کمبخت ویلنٹائنز ڈے

14 فروری 2016

ای میل

میں بہت تذبذب کا شکار ہوں۔۔۔

اور ایک میں ہی کیا، ساری پاکستانی قوم بشمول ہمارے معزز رہنما اسی کشمکش میں نظر آتے ہیں کہ کیونکہ اس موذی، مغرب زدہ 'ویلنٹائن ڈے' کی وبا سے اپنی نوجوان نسل کو بچایا جائے۔

خبروں، افواہوں اور بیانات کا ایک طوفان ہے جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ابتدا میں کچھ اخبارات نے خبر لگائی کہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ویلنٹائنز ڈے منانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ تاہم بعد ازاں ان افواہوں کی تردید کر دی گئی اور قوم کو نوید سنائی گئی کہ "یومِ محبت منانے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔"

ابھی ہم نے سکون کا سانس لیا ہی تھا کہ پشاور ڈسٹرکٹ کونسل نے بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کر کے صوبائی حکومت کو مجبور کیا کہ کوہاٹ کی دیکھا دیکھی ویلنٹائنز ڈے اور اس سے منسلک تمام تیاریوں اور تقاریب پر پابندی عائد کر دی جائے۔

ایسے میں طبعاً خاموش مزاج صدرِ مملکت کی غیرت بھی جوش میں آئی اور انہوں نے نوجوانوں کو پڑوسی ملک کی 'عبرت انگیز' مثال دے کر متنبہ کیا کہ ویلنٹائنز ڈے منانا غیر اسلامی، غیر اخلاقی، اور غیر ملکی ثقافت ہے۔

آج سے چند دہائیوں پہلے تک ویلنٹائنز ڈے اور ہیلووین وہ اجنبی تہوار تھے جن کے کردار پاکستانی عوام کو نہ لبھاتے تھے، نہ اکساتے، اور نہ ان سے ہمارے تشخص کو کوئی خطرہ تھا۔ پھر یوں ہوا کہ دنیا سمٹی، فاصلے گھٹے، ذرائع ابلاغ کے جامِ جہاں نما نے مشرق و مغرب کو ایک اسکرین میں مقید کر کے ہمارے سامنے لا کھڑا کیا، اور ہم سحر زدہ اس طلسمِ ہوشربا میں کھو گئے۔

سو آج حال یہ ہے کہ ہم گنگ بھی ہیں اور سن بھی کہ کسے اپنا کہیں اور کسے اغیار کا۔ کیسے اپنی نئی نسل کو سمجھائیں کہ کم سن بچیوں سے شادی جائز ہے، غیرت کے نام پر کاروکاری قابلِ معافی ہے، ونی، وٹہ سٹہ اور قرآن سے جبری شادی قبائلی رواج ہیں، لیکن ویلنٹائنز ڈے منانا، پھول دینا اور سب سے بڑھ کر محبت کرنا غیر اخلاقی اور غیر شرعی ہے۔

ایک ایسے "مثالی" معاشرے میں جہاں منبر سے غیض و غضب کے فتوے جاری ہوں، تعلیمی اداروں سے دہشتگرد پکڑے جائیں اور وہاں عدم برداشت اور شدت پسندی کا درس ملے، جہاں تحفظ کے لیے والدین کو اپنے بچے بیرونِ ملک بھیجنے پڑیں، جہاں توہین اور تعزیر کے نام پر بغیر کسی ثبوت، گواہ، اور قانون زندہ انسانوں کو سنگسار کرنا یا اینٹوں کی بھٹی میں ڈال دینا انسانیت کی معراج سمجھا جائے، وہاں حسن و عشق، شاعری و مصوری، رقص و موسیقی، فنونِ لطیفہ، اور اس سے جڑی محبت کا اظہار کیونکر قابلِ معافی ہوگا؟

سچ تو یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ فرد اور من حیث القوم شدید الجھن کا شکار ہیں۔ مسئلہ 14 فروری کو ویلنٹائنز ڈے یا حیا ڈے منانے کا نہیں، بلکہ ترجیحات کے تعین کا ہے۔

ہم ایک ایسے ملک کے باسی ہیں جہاں ریاستی نظام مفلوج ہے، عام انسان کے لی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، حکومتِ وقت شہریوں کو باعزت روزگار، صحت، تعلیم، انصاف اور زندگی کی دیگر بنیادی سہولیات دینے سے قاصر ہے، اور ملک کا نوجوان طبقہ اپنے مستقبل سے خائف نظر آتا ہے، ایسے میں ہمارے رہنماؤں اور اسمبلیوں میں بیٹھے "نمائندوں" کی ترجیحات کیا ہونی چاہیئں اور ابھی کیا ہیں، یہ سب کے سامنے ہی ہے۔

سونے پر سہاگہ ہمارا نوزائیدہ میڈیا۔ جس سرمایہ داری نظام کی کوکھ سے نجی ذرائع ابلاغ نے جنم لیا ہے، وہاں فلاح کی امید رکھنا عبث ہے۔ جن چینلز کی بقاء کا دارومدار اشتہارات پر ہو، وہاں ویلنٹائنز ڈے پر خصوصی نشریات ناگزیر ہیں۔ آخر محبت کے نام پر مصنوعات کی تشہیر نہ کریں گے تو کھائیں گے کیا اور جائیں گے کہاں؟

اصل مسئلہ "کیا کریں، کیا نہ کریں" سے زیادہ "کون کرے اور کیا کرے" کا ہے۔ ہمارے وزیرِ داخلہ، ڈپٹی کمشنر یا کسی جماعت کے سربراہ کا فرض ہمارے بچوں کو یہ بتانا نہیں کہ 14 فروری کا دن منائیں یا نہ منائیں۔ بلکہ ان کا فرض ہمارے بچوں کے لیے ایک ایسے محفوظ معاشرے کی تشکیل ہے جہاں بچے اسکول جائیں تو اس یقین کے ساتھ کہ وہ محفوظ ہیں۔ لیکن بات پھر وہی، کہ ترجیحات کیا ہونی چاہیئں، اور کیا ہیں۔

ہمیں بحیثیتِ فرد، خاندان، معاشرہ، قوم اور حکومت اپنا فرض، اپنے حقوق، اپنے فیصلے اور اپنی آزادی اسی وقت نصیب ہوگی جب ہم دوسروں کے حقوق اور آزادی سلب کرنے سے باز رہیں گے۔

بقولِ ناقد مغرب سے قرضے مانگنا، غیر ملکی شہریت حاصل کرنے کے لیے دھکے کھانا، مغرب کے بینکوں میں اپنا سرمایہ رکھنا، تعلیم، تفریح اور ترقی کے لیے مغرب کا رخ کرنا جائز ہے، اس سے ہماری ثقافت، اقدار اور ایمان کو کوئی خطرہ نہیں، ایک کمبخت ویلنٹائن نے ہماری روایات کی ایسی کی تیسی کر دی ہے۔

بقول پروین شاکر

منافقتوں کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا

بہت کٹھن ہے خزاں کے ماتھے پہ داستانِ گلاب لکھنا