بلاک شناختی کارڈ کھلوانے کا اذیت ناک تجربہ

اپ ڈیٹ 21 مارچ 2016

ای میل

بھائی کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا مگر کسی بھی متعلقہ ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ بلاک کیا کیوں گیا ہے۔ — فوٹو ڈان ڈاٹ کام۔
بھائی کا شناختی کارڈ بلاک کر دیا گیا مگر کسی بھی متعلقہ ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ بلاک کیا کیوں گیا ہے۔ — فوٹو ڈان ڈاٹ کام۔

گزشتہ سال عیدالاضحیٰ سے 2 روز قبل اسلام آباد میں آفس سے عید کی چھٹیاں ملیں اور میں اپنے چھوٹے بھائی اور صاحبزادی کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت کے ایئرپورٹ پر اپنے بڑے بھائی کو لینے کے لیے گیا جو سعودی عرب سے 2 ماہ کی چھٹی لے کر آئے تھے۔

میں عید کی چھٹیاں گزار کر واپس اسلام آباد آیا تو چند روز بعد سعودی عرب سے آئے بڑے بھائی کا ٹیلی فون آیا اور کہا کہ وہ فرنچائز پر موبائل سم خریدنے گئے تھے لیکن انگوٹھے کے نشان کی تصدیق نہیں ہوئی اور فرنچائز والے نے کہا کہ نادرا سے رجوع کیا جائے۔ نادرا کی ہیلپ لائن پر کال کی تو معلوم ہوا کہ بھائی کا شناختی کارڈ بلاک ہو چکا ہے۔

بلاک شناختی کارڈ کا سر درد

اب سمجھ یہ نہیں آرہا تھا کہ جائیں تو کہاں جائیں؟ نادرا والوں کو خود نہیں معلوم تھا کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔ نادرا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد گیا تو انہوں نے بتایا کہ بھائی کو ضلعی نادرا آفس بھیج کر بدھ کے روز 7 اکتوبر کو اپنے شجرہء نسب کے جن افراد کے قومی شناختی کارڈ بن چکے ہیں، ان کے اصل شناختی کارڈز فوٹو کاپیوں کے ہمراہ لا کر نقلیں نادرا کے افسران پر مشتمل بورڈ میں جمع کروائیں اور ایک سے تین ہفتوں تک انتظار کریں۔

پھر بھاگ دوڑ کر کے معلوم ہوا کہ 17نومبر کو مردان پولیس لائن میں جوائنٹ ویری فکیشن کمیٹی (جے وی سی) بیٹھے گی جس میں بھائی کا انٹرویو ہوگا۔ 17 نومبر کو مردان پولیس لائن گئے۔ وہاں جے وی سی بیٹھی تو انہوں نے بھائی کو بلا لیا اور ساتھ ہی مجھے بھی بھائی کے ہمراہ جے وی سی میں بیٹھنے کی اجازت دے دی۔

جے وی سی کے سامنے ہمارے شجرہ نسب کے تمام شناختی کارڈز کا جائزہ لیا گیا اور ہم سے پوچھا گیا کہ قومی شناختی کارڈ کیوں بلاک کیا گیا ہے۔ اس سوال کا جواب میرے پاس تھا نہ بھائی کے پاس۔ میرے دادا اور والد پاک فوج سے ریٹائرڈ ہیں جبکہ میرے سب سے بڑے بھائی اور ماموں پاک فوج میں حاضر سروس ہیں، ان کے کارڈز کا بھی جے وی سی میں جائزہ لیا گیا اور چند ایک سوالات کے بعد کمیٹی نے بھائی کو کلیئر کردیا۔

17 نومبر کو جے وی سی نے بیٹھنا تھا اور بھائی کی سعودی عرب سے چھٹی بھی ختم ہو گئی تھی۔ میرے بھائی واپس جانا چاہتے تھے لیکن شناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث مقررہ وقت پر نہ جا سکے اور یوں بھائی نے سعودی عرب سے مزید 15 روز کی چھٹی لے لی۔

جے وی سی نے بھائی کے کلیئرنس کے لیے لیٹر پشاور اسپیشل برانچ آفس کو 20 نومبر کو بذریعہ ڈاک بھیج دیا۔ اس دوران بھائی گھر میں بیٹھے بیٹھے اور شناختی کارڈ کے مسئلے کی وجہ سے نادرا اور پولیس، آئی بی کے دفاتر میں چکر لگا لگا کر تنگ آگئے تھے، اور ان کی توسیع شدہ چھٹی بھی ختم ہو چکی تھی۔ وہ یہ سمجھے کہ مسئلہ اب حل ہو چکا ہے کیونکہ جے وی سی اپنا کام مکمل کر چکی ہے اور انہیں کلیئر بھی کیا جا چکا ہے، تو شاید تمام متعلقہ حکام تک جے وی سی کی سفارش پہنچ چکی ہوگی۔

