'ہندوستان کو F-16 طیاروں پر تشویش نہیں ہونی چاہیے'

اپ ڈیٹ 17 فروری 2016

ای میل

پینٹاگون ترجمان پیٹر کک—۔فوٹو/ بشکریہ امریکی محکمہ دفاع آفیشل ویب سائٹ
پینٹاگون ترجمان پیٹر کک—۔فوٹو/ بشکریہ امریکی محکمہ دفاع آفیشل ویب سائٹ

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت ہندوستان کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ ڈیل خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کی گئی ہے.

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے امریکی کانگریس کو بتایا تھا کہ پاکستان کو 8 ایف-16 جنگی طیاروں کی فروخت کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے.

مزید پڑھیں:امریکا ایف-16 طیارےپاکستان کو فروخت کرے گا

اس امریکی اقدام پر ہندوستان نے 'مایوسی' کا اظہار کیا اور نئی دہلی میں امریکی سفیر کو بلا کر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا گیا کہ ہندوستان، امریکا کے اس خیال سے متفق نہیں ہے کہ ان طیاروں کی فروخت سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو F-16 کی فروخت پر ہندوستان کا احتجاج

ہندوستان کی اس 'مایوسی' پر پاکستان کی جانب سے 'حیرت' کا اظہار کیا گیا جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریہ کا کہنا تھا کہ ہندوستان خود اسلحہ درآمد کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اور اس کے پاس دفاعی سامان کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔

پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت پر ہندوستانی تشویش سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ دفاع میں نیوز بریفنگ کے دوران پینٹاگون ترجمان پیٹر کک کا کہنا تھا، 'فروخت کا یہ معاہدہ علاقائی سلامتی کومدنظر رکھ کر کیا گیا ہے، پاکستان اور ہندوستان سے ہمارے تعلقات کو الگ الگ تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور ہمارا خیال ہے کہ اس سے پاکستان کو اپنے ملک میں دہشت گردوں کے خاتمے میں مدد ملے گی.'

یہ بھی پڑھیں:F-16طیارے:ہندوستانی مایوسی پر پاکستان 'حیران'

ترجمان کا کہنا تھا، 'امریکا کا خیال ہے کہ اس معاہدے سے ہندوستان کو کسی قسم کی تشویش نہیں ہونی چاہیے.'

پیٹر کک کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مدد فراہم کرنا دراصل خود امریکا کے بھی مفاد میں ہے.

واضح رہے کہ کانگریس کے بعض اراکین نے پاکستان کی دفاعی امداد پر تحفظات کا اظہار کیا تھا.

ری پبلکن سینیٹر بوب کارکر نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کو لکھے گئے خط میں پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فروخت کے معاملے کو ’انتہائی پیچیدہ‘ قرار دیا تھا.

انہوں نے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی حمایت جاری رکھنے اور ان کے ساتھ مل کر افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کا الزام لگایا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاکستانی دفاعی صلاحیت بڑھانے کیلئے امریکا پرعزم‘

ایک اور ری پبلکن قانون ساز جارج ہولڈنگ نے بھی ایف سولہ طیاروں کی فروخت کی مخالفت کرتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’ناقابل اعتبار‘ پارٹنر قرار دیا۔

تاہم پاکستان نے ان تمام اعتراضات کو ’بلاجواز‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایف سولہ طیاروں کو انتہائی کارآمد قرار دیا.

واضح رہے کہ 69 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے معاہدے کے تحت امریکا پاکستان کو 8 ایف-16 طیارے فراہم کرے گا جبکہ اس کے علاوہ تربیت ، ریڈارز اور دیگر ساز وسامان بھی اس معاہدے کے تحت دیا جائے گا۔

ان 8 طیاروں کی پاک فضائیہ کے بیڑے میں شمولیت کے بعد مجموعی طور پر ان جنگی جیٹس کی تعداد 70 سے زائد ہو جائے گی، اس کے علاوہ پاکستان ایئر فورس کے بیڑے میں چین، فرانس، روس برازیل کے حاصل کیے گئے جنگی طیارے شامل ہیں.


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