سیاسی دکانیں اور جنسِ ضرورت

اپ ڈیٹ 11 مئ 2016

Email


پاکستانی معاشرے کی کوئی بھی سیاسی پارٹی عوامی حقوق تو دور، اپنے اپنے مخصوص طبقے کے حقوق کی بھی محافظ نہیں۔
پاکستانی معاشرے کی کوئی بھی سیاسی پارٹی عوامی حقوق تو دور، اپنے اپنے مخصوص طبقے کے حقوق کی بھی محافظ نہیں۔

گذشتہ دنوں اسلام آباد اور کراچی میں دو سیاسی جماعتوں نے ’بھرپور طاقت‘ کا مظاہرہ کیا۔ اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف، جبکہ کراچی میں نومولود پاک سرزمین پارٹی نے جلسے اور ریلیاں منعقد کیں۔ یہ پاکستان تحریکِ انصاف کا تاسیسی جلسہ تھا جبکہ پاک سر زمین پارٹی کی پہلی ریلی۔

سیاسی جماعتوں کے پاس بہت سارے لوگ ہوتے ہیں اور ان لوگوں کے پاس کہنے کو بہت ساری باتیں۔ ان کو ڈرانے کے لیے بہت خوفناک اور تباہ کن حدشات، حادثات اور حکایات، جبکہ ان کو بہکانے کے لیے رنگین جھوٹ، میٹھے جھوٹ اور نمکین جھوٹ بھی ہوا کرتے ہیں، جن کو استعمال کر کے سپورٹر کو ووٹر میں تبدیل کیا جاتا ہے، اور ووٹر کو کارکن میں۔

ان سیاستدانوں کے پاس سب کچھ ہے اور ان کی دوکانیں بھی ہر طرح کے رنگ برنگے مال سے بھری پڑی ہیں جسے دیکھنے سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں، لیکن یہاں کسی اصل خریدار کو 'جنسِ ضرورت' میسر نہیں۔

جمہوری معاشروں میں سیاسی جماعتیں عوامی حقوق کی علمبردار ہوتی ہیں۔ وہ عوام کی ضرورت اور خواہش سے ہٹ کر کچھ نہیں ہوتیں۔ اگرچہ یہ بحث اپنی جگہ کہ کون سی سیاسی پارٹی کس طبقے کی نمائندہ ہوتی ہے اور کون سی کس کی، مگر ہر سیاسی پارٹی کم از کم اپنے طبقے اور اپنے ایجنڈے کے حقوق کی محافظ اور مبلغ ضرور سمجھی جاتی ہے۔

پاکستانی معاشرہ اس حوالے سے خاصہ عجیب ہے کہ یہاں کوئی بھی سیاسی پارٹی عوامی حقوق تو دور، اپنے اپنے مخصوص طبقے کے حقوق کی بھی محافظ نہیں۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں دراصل جماعتیں نہیں افراد ہیں، اور خاصے بے حس افراد۔ ایسے افراد جن کو اپنی ذات سے باہر کچھ نظر نہیں آتا۔ اور یہ بات دائیں سے بائیں بازو (اگر کوئی ہے تو) کی تمام سیاسی پارٹیوں اور افراد کے حوالے سے درست ہے۔

ذرا غور سے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا جائزہ لیں تو مرکزی دھارے کی تمام جماعتیں صرف اور صرف شخصیات کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ پھر کسی جماعت میں وہ شخصیت پرستی پچھلے 10 سال سے چل رہی ہے، کسی میں 20 سال سے، تو کسی میں 30 سال سے۔

لیکن جب جماعتیں شخصیات کے گرد گھومنے لگ جائیں، تو وہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اچھی حکمرانی، یا گڈ گورننس کی مثال قائم نہیں کر سکتیں۔

زندہ رہنے کا حق ہر انسان کا بنیادی حق ہے، لیکن حیرانی کی بات یہ کہ ترقی اور تبدیلی کی دعویدار سیاسی پارٹیاں کبھی بھی اس حق کی علمبردار نہیں بنتیں۔