کسی بھی جگہ سے شناختی کارڈ کی حتمی پوزیشن معلوم نہ ہونے پر بالآخر بھائی یکم دسمبر کو سعودی عرب جانے کے لیے کراچی چل دیے۔

جوں ہی وہ ایئر پورٹ میں کاونٹر پر گئے وہاں امیگریشن اور ایف آئی اے نے بھائی کو گرفتار کر لیا، کیونکہ کاؤنٹر پر جیسے ہی امیگریشن والوں نے ان کے کوائف کمپیوٹر میں چیک کیے، تو ان کا نام ابھی تک بلیک لسٹ میں موجود تھا۔

وہ پوری رات بھائی نے کراچی ایئرپورٹ پر گزاری، ان کے سامان کی تلاشی سمیت باقی ساری تفتیش بھی کی گئی لیکن ایف آئی اے اور امیگریشن والے خود لاعلم تھے کہ آخر میرے بھائی کا مسئلہ کیا ہے؟ کیوں ان کو بلیک لسٹڈ کیا گیا ہے؟ میں نے خود ایف آئی اے کو بھائی کے شناختی کارڈ کا معاملہ بتایا تو انہوں نے بھائی سے پوچھا کہ اس وقت شناختی کارڈ کے معاملے کی کیا پوزیشن ہے۔

بھائی نے بتایا کہ جے وی سی تو انہیں کب کا کلیئر کر چکی ہے۔ ایف آئی اے نے نادرا پشاور کے ڈی جی کو فون کیا تو ان کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ معاملہ تاحال ان کے پاس نہیں پہنچا۔ ڈی جی نادرا پشاور نے ایف آئی اے افسران کو یقین دہانی کروائی کہ اگر یہ معاملہ ان کے پاس پہنچا تو وہ اس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔

اگلی صبح بھائی کو ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر لے جایا گیا۔ میرے چچا نے ایف آئی اے کے آن ڈیوٹی ڈائریکٹر سے بات کی۔ ایف آئی اے ڈائریکٹر نے پہلے تو نادرا سے ویری فکیشن لیٹر مانگا لیکن نادرا نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ معاملہ ہمارے پاس نہیں۔ 4 دسمبر کی صبح بھائی کو ایف آئی اے پشاور کے حوالے کر دیا گیا۔ صبح 10 بجے میں ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر گیا اور وہاں اپنی ضمانت پر بھائی کو ساتھ لے کر گھر پہنچا دیا۔

شناختی کارڈ کی تصدیق کا مشکل مرحلہ

اسی روز پشاور اسپیشل برانچ پولیس کے آفس میں بھائی کے کیس کا پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے معاملہ نادرا پشاور کو بھیجا ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے اسپیشل برانچ آفس سے یہ معاملہ نادرا آفس کو ایک ہفتے میں پہنچا لیکن وہاں سے بھائی کے نام میں غلطی ہوئی تھی اور اس میں خالد اقبال کی جگہ خالق اقبال لکھا گیا تھا۔

نادرا والوں نے بتایا کہ یہ غلطی مردان میں جے وی سی سے فارورڈ ہوئی ہے۔ مردان میں جے وی سی کے متعلقہ پولیس اہلکاروں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ غلطی اسپیشل برانچ والوں سے ہوئی ہے۔ نام کی غلطی کا یہ معاملہ نہ ہی جے وی سی کے افسران اور نہ ہی اسپیشل برانچ والے تسلیم کرنے پر تیار تھے۔

اسپیشل برانچ کے ایک لیگل ایڈوائزر سے رابطہ کیا تو انہوں نے معاملہ حل کروانے کی یقین دہانی کروائی اور یوں یہ معاملہ دوبارہ 21 دسمبر کو پشاور اسپیشل برانچ آفس سے نادرا کو پہنچ گیا۔

21 دسمبر سے 25 دسمبر تک نادرا پشاور والے خود بھی کنفیوژ تھے کہ شناختی کارڈ کی حتمی تصدیق اسلام آباد نادرا ہیڈ کوارٹر یا پشاور نادرا ہیڈ کوارٹر سے ہوگی۔ اس دوران ہمیں بتایا گیا کہ یہ معاملہ اب دوبارہ مردان جائے گا اور ضلعی نادرا افسر اس کی تصدیق کرے گا۔ 26 دسمبر کو یہ معاملہ بذریعہ نادرا کمپیوٹر سسٹم مردان بھیجا گیا اور 28 دسمبر کو میں نے مردان نادرا آفس کے ضلعی انچارج سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ایک دو دن میں کام مردان سے مکمل ہو جائے گا۔

