'سب سے پہلے ہمارا چینل'

15 مارچ 2016

Email


سنسنی خیزی اور تیز رفتاری ان نیوز چینلز کی مجبوری ہے سو ''سب سے پہلے'' ناظرین تک خبر پہنچانے کے لیے ہر جتن کیا جاتا ہے۔ — خاکہ خدا بخش ابڑو۔
سنسنی خیزی اور تیز رفتاری ان نیوز چینلز کی مجبوری ہے سو ''سب سے پہلے'' ناظرین تک خبر پہنچانے کے لیے ہر جتن کیا جاتا ہے۔ — خاکہ خدا بخش ابڑو۔

وہ ہفتے کی شام تھی سو سحر اور شمس مطمئن تھے کہ کل دفتر جانا نہیں ہے لہٰذا ٹی وی کے سامنے براجمان ہو کر مزے سے چائے کی چسکیاں لی جائیں گی اور سستایا جائے گا۔ ابھی پہلا ہی چینل لگایا تھا کہ سرخی نمودار ہوئی، ''شہر کے مرکزی مارکیٹ میں دھماکہ، درجنوں افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی۔''

بس پھر کیا تھا ہر نیوز چینل پر اسی خبر کی بازگشت تھی۔ کہیں سڑک پر خاک و خون میں لپٹے جسم تھے، تو کہیں آہ و بکا کرتی عورتوں، بچوں اور بزرگوں کے مناظر۔ ماحول چہار سو سوگوار تھا تاہم یہ تو ملک کا معمول ہے، لہٰذا سر جھٹک کر، کفِ افسوس مل کر اور ''اس ملک کا کچھ نہیں ہوگا'' کہہ کر وہ بھی رات کے کھانے کے لیے اٹھ گئے۔

حالات سے باخبر رہنے کے لیے رات گئے تک ایک کے بعد ایک نیوز چینلز چلتے رہے اور بوجھل دل اور طبیعت کے ساتھ ایک اور ویک اینڈ گزر گیا۔

یہ کوئی نئی بات تو نہیں سال 2002 میں نجی نیوز اور تفریحی چینلز کی آمد کے ساتھ ہم میں سے بیشتر افراد کی شامیں ٹی وی کے سامنے گزرتی ہیں۔ مقصد تفریح ہوتا ہے اور کبھی کبھی حالات سے آگاہی یا فطری تجّسس بھی۔

خبر کا چسکا بیشتر پاکستانی افراد کے لیے نشہ بن چکا ہے اور اس نشے کی تسکین کے لیے ایک نہیں درجنوں نیوز چینلز میدان میں آچکے ہیں۔

پڑھیے: میڈیا کا آئی ٹیسٹ

سنسنی خیزی اور تیز رفتاری ان نیوز چینلز کی مجبوری ہے۔ سو ''سب سے پہلے'' ناظرین تک خبر پہنچانے کے لیے ہر جتن کیا جاتا ہے۔ اس افراتفری میں رپورٹرز پر کیا گزرتی ہے، نیوز روم میں بیٹھے افراد کس قدر بلند فشار خون اور رات جگوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ نشریاتی ادارے خصوصاً ٹی وی چینلز کس قسم کے دباؤ، دھمکیوں اور حملوں کا سامنا کرتے ہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔

لیکن مسابقت کے اس دور میں جو سب سے زیادہ بُری طرح متاثر ہو رہا ہے وہ ایک عام ناظر ہے۔ پچھلے دِنوں کسی تقریب میں ایک ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے کہ بلڈ پریشر، امراض قلب اور نفسیاتی عوارض کے شکار مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پوچھا ''کیوں''؟ تو گویا ہوئے ''حالات، فکرِ معاش اور طرزِ زندگی۔'' کہا، کیا کریں، بولے ''توکّل، پر سکون رہو۔ ورزش کرو اور ٹی وی کمپیوٹر اور موبائل سے حتّی الامکان دور رہو، خصوصاً خبروں، تبصروں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں کی پہنچ سے دور رہو۔''

بات غور طلب ہے۔ آج ہم میں سے بیشتر افراد ایک گونا گوں بے چینی اور ہیجانی کیفیت کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ کئی لوگ ڈپریشن، تنہائی اور جذباتی خلجان کا ذمّہ دار ملکی و عالمی حالات کو ٹھہراتے ہیں۔ کچھ کے خیال میں معاشرتی مسائل کی بہتات، فکرِ معاش، پڑھائی کا بوجھ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشمکش اور بھاگ دوڑ سب مسائل کی جڑ ہے۔

