کیا بلا اجازت کسی کی تصویر لینا درست ہے؟

اپ ڈیٹ 20 جون 2016

ای میل

ہمارے ہاتھوں میں موجود ریکاڈنگ کی ان چھوٹی ڈیوائسز کی طاقت کو استعمال کرتے وقت اخلاقی تقاضوں کا بھی احساس کرنا چاہیے — تصویر پردیپ گوئر/ لو منٹ
ہمارے ہاتھوں میں موجود ریکاڈنگ کی ان چھوٹی ڈیوائسز کی طاقت کو استعمال کرتے وقت اخلاقی تقاضوں کا بھی احساس کرنا چاہیے — تصویر پردیپ گوئر/ لو منٹ

تصور کریں کہ ایک خاندان کے افراد کسی مہنگے ریسٹورینٹ میں آرام سے بیٹھ کر ایک دوسرے کے ساتھ مزیدار باتیں کر رہے ہیں اور ان کے آگے شاہانہ کھانے موجود ہیں۔ جبکہ ان کی میز کے بائیں جانب عام سے کپڑے پہنے ایک چھوٹی لڑکی بیٹھی ہے جو ان لوگوں کی طرح مطمئن نظر نہیں آ رہی، اور اس کے آگے کھانا بھی موجود نہیں ہے۔

آپ کو یہ منظر شاید دیکھا سا لگے؛ یا تو آپ نے حقیقت میں ریسٹورنٹس میں لوگوں کی خدمت میں پیش پیش ان کے ملازم کو دیکھا ہوگا، یا شاید آپ نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل خفیہ طریقے سے کھینچی ہوئی تصویر دیکھی ہوگی۔

مگر سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح تصویریں کھینچنا درست ہے؟

لوگ کس طرح اپنے ملازموں سے پیش آتے ہیں، یقیناً اس موضوع پر بحث اور نظرثانی کی ضرورت ہے۔ مگر اس چیز کو منظر عام لانے کے لیے لوگوں سے بغیر اجازت لیے تصاویر کھینچنے کا رجحان درست نہیں ہے۔ اکثر و بیشتر لوگ موقع ہاتھ سے نہ جانے دینے کے لیے لوگوں سے اجازت لیے بغیر ان کی تصاویر کھینچ لیتے ہیں۔

تصاویر میں نمایاں کیے جانے والے افراد خود تو سوشل میڈیا پر بحث کا حصہ نہیں بن پاتے، مگر یہ تصاویر ہزاروں لوگ دیکھتے ہیں اور ان کی بدقسمتی پر کمنٹس کرتے ہیں۔

یہ طریقہ سماجی تبدیلی لانے کا ایک غلط طریقہ ہے۔

اسمارٹ فونز میں ٹیکنالوجیکل اصلاحات کی وجہ سے ان کا استعمال اب سنجیدہ فوٹو گرافی کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ آئی فون دنیا کی مقبول ترین فوٹوگرافی ڈیوائس بن چکا ہے،اس کی وجہ بھی باآسانی نظر آ سکتی ہے۔

ان کمیرا فونز کے کئی فائدے ہیں، مثلاً تصویر کھینچتے وقت کسی قسم کی دخل اندازی نہیں ہوتی، اور کیمرا کے آگے شخص جس حالت میں ہے، اسی حالت میں کیمرا فون اس کی تصویر کھینچ لیتا ہے۔

ان چھوٹے کیمرا فونز کو کہیں بھی لے جانا آسان ہوتا ہے اور یہ قدرے سستے بھی ہیں۔

مگر ان فونز کا غلط استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

اس کے ذریعے آپ کسی کو پتہ چلے بغیر کسی شخص یا کسی چیز کی تصاویر کھینچ کر فرار ہو سکتے ہیں۔ تصویر کھینچنے کی اس طاقت پر زیادہ دھیان نہیں دیا جاتا، مگر یاد رکھیں کہ ہر بڑی طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

بہترین تصویر کا لمحہ جب آپ کے سامنے ہو تو اسے بغیر کسی کے علم میں آئے، اپنے کیمرا میں قید کرنے کی خواہش کو میں سمجھ سکتا ہوں۔ اکثر آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ اس شخص سے اجازت مانگنے گئے، تب تک وہ لمحہ ہاتھوں سے نکل جائے گا جس کی آپ تلاش میں تھے۔ جب میں ایک بار بہاولپور میں ایک اسٹوری پر کام کر رہا تھا، تب مجھے بھی ایک بار ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ریت کے طوفان کے دوران ایک خاتون ستلج ندی کے کنارے بیٹھی کپڑے دھو رہی تھی۔ وہاں کوئی آبادی نہ تھی اور اس خاتون کے گرد کوئی گھر یا مکان بھی نہ تھے؛ صرف خشک زمین پھیلی تھی۔ میں نے کسی وقفے اور دخل اندازی کے ارادے کے بغیر اس خاتون کی تصویر کھینچ لی۔

تصویر کھینچنے کے بعد میں اس خاتون کے پاس گیا، اپنا تعارف کروایا اور انہیں ان کی تصویر دکھائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کی تصویر کھینچی جائے۔ میں نے ان سے معذرت طلب کی اور تصویر کو ڈیلیٹ کردیا۔

اس بہترین تصویر کو ڈیلیٹ کرنے پر دکھ بھی ہوا کیونکہ یہ میری سب سے دلفریب تصاویر میں سے ایک تھی — لیکن مجھ سے زیادہ وہ تصویر اس خاتون کی تھی۔

ستلج ندی کے کنارے ایک شخص پیدل جا رہا ہے۔ وہ تصویر جو مجھے ڈیلیٹ کرنی نہیں پڑی — تصویر فہد نوید، ہیرالڈ
ستلج ندی کے کنارے ایک شخص پیدل جا رہا ہے۔ وہ تصویر جو مجھے ڈیلیٹ کرنی نہیں پڑی — تصویر فہد نوید، ہیرالڈ

بہت سے مواقع پر میں بہت سے لوگوں کی تصاویر کھینچ چکا ہوں اور جب ان سے تصویر رکھنے کی اجازت طلب کی تو ان میں سے زیادہ تر افراد نے مجھے ان تصاویر کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت بھی دی۔

عوامی مقامات پر بھی کسی کی نجی زندگی بستی ہے

بدقسمتی سے ہم میں سے زیادہ تر لوگ انسٹا گرامز کے لیے آرٹسٹک تصاویر کے حصول کی خاطر اسٹریٹ چلڈرن یا گداگروں کی تصاویر کھینچتے رہتے ہیں۔

کچھ سالوں پہلے بڑھتے ڈی ایس ایل آر کیمروں کے رجحان کی وجہ سے اس قسم کی فوٹو گرافی میں اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے آرزومند فوٹوگرافرز ایک یا دو ایسی 'دلچسپ' تصاویر کی تلاش میں سڑکوں پر نظر آتے۔

بہت سے فوٹوگرافر ایسا مانتے ہیں کہ اگر تصویر کسی عوامی مقام پر کھینچی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

قانونی طور پر شاید وہ ٹھیک ہوں۔ لیکن اخلاقی طور پر یہاں ایک سوال کھڑا ہوتا ہے — خاص طور پر جب کراچی جیسے بڑے شہر کی بات کی جائے تو۔

کراچی میں ایسے بھی لوگ ہیں جو شہر کی سڑکوں پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ پلوں کے نیچے آپ ایسے خاندان بھی دیکھ سکتے ہیں جن کی زندگیاں سب کے سامنے ہوتی ہیں۔ ان کے پاس ان کی اپنی ذاتی جگہ نہیں ہوتی، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ان کی تصاویر کھینچنے کی آزادی ہونی چاہیے؟

یہ ایسے آسان سوالات نہیں ہیں جن کا جواب ہاں یا ناں پر مشتمل ہو۔

ہم ایک بدلتی دنیا میں رہتے ہیں۔ فلمنگ اور تصویر کھینچنے کی تکنینکیں مزید سستی ہو رہی ہیں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو ان تک رسائی بھی ہے۔

دیکھا جائے تو یہ ایک زبردست بات ہے؛ مگر ساتھ ساتھ ہمیں ہمارے ہاتھوں میں موجود ریکاڈنگ کی ان چھوٹی ڈیوائسز کی طاقت کا بھی احساس ہونا چاہیے اور ان کے استعمال سے جڑے اخلاقی تقاضوں کا بھی احساس ہونا چاہیے۔

ویسے تو 'بگ باس' کے ہم پر مسلسل نظر رکھنے کی وجہ سے ہماری پرائیوسی کے حقوق محدود سے محدود تر ہوتے جا رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں دوسروں کی اجازت کے بغیر تصاویر لینے کے خلاف بھی لڑنا چاہیے۔

انگلش میں پڑھیں