شرمناک یومِ تاسیس

اپ ڈیٹ 26 اپريل 2016

ای میل

سیاست مہذب معاشرے کا ایک اہم جزو ہے۔ پر ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس مہذب معاشرے کی تعمیر کا فن ہو یا نہ ہو، رہی سہی تہذیب ختم کرنے کا فن بخوبی موجود ہے، جس کا اندازہ مجھے اتوار کے دن منعقد کردہ پاکستان تحریک انصاف کے جلسہء یومِ تاسیس میں جا کر ہوا۔

زیادہ تمہید کی ضرورت نہیں، مگر بتانے کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ خان صاحب نے پارٹی کے 20 سال پورے ہونے کا جشن سجایا، جسے بدقماشوں نے خوب رج کے منایا۔

جو آنکھوں نے دیکھا، اس کی من و عن منظر کشی مناسب نہیں، مگر یہ کوئی ساڑھے نو بجے کا وقت تھا۔ کنٹینر پر بنے ڈائس سے کپتان خان ملک میں نظامِ شریعت، خواتین کے حقوق اور خود موصوف کی عظیم خدمات گنوا رہے تھے۔

اسٹیج سے چند گز کے فاصلے پرخواتین انکلوژر تھا جو خار دار تاروں سے گھرا تھا۔ اوپر خان صاحب زور خطابت دکھا رہے تھے، نیچے ان کے کارکن نہتی خواتین پر زورِ بازو آزما رہے تھے۔ میں نے ساتھی رپورٹر کو کہا کہ اوچھے نوجوان دانت نکالے دیوانہ وار عورتوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ عمران خان نے دورانِ تقریر دو بار اپنے انصافینز کی ہذیانی کیفیت کو دیکھا ہے، نوٹس ضرور لیا جائے گا ... مگر کہاں جناب۔

پڑھیے: کردار کی 'مشکل تبدیلی' کون لائے گا؟

اوپر لیڈر صاحب تقریر جھاڑتے رہے، نیچے ان کی پارٹی کارکنان کی عزتیں اچھالی جاتی رہیں۔ میں اپنے کیمرا مین کے ساتھ کھڑی اسی خوش فہمی میں مبتلا رہی شاید اب کوئی سخت تنبیہ آئے، شاید کہ اب خان صاحب کی غیرت جوش مارے، مگر لیڈر نے تیرے میرے سب کے احتساب کا مطالبہ بارہا دہرایا، مگر اپنی ناک کے نیچے خواتین کی عزتوں سے ہونے والے کھلواڑ پر ناپسندیدگی کا اک حرف نہ اگلا۔

چھوڑیے صاحب، کیسا لیڈر کہاں کی لیڈری جو اپنے ہی آپے سے باہر کارکن نہ سنبھال پائے؟ تولیدی عمل سے متعلق الطاف حسین کے 'فکر انگیز' لیکچر پر تنقید تو کی جاسکتی ہے، مگر یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ایم کیو ایم اپنے کارکنوں کی ایسی تربیت اور تنظیم سازی کرتی ہے، جہاں لیڈر کے بے سر و پا خطاب کو بھی کارکن ایسے سنتے ہیں جیسے سر ہلایا تو چڑیا اڑ جائے گی۔

پی ٹی آئی تو ایم کیو ایم کے ان جلسوں کا عشر عشیر بھی نہیں جن میں ہزاروں کے مجمعے میں کسی کمبخت کی مجال نہیں جو کسی خاتون کو چھو بھی سکے۔ مختصر یہ کہ نہ جانے کس خمار میں چور تحریک انصاف کے کارکن اپنی ہی پارٹی کی معزز خواتین کارکنان پر ٹوٹ پڑے۔

بہکے بہکے قدموں کے بیچ میں جو خار دار تاریں آئیں وہ اس مجمعے نے اکھاڑ پھینکیں۔ خان صاحب فرما رہے تھے کہ ملک میں بھوک ہے، بدحالی ہے، واقعی جلسے میں شریک مردوں کی اکثریت جیسے کسی شدید جنسی بھوک سے بدحال تھی۔ وہ نہ کسی ماں کے لعل لگ رہے تھے نہ کسی بہن کے بھائی۔

تاریخ کے اوراق خواتین کی آمریت کے خلاف مزاحمت سے بھرے پڑے ہیں۔ وہ تحریکیں ایسی جمہوریت کے لیے ہرگز نہیں تھیں جہاں سیاسی جلسوں میں عزتوں کو پامال کیا جائے، بلکہ ان کا مقصد خواتین کو مساوی حقوق دلوانا اور ملک میں روشن خیالی کو بیدار کرنا تھا۔

ہمارے ملک کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے اور ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لیے خواتین کی سیاست میں شمولیت لازمی و ملزوم ہے۔ لیکن اگر پاکستان تحریکِ انصاف جیسی جماعت جو بوسیدہ اور گلے سڑے نظام کو بدل دینے کی علمبردار ہے، اس کے جلسوں میں بھی اس طرح کے واقعات ہوں گے، تو خواتین سیاسی عمل کا حصہ کیسے بنیں گی؟

عمران خان نے خواتین کی اپنی سیاسی جماعت میں آنے کے لیے ہمت تو بہت بندھائی تھی، اور کنٹینر پر خواتین کو جمہوری حقوق دلوانے کے وعدے بھی ببانگِ دہل کیے، لیکن یہ کیا خان صاحب، آپ کی آنکھیں تو ایک چھوٹے سے میدان میں ہونے والی بدسلوکی کو نہ دیکھ سکیں، تو ایوانِ بالا سے ملک بھر میں ہونے والی بدسلوکی پر آپ کیسے ردِ عمل دیں گے؟

عمران خان صاحب ہمیں معلوم ہے کہ آپ کی سیاست روشن خیالی پر یقین رکھتی ہے لیکن اسی روشن خیالی میں سے تھوڑی روشنی نکال کر تاریک جلسہ گاہ پر ڈالیے، اور دیکھیے کہ کہیں آپ کے کارکن ایسی حرکتیں تو نہیں کر رہے جس کی وجہ سے مخالفین کو آپ پر انگلیاں اٹھانے کا موقع ملے، اور آپ کا سر شرم سے جھک جائے؟

اگر ایسی بے غیرتی پر ماتم کرتی خواتین کے نوحے آپ کی سماعت بے پرواہ تک پہنچ پائیں تو پارٹی کے 20 سال پورے ہونے کا ایسا شرمناک جشن منانے پر اگلے اتوار اسی ایف نائن پارک میں صاف شفاف تحریک انصاف کی رسم قل رکھ لیجیے گا۔ اور اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو کم از کم ایک مذمتی بیان ہی جاری کر دیں؟