مردان نادرا آفس پر خودکش حملہ

29 دسمبر کو نادرا مردان آفس پر خودکش حملہ ہوا اور میرے بھائی کا معاملہ مزید لٹک گیا۔ مردان نادرا آفس میں 15روز تک احتجاج کے باعث ہمارے کام میں تاخیر ہوئی۔ مردان نادرا آفس سے بھائی کی فائل پشاور نادرا کو 29 جنوری کو موصول ہوئی۔

پشاور نادرا آفس کے ویجیلنس افسر، ویری فکیشن افسر اور ایڈمنسٹریشن افسر سمیت مختلف اہلکاروں سے خود ملاقاتوں کے بعد رابطے بھی جاری رہے۔ کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اب بھائی کے شناختی کارڈ کا حتمی معاملہ کہاں جا کر ختم ہوگا۔

چنانچہ میں خود اسلام آباد نادرا ہیڈ کوارٹر گیا اور وہاں چیئرمین نادرا کے پی اے سے ملاقات کی۔ انہوں نے آگے ایک اور ویری فکیشن افسر کے پاس بھیجا۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ نادرا کے تمام ہیڈ کوارٹر کو آگاہ کر چکی ہے کہ جس صوبے کے رہائشی کا کارڈ بلاک ہوگا اس کی حتمی ویری فکیشن صوبائی ہیڈ کوارٹر ہی کرے گا۔

آخرکار شناختی کارڈ ایکٹیو ہوا

29 جنوری کے بعد میں خود دو بار اور ایک بار بھائی خود پشاور نادرا آفس گئے لیکن کارڈ کی کلیئرنس نہ ہو سکی۔12 فروری بروز جمعہ پشاور نادرا آفس سے کال موصول ہوئی اور مجھے یہ 'خوشخبری' دی گئی کہ خالد اقبال ولد امان الملک کے شناختی کارڈ کا معاملہ حل ہو چکا ہے اور یوں میں نے اور بھائی نے تھوڑا سکھ کا سانس لیا۔

اب مسئلہ ایف آئی اے پشاور سے بھائی کے پاسپورٹ اور انگلش کارڈ کے حصول کا تھا۔ اس سے متعلق معلوم ہوا کہ نادرا کیاسک سے ویری فکیشن رسید ملتی ہے جس کی فیس بھر کر بھائی ایف آئی اے پشاور گئے لیکن وہاں بتایا گیا کہ پاسپورٹ کے حصول کے لیے ڈی جی نادرا اور پاسپورٹ آفس کی کلیئرنس کی ضرورت ہے۔

ایف آئی اے پشاور سے بڑی مشکل کے بعد بائی ہینڈ پاسپورٹ آفس کے نام لیٹر لیا گیا اور وہی لیٹر پاسپورٹ آفس میں جمع کر کے شناختی کارڈ کی ویری فکیشن کے دوران جمع کروائے گئے شجرہء نسب کے سارے شناختی کارڈز جمع کیے اور اگلے روز ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن سے ملاقات کے لیے وقت لے لیا۔ اگلے دن ملاقات کے بعد ڈی جی صاحب نے ایف آئی اے کے لیٹر پر بی ایل سیکشن کو جلد از جلد معاملہ نمٹانے کی ہدایت کی اور یوں انہوں نے چیئرمین نادرا سے بھائی کے شناختی کارڈ کی ویری فکیشن کے لیے ایک اور لیٹر بائی ہینڈ دے دیا۔

شناختی کارڈ بلاک ہونے کی وجہ؟

پاسپورٹ آفس کے بلیک لسٹ سیکشن کے انچارج نے بتایا کہ میرے بھائی پر سعودی عرب سے مشکوک ہونے کی شکایت ہوئی تھی اور اسی طرح 24,883 افراد کے پاسپورٹ پاکستانی سسٹم میں بلاک ہو چکے تھے جس میں خالد اقبال ولد امان الملک کا نام بھی شامل ہے۔

بالآخر ہمیں آخری مرحلے پر معلوم ہوا کہ شناختی کارڈ بلاک ہونے کی اصل وجہ ہے کیا۔ 2007 میں میرے بھائی سعودی عرب میں جس کمپنی میں کام کرنے گئے تھے، وہاں کام چھوڑ کسی اور جگہ اس سے اچھا کام ڈھونڈا تھا۔ یوں بھائی کا پاسپورٹ پہلے والے کفیل نے واپس نہیں کیا، لہٰذا سعودی قانون کے مطابق وہ گرفتار ہوئے اور 2009 میں پاکستان بھیج دیے گئے۔