پاکستان ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے، اور محتاط اندازوں کے مطابق اب تک تقریباً 70 ہزار سے زیادہ پاکستانی دہشت گردی کے ہاتھوں لقمہءِ اجل بن چکے ہیں، جبکہ اربوں روپے کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔

کروڑوں کی آبادی کے اس ملک میں لاکھوں لوگ آئے روز ہونے والی دہشت گردی سے سینکڑوں طرح کی ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہیں، تو ایسے حال میں ہر صاحبِ خرد و عقل کی پہلی ضرورت امن سے جینے کا حق ہے، کیونکہ جان ہے تو روٹی کپڑا اور مکان ہے، جان ہے تو روشن اور نیا پاکستان ہے۔

پی ٹی آئی نے اپنے جنم کا جشن منایا پر سوال یہ ہے کہ یہاں اس کے کتنے ہی ووٹر اور سپورٹر امن اور دہشت گردی پر اپنی جماعت کا مؤقف جاننے سے پہلے ہی دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔ جنم کا جشن تو ہے پر اپنوں کے ’مرن کا ماتم‘ کوئی نہیں۔

عام عوام تو عام، سورن سنگھ، جو کہ پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی اور اقلیتی اُمور کے صوبائی مشیر تھے، کو اس جلسے سے چند دن قبل بونیر میں دہشت گردی کا نشانہ بنا دیا گیا، اور پی ٹی آئی کا غم اور غصہ چند ٹویٹ سے زیادہ کچھ نہ کروا سکا۔

کیا پی ٹی آئی کے نزدیک یہ واقعہ اتنا بڑا نہیں تھا؟ کرپشن اور دھاندلی کے خلاف چار مہینوں تک دھرنا دیا جا سکتا ہے مگر اپنے صوبائی اسمبلی کے ممبر کے قتل پر کھلے بندوں مذمت تک نہیں کی جا سکتی؟

جو سیاسی جماعتیں، اور میرے خیال میں پاکستان کی سبھی سیاسی جماعتیں، اپنے ارکانِ اسمبلی، وزیروں اور مشیروں کے زندہ رہنے کے حق کا دفاع نہیں کر سکتیں، وہ عام عوام کی زندگی کا تحفظ کیا کریں گی اور کیا کروائیں گی؟

آج جنسِ ضرورت دہشتگردی کے خلاف واضح اور دو ٹوک مؤقف کا ہونا اور اس کے خاتمے کے لیے ایک پلان کا ہونا ہے، جو کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے عمل تو خیر عمل، منشور اور گفتار کا حصہ تک نہیں۔

نیشنل ایکشن پلان پر تنقید کرنے والے بہت ہیں، لیکن اس کے علاوہ اور کیا کیا جا سکتا ہے اور کیا کیا جانا چاہیے، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کو ہی دیکھ لیں۔ پانچ سال مرکز میں اور سات سال سے زائد عرصے تک صوبے میں حکمرانی کرنے کے باوجود بھی دہشت گردی کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھا سکی، حالانکہ دہشتگردی کے ہاتھوں سے زیادہ نقصان بھی اسی سیاسی جماعت نے اٹھایا۔

لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی کا حالیہ کام صرف نیشنل ایکشن پلان پر تنقید کرنا اور اسے ن لیگ کا ایکشن پلان قرار دینا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کو دیکھیں تو اس نے ہمیشہ پنجاب میں کسی بھی طرح کے آپریشن کی مخالفت کی حالانکہ دفاعی ماہرین کے مطابق پنجاب بھر میں دہشتگردوں کے لاتعداد محفوظ ٹھکانے موجود ہیں۔

اگر پاکستان کی پرانی اور سب سے بڑی سیاسی دوکانوں سے دہشت گردی مخالف کوئی جنس میسر نہیں، تو پاک سرزمین والوں کا تو ابھی افتتاح ہوا ہے۔