تعلیم کی گمراہ کن 'ریٹنگ'

ای میل

ایچ ای سی کے نزدیک کیمپس کا رقبہ، پی ایچ ڈی پروفیسروں، مقالات اور طلباء کی تعداد ہی اعلیٰ تعلیمی معیار کی ضمانت ہے۔ رائٹرز/فائل۔
ایچ ای سی کے نزدیک کیمپس کا رقبہ، پی ایچ ڈی پروفیسروں، مقالات اور طلباء کی تعداد ہی اعلیٰ تعلیمی معیار کی ضمانت ہے۔ رائٹرز/فائل۔

گذشتہ دنوں ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے جامعات کی رینکنگ کیا جاری کی، ہر طرف سے تنقید و تبصروں کا ایک طوفان امنڈ آیا۔

حالیہ درجہ بندی سال 14-2013 میں ملکی جامعات کی کارکردگی کی بنیاد پر کی گئی ہے، جس میں بقول نمائندہء ہائیر ایجوکیشن کمیشن، "بین الاقوامی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے معیار کو جانچ کا پیمانہ بنایا گیا ہے۔"

اپنے تسلسل میں جاری کی گئی یہ پانچویں رینکنگ ہے جس میں کل 100 فیصد نمبروں میں سے 41 فیصد تحقیق، 30 فیصد تعلیمی معیار، 15 کوالٹی اشورنس، 10 فیصد جامعات کی مالی حالت و سہولیات، جبکہ محض 4 فیصد نمبر سماجی ترقی میں کردار اور ربط کے حوالے سے مختص کیے گئے ہیں۔

جبکہ ان جامعات سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء میں سے کتنے فیصد عملی زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں، برسرِروزگار ہوتے ہیں، اور خود طلباء، والدین اور روزگار فراہم کرنے والے ادارے و افراد ان تعلیمی اداروں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، ان اہم نکات کو حالیہ رینکنگ میں کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے۔

پڑھیے: یونیورسٹیز کو کیسے پرکھا جائے

مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے نزدیک درجہ بندی گمراہ کن اور سطحی ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ اس درجہ بندی کی بنیاد پر صفِ اول قرار دی جانے والی جامعات کھلے بندوں شہر بھر میں اپنی تشہیر کرتی نظر آتی ہیں اور کئی سادہ لوح والدین اور طلباء ان کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔

شعبہء تدریس سے تعلق رکھنے والا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس درجہ بندی کو ایک گھناؤنا مذاق قرار دے رہا ہے۔ ان کے مطابق ایچ ای سی کے پاس کسی جامعہ کی ساکھ کو ناپنے کا پیمانہ معیار نہیں مقدار ہے۔ شاید ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نزدیک کیمپس کا رقبہ، فارغ التحصیل اور زیرِ تعلیم طلباء کی تعداد، پی ایچ ڈی پروفیسروں اور مقالات کے انبار اور فنڈز کی بہتات ہی اعلیٰ تعلیمی معیار کی کسوٹی ہے۔

لیکن کیا یہ پیمانے درست ہیں؟ کیا ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارے اور ان پر نظر رکھنے والا کمیشن کوالٹی اشورنس اور کوالٹی کنٹرول کے فرق سے واقف نہیں؟ یہ سوال اٹھانا اور ان کا جواب تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گذشتہ دس سے پندرہ سالوں میں نجی جامعات خودرو پودوں کی مانند ہر شہر، ہر محلے میں نمودار ہوگئی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں سے کئی ادارے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے مستند بھی قرار پائے، اور کئی نے تو ایک کے بعد ایک اپنی شاخیں بھی قائم کر لیں۔

کل جہاں چند گنی چنی یونیورسٹیوں کی اجارہ داری تھی، وہاں آج طلباء کے پاس ایک وسیع انتخاب ہے، اور وہ بھی مختلف النوع مضامین اور شعبوں میں۔

مزید پڑھیے: کیا اصلی ڈگریاں جعلی ڈگریوں سے بہتر ہیں؟

بدقسمتی سے پاکستان میں بیشتر اعلیٰ تعلیمی ادارے پچھلے کئی برس سے بڑی تعداد میں پوسٹ گریجوئیٹ اور پی ایچ ڈی افراد کی کھیپ نکالنے میں مگن ہیں، مگر اس حوالے سے نہ تو صحیح ترجیحات اور سمت کا تعین کیا گیا ہے، اور نہ ہی معیار کو مدِنظر رکھا گیا ہے۔

نتیجہ یہ ہے کہ آج کا ایک اوسط پاکستانی محقق ہر سال درجنوں کی تعداد میں ایسے تحقیقی مقالے چھاپ رہا ہے، جن کی عملی اور علمی حیثیت اس نظامِ تحقیق اور تعلیم پر از خود سوالیہ نشان ہے۔

اس پر طرفہ یہ کہ انٹرنیٹ پر ہر قسم کے مواد کی موجودگی نے دوسروں کے مواد کو چور طریقوں کے ذریعے اپنے نام سے شائع کروانے کو ایک فن کا درجہ دے دیا ہے۔

گو کہ گذشتہ چند سالوں میں ایچ ای سی کی جانب سے نقل کے ذریعے تھیسز تیار کرنے پر 36 اساتذہ کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے، تاہم اب بھی اکثریت اسی راہ پر گامزن نظر آتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر ہماری یونیورسٹیاں واقعی اس قدر اعلیٰ پائے کی ہوگئی ہیں کہ ہر سال ہزاروں گریجوئیٹس، سینکڑوں مقالے اور درجنوں پی ایچ ڈی پیدا کر رہی ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ہم اتنی بڑی تعداد میں مایہ ناز سائنسدان اور ماہرینِ معاشیات پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں؟

جس طرح نوٹ چھاپنے سے کوئی ملک امیر نہیں ہوجاتا، اس طرح افراط سے ڈگریاں بانٹنے، یونیورسٹیاں کھولنے اور مقالات چھاپنے سے بھی اعلیٰ تعلیم کا معیار بلند نہیں کیا جا سکتا۔

جانیے: اعلیٰ تعلیم ایک منافع بخش کاروبار

ماہرینِ تعلیم اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایک مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو تعلیم کو سیاست اور تجارت سے الگ کرنا ہوگا۔ پھر یہ سمجھنا ہوگا کہ جہاں بنیادی تعلیم ہر ایک کا حق ہے، وہاں اعلیٰ تعلیم، خصوصاً تحقیق اور دیگر پروفیشنل شعبوں میں مقام بنانا ہر ایک کے بس کا روگ نہیں، لہٰذا طلباء کے رجحان کو دیکھتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ مختلف فنون، ہنر کی پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت دی جانی چاہیے، تاکہ وہ زیادہ کارآمد شہری بن سکیں، جبکہ پی ایچ ڈی اور تحقیق، نیز دیگر مخصوص شعبوں میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کے لیے ان طلباء کو ترجیح دی جانی چاہیے جو متعلقہ مضامین میں اپنی مہارت، دلچسپی اور صلاحیت کا لوہا منوا سکیں۔

اس حوالے سے مختلف درجوں پر جانچ کے عمل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مؤثر اور شفاف بنانا ہوگا۔ نیز جامعات میں پڑھائے جانے والے نصاب اور طریقہء تدریس پر بھی نظرِ ثانی کی اشد ضرورت ہے۔

سالہا سال قدیم نوٹس سے روایتی لیکچروں کے ذریعے تدریس اور یادداشت اور رٹے کے بل بوتے پر امتحانات میں کامیابی وہ دیمک ہے جو ہماری یونیورسٹی نظام کی جڑوں میں سرائیت کر گئی ہے، اور اس سے چھٹکارہ پائے بغیر معیاری تعلیم کا خواب محض ایک سراب ہے۔