2013 میں نئے پاسپورٹ کے لیے درخواست دی تو پاسپورٹ آفس کو اس بات سے آگہی تھی کہ بھائی کا ایک پاسپورٹ پہلے موجود ہے لیکن سعودی عرب میں رہ گیا ہے۔ دوسرا پاسپورٹ بغیر کوئی اعتراض لگائے بنا دیا گیا۔ جب وہ دوبارہ گئے تو دو سال بعد سعودی عرب میں پاسپورٹ کی تجدید کروانی پڑی اور جولائی 2015 میں جس دن رینیو پاسپورٹ ملا، اسی روز بھائی کا شناختی کارڈ بھی بلاک ہو گیا۔

دوبارہ نادرا کے چکر

وہ لیٹر لے کر میں بھائی کے ہمراہ دوبارہ چیئرمین نادرا کے پی اے سے ملا اور انہوں نے ہیڈ آفس میں این ایف سی ڈیپارٹمنٹ بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ پشاور آفس نے ویری فائے کیا ہے، لہٰذا وہاں ہم لیٹر بھیجیں گے اس کے جواب میں پاسپورٹ آفس کو جواب دیا جائے گا اور اس کے لیے انہوں نے کم از کم 10 سے 15 دن مانگے۔

20 فروری کو پشاور نادرا آفس نے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کو آگاہ کردیا کہ خالد اقبال کی مکمل ویری فکیشن ہو چکی ہے اور یوں یہاں سے لیٹر لے کر پاسپورٹ آفس دوبارہ گئے اور ان کو لیٹر دے دیا گیا۔

اس لیٹر کے بعد پاسپورٹ آفس ہمیں ایف آئی اے کے نام لیٹر دے گا اور وہ لیٹر لے کر بھائی ایف آئی اے پشاور سے اپنا پاسپورٹ اور انگلش کارڈ وصول کر سکیں گے، اور یوں یہ سارا معاملہ آخر کار ختم ہوجائے گا۔

ذمہ دار کون؟

سعودی عرب میں میرے بھائی میریٹ ہوٹل میں خوشحال تھے اور اچھی خاصی تنخواہ لے رہے تھے۔ اب ان کا ویزا مذکورہ معاملے کے باعث ایکسپائر ہو چکا ہے، حالانکہ ہم بھائی کے معاملے سے لمحہ بہ لمحہ بھائی کی سعودی کمپنی کو آگاہ کرتے رہے اور اقامہ کی ایکسپائری سے چند روز قبل سعودی سفارتخانے کو بھی سارے معاملے سے آگاہ کیا گیا، لیکن کہیں سے بھی کوئی اچھی خبر موصول نہیں ہوئی۔

بھائی کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے معاملے سمیت ان کی کراچی میں گرفتاری، اذیت، پریشانی، مشکلیں، والدین اور دیگر پورے خاندان کی پریشانیوں کے علاوہ ویزے اور اقامہ کی ایکسپائری کا ہمارا اب تک معاشی لحاظ سے لاکھوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور اس کے علاوہ بھائی کی بے روزگاری الگ ہے۔

اس پورے اذیت ناک مرحلے سے بھائی شدید ڈپریشن میں چلے گئے ہیں اور اب کسی صورت بیرونِ ملک جانے کے لیے تیار نہیں۔

اگر ہمارے کیس میں دوسرا پاسپورٹ بنوانا ہماری غلطی تھی، تو اس حوالے سے محکمہء پاسپورٹس کو پہلے ہی نشاندہی کر دینی چاہیے تھی۔ اور اگر پہلے کوئی اعتراض موجود نہیں تھا، تو پھر تجدید کے وقت اعتراض چہ معنی؟

جے وی سی اپنی طرف سے پہلے ہی دن معاملہ کلیئر کر چکی تھی، مگر جس طرح لیٹر بھیجنے میں تاخیر اور پھر ان کے نام میں غلطی ہوئی، وہ نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے۔ دھڑا دھڑ شناختی کارڈ بلاک ہو رہے ہیں لیکن ان کو واپس ایکٹیو کیسے کرنا ہے، اس حوالے سے کئی دفاتر اور افسران کو اپنا کام معلوم نہیں تھا۔ اس سے پیدا ہونے والی پریشانی ہم نے اٹھائی ہے، کسی اور نے نہیں۔

کیا ایک ایسا مرکزی کمپیوٹرائزڈ نظام وضع نہیں کیا جا سکتا جس تک تمام سکیورٹی اور شناختی اداروں بشمول امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی رسائی ہو؟

اس سے نہ صرف ان لوگوں کے لیے آسانی ہوگی جن کے کارڈز بلاک ہوچکے ہیں، بلکہ مجاز افسران کے لیے بھی آسانی ہوگی۔


متعلقہ مضامین

تصدیق پر تصدیق پھر بھی جعلسازی

ایک لاکھ پاکستانی ’مشتبہ غیرملکی‘ قرار

افغان خاتون کو پاکستانی شناختی کارڈ جاری ہونے کا انکشاف