عافیہ صدیقی کے گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ

16 فروری 2016

ای میل

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے گھر کا بیرونی منظر۔ — فوٹو: ڈان نیوز
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے گھر کا بیرونی منظر۔ — فوٹو: ڈان نیوز

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں علی الصبح امریکا میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے گھر پر نامعلوم افراد نے پراسرار انداز میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جبکہ چاکیدار کی لاعلمی پر اس کو تشدد کا نشانہ بنایا.

ڈان نیوز کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے گلشن اقبال میں واقع گھر پر کار میں سوار تین افراد علی الصبح پہنچے اور چوکیدار کو یرغمال بنا لیا۔

گھر کے باہر تعینات چوکیدار — فوٹو: ڈان نیوز
گھر کے باہر تعینات چوکیدار — فوٹو: ڈان نیوز

مسلح ملزمان نے چوکیدار سے ڈاکٹر عافیہ کے بچوں مریم اور احمد کے اسکول آنے جانے کے اوقات اور گھر کے دیگر افراد سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔

چوکیدار عامر کا کہنا ہے کہ معلومات دینے سے انکار پر حملہ آوروں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ کہتی ہیں کہ انہیں پہلے بھی کئی بار دھمکیاں دی جاچکی ہیں اور ان کے گھر پر حملے کی کوششیں کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں : ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے امریکا سے درخواست کا فیصلہ

ڈاکٹر عافیہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ ایک سال سے زائد کا وقت گزر گیا لیکن ان کا بیٹی سے رابطہ نہیں کرایا جارہا۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ ان کے اہلخانہ کو نامعلوم افراد کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی ہیں، کچھ عرصہ قبل تک گھر کے باہر سیکیورٹی کے لیے پولیس اہلکار موجود ہوتے تھے، لیکن اب وہ اپنی مرضی سے چکر لگاتے ہیں۔

عافیہ صدیقی کی کہانی 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' سے جڑی کہانیوں میں سب سے اہم ہے، جو مارچ 2003 میں اُس وقت شروع ہوئی جب القاعدہ کے نمبر تین اور نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھیں : 'وزیراعظم عافیہ کا معاملہ اوباما کے سامنے اٹھائیں'

خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد مبینہ طور پر 2003 میں ہی عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ کراچی سے لاپتہ ہوگئیں۔

عافیہ صدیقی کو لاپتہ ہونے کے 5 سال بعد امریکا کی جانب سے 2008 میں افغان صوبے غزنی سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

امریکی عدالتی دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 'عافیہ صدیقی کے پاس سے 2 کلو سوڈیم سائینائیڈ، کیمیائی ہتھیاروں کی دستاویزات اور دیگر چیزیں برآمد ہوئی تھیں، جن سے عندیہ ملتا تھا کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی ہیں'۔

جب عافیہ صدیقی سے امریکی فوجی اور ایف بی آئی عہدیداران نے سوالات کیے تو انہوں نے مبینہ طور پر ایک رائفل اٹھا کر ان پر فائرنگ کر دی، جوابی فائرنگ میں وہ زخمی ہوگئیں۔ جس کے بعد انہیں امریکا منتقل کر دیا گیا جہاں 2010 میں انہیں اقدام قتل کا مجرم قرار دے کر 86 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

ستمبر 2013 میں نواز شریف نے وزیر اعظم بننے کے 4 ماہ بعد یعنی 2 مارچ 2015 کو گورنر ہاؤس کراچی میں عافیہ صدیقی کے اہلخانہ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے 43 سالہ عافیہ صدیقی کی واپسی کی کوششوں کی یقین دہانی کروائی تھی۔

2013 میں امریکا کے دورے سے واپسی پر وزیر اعظم نواز شریف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر بات کی، جبکہ امریکی حکام کا دعوی تھا کہ عافیہ صدیقی کا معاملہ زیر بحث ہی نہیں آیا۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