بجا۔۔۔۔ لیکن اس پر سونے کا سہاگہ ہمارا میڈیا خصوصاً ایسے نیوز چینلز ہیں جن کا محور خبریں، افواہیں اور پیش گوئیاں ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ دُنیا تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ہم پہاڑ کے پیچھے ہیں اور ہمارے مسیحا، تجزیہ کار اور اینکر پرسن پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے تمام حالت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور تازہ ترین اطلاعات لمحہ بہ لمحہ نشر کر رہے ہیں۔ ان تبصروں اور تجزیوں سے کچھ اور ہو نہ ہو میڈیا پر لوگوں کا اعتبار اور اس سے وابستہ امیدیں متزلزل ضرور ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیے: نیوز چینل کوریج کرنا کب سیکھیں گے؟

امریکا میں 9/11 اور پاکستان میں 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول کے واقعے کے بعد ایسے واقعات کی نشریات خصوصاً لائیو کوریج کے حوالے سے ماہر نفسیات کئی سوال اٹھاتے نظر آئے۔ ایسے ہی واقعات کے تناظر میں کئی نشریاتی اداروں اور اخباری تنظیموں نے واضح پالیسی اور صحافیوں کی تربیت کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ کچھ پاکستانی چینلز اپنے طور ایک ضابطہ اخلاق بھی وضع کیا جس کے تحت اِن سانحات کی براہِ راست کوریج، زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کے کلوز اپ وغیرہ دکھانے پر پابندی بھی عائد کی گئی، تاہم گاہے بہ گاہے ہمیں ایسے مناظر اب بھی نظر آتے رہتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق ایسے سانحات کی طویل اور لائیو کوریج سے نیوز چینلز کو تو بلاشبہ زیادہ ریٹنگز ملتی ہیں، مگر ناظرین، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں پر اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اپنی ہی عمر کے لوگوں کو ظلم، تکلیف اور موت کا شکار ہوتے دیکھنا شدید صدمے، مایوسی، بے خوابی اور بے چینی کا سبب بنتا ہے، جس کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی، لیکن بادی النظر میں یہی وجہ ہے۔

پاکستان میں اس حوالے سے کی گئی دور ریسرچز آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔ 2009 میں برطانیہ کی ساؤتھیمپٹن یونیورسٹی اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی تحقیق کے مطابق اسلام آباد میں جن گھرانوں کا سروے کیا گیا ان میں تقریباً 45 فیصد ایسے تھے جو اپنے ذاتی حالات اور ٹی وی پر دکھانے جانے والے سانحات کے پیش نظر شدید ذہنی و جذباتی دباؤ (Post traumatic stress disorder) کا شکار پائے گئے۔ سروے کا مقصد ٹی وی پر نشر ہونے والی منفی خبروں کے اثرات کا جائزہ لینا تھا۔

پڑھیے: پاکستانی چینلز کی بناکا گِیت مالا ہیڈ لائنز

ایسی ہی ایک تحقیق تقریباً 400 افراد پر کراچی میں تین سال قبل ہوئی جس کے مطابق 68 فیصد افراد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ خبروں کے حصول کے لیے ٹی وی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ جبکہ ان میں سے تقریباً 43 فیصد افراد ذہنی دباؤ کا شکار پائے گئے جس کا ایک اہم مُحّرک نیوز چینلز تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا نیوز چینلز خبریں دینا بند کردیں؟ آخر کار یہ تو اُن کا کام ہے اور بہرحال اُن ہی کی وجہ سے تو عوام النّاس باخبر اور باعقل ہوگئے ہیں۔

پھر کسی پر کوئی جبر بھی نہیں۔ ٹی وی کا ریموٹ تو بہرحال ناظر کے ہاتھ میں ہی ہوتا ہے۔ لیکن بھلا ہو اِس انفارمیشن ایج کا جہاں خبریں بنتی ہیں، بکتی ہیں اور باسی ہوجاتی ہیں بالکل گرم گرم پکوڑوں اور رسیلی جلیبیوں کی طرح، اور ہمارے ناظر کی بھوک کو آج کے نیوز چینلز نے اِس قدر بڑھا دیا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اِس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

سو ہر سُو خبروں کا بازار گرم ہے۔ ہر روز اسکرپٹ بنتے ہیں، پڑھے جاتے ہیں اور پھر اُن پر تبصروں، تنقید کا سلسلہ شروع اور اگلے دن ایک اور بنتی خبر۔۔۔۔ دیکھتے ہیں کہ سلسلہ کہاں جا کے رُکتا ہے؟