بس نظر آئے اور لیکن اس سب کے باوجود ایک چیز یقینی ہے پاکستان سپر لیگ نے وسیم اکرم کے اندر ڈومیسٹک کرکٹ کا جذبہ پھر سے جگہ دیا ہے۔ خدا کرے یہ طویل عرصے تک برقرار رہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