سرےمحل سے پاناما لیکس تک:سیاستدانوں کےنادر بیانات

اپ ڈیٹ 18 جنوری 2017

ای میل

سرے محل کی رقم کہاں سے آئی؟ نواز شریف۔ وزیرِ اعظم نے لندن میں کوئی بنگلہ نہیں خریدا، ترجمان وزیرِ اعظم۔
سرے محل کی رقم کہاں سے آئی؟ نواز شریف۔ وزیرِ اعظم نے لندن میں کوئی بنگلہ نہیں خریدا، ترجمان وزیرِ اعظم۔

پانامہ لیکس کے انکشافات اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتساب کے مطالبے کو حکومت اور وزیراعظم کے خلاف 'سازش' قرار دینے والے لوگ شاید وہ وقت بھول گئے ہیں جب اس ملک پر عوام ہی کے ووٹوں سے دوسری مرتبہ منتخب ہونے والی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت تھی اور موجودہ وزیراعظم میاں نواز شریف 'تمام حلقوں' کے ہر دلعزیز اپوزیشن رہنما تھے۔

کہانی جو میں آج آپ کو سنانے جا رہا ہوں، وہ زیادہ نہیں صرف 20 برس پرانی ہے، اور اس کہانی کے نام، کردار اور واقعات ہرگز فرضی نہیں، اور نہ ہی اس کہانی کی آج کے دور کی کسی کہانی سے مماثلت 'محض اتفاقیہ' ہوگی۔ اس کہانی کو سمجھنے اور اس کے حقانیت پر ایمان لانے کے لیے آپ کو کسی قریبی لائبریری جا کر 20 برس پرانے اخبارات کی فائلوں سے گرد کی تہہ ہٹانا ہوگی۔

یہ جون 1996 کا مہینہ تھا جب پاکستانی قوم نے قومی اخبارات میں سرے محل اور وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی لندن میں جائیداد کا ذکر سنا۔

آج کے وزیراعظم اور اس وقت کے اپوزیشن رہنما نواز شریف کے 10 جون سے 17 جون 1996 کے درمیان کیا کیا 'فرموداتِ عالیہ' اخبارات میں شائع ہوئے، اور اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور حکومتی ترجمانوں نے کیا ردعمل دیا، پڑھیے اور سر دھنیے۔

وزیراعظم نے لندن میں عظیم الشان جائیداد خریدی، رقم کہاں سے آئی، نواز شریف

وزیراعظم نے لندن میں کوئی بنگلہ نہیں خریدا، خبر جھوٹی ہے، ترجمان وزیراعظم

مکان خریدنے کا الزام لگانے والے کمینے ہیں، وزیراعظم بے نظیر

وزیراعظم کی لندن میں جائیداد الزام نہیں حقیقت ہے، اسمبلی میں صفائی دیں، نواز شریف

الزام لگانے والے ثبوت دیں، میں اسمبلی میں صفائی کیوں پیش کروں؟ بے نظیر

نواز شریف نے خود کوآپریٹو کا مال کھایا ہوا ہے، وزیراعظم بے نظیر کا جوابی وار

وزیراعظم ہم پر گرجنے برسنے کی بجائے برطانوی عدالت سے رجوع کریں، نواز شریف

عدالت نہ گئیں تو واضح مطلب ہوگا کہ وزیراعظم مجرم ہیں، نواز شریف

وزیراعظم کے استعفیٰ سے کم پر بات نہیں ٹلے گی، نواز شریف

حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے، وزیراعظم بے نظیر بھٹو

بعض حلقے جمہوریت کی بساط لپیٹنا چاہتے ہیں، حکومتی وزراء

وزراء نے بھانت بھانت کے بیانات دے کر وزیراعظم کی پوزیشن مشکوک کردی ہے، نواز شریف

حکومت چیف جسٹس کی سربراہی میں احتساب کمیشن بنائے، اپوزیشن کا مطالبہ

حکومتی کرپشن کے چرچے بیرون ملک پہنچ گئے، سنڈے ایکسپرس نے سچی خبر دی، نواز شریف

حکومت نے احتسابی کمیشن کے قیام کی تجویز مشروط طور پر منظور کر لی۔

کرپشن کے خاتمے کے لیے ٹرمز آف ریفرنس تیار کرنے کے لیے 6 رکنی کمیٹی بنائیں گے، حکومت

اپوزیشن اپنے 3 ارکان نامزد کرے، احتساب صرف وزیراعظم نہیں سب کا ہوگا، حکومت

بے نظیر بھٹو کے خلاف نواز شریف کا بیان جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔
بے نظیر بھٹو کے خلاف نواز شریف کا بیان جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔

مندرجہ بالا بیانات میں جس جس جگہ نواز شریف لکھا ہے وہان عمران خان لکھ ڈالیے، اور جہاں بے نظیر لکھا ہوا ہے وہاں نوازشریف لکھ دیجیے، یہ بیانات آج بھی اتنے ہی relevant ہو جائیں گے، جتنے 20 برس پہلے تھے۔ کیوں، ہے نا پاکستانی سیاست کا دوسرا نام جادو کی دنیا!؟

اگرچہ اپوزیشن رہنما میاں نواز شریف پر سرے محل کا 'انکشاف' 10 جون کو ہوا تھا، مگر ان کے 25 مئی 1996 سے لے کر 9 جون 1996 تک کے بیانات بھی خاصے "دلچسپ" اور "بھرپور" تھے۔

کرپٹ سیاست دانوں پر تا حیات پابندی ہونی چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر نواز شریف 25 مئی 1996
کرپٹ سیاست دانوں پر تا حیات پابندی ہونی چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر نواز شریف 25 مئی 1996

حکومت سے نجات کے لیے علماء اور مشائخ کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں گے، نواز شریف

احتسابی کمیشن کے لیے ریفرنڈم کروائیں، نواز شریف کا صدر لغاری کو خط

ہر فرد کرپشن سے تنگ آچکا ہے، عوام ہمارے ساتھ ہیں، نواز شریف

یہی حکومت رہی تو پاکستان کرپشن کے میدان میں عالمی چیمپیئن بن جائے گا، نواز شریف

حکومت نے میری کردار کشی کی مہم شروع کر کر رکھی ہے جس کا مقصد احتساب کے مطالبے سے دستبردار کروانا ہے مگر میں کمیشن کے قیام تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، نواز شریف

چوہدری نثار جلد ایک اسکینڈل منظر عام پر لا رہے ہیں، جس میں اہم انکشافات ہیں، نواز شریف

وقت آن پہنچا ہے جب حکمرانوں کی بساط لپیٹ دی جائے گی، نواز شریف 9 جون 1996

مندرجہ بالا بیانات چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ میاں صاحب کو 'الہام' ہوچکا تھا کہ سرے محل کا موقع محل بس آنے ہی والا ہے۔

11 جون 1996 کے نوائے وقت میں شائع ہونے والا بینظیر بھٹو کا بیان۔
11 جون 1996 کے نوائے وقت میں شائع ہونے والا بینظیر بھٹو کا بیان۔

جون 1996 کے پہلے ہفتے میں بعض دیگر "جمہوریت پسند " اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات ملاحظہ فرمائیے۔

معاشرے کو کرپشن کی لعنت سے نجات دلوا کر رہیں گے، شہباز شریف

پاکستان، تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، بے نظیر کو کرسی چھوڑنا ہوگی، اجمل خٹک

چند دنوں میں میدان گرم ہونے والا ہے، وقت آچکا ہے کہ حقوق زبردستی چھین لیں، بیگم نسیم ولی

کرپشن کے خاتمے کے لیے غیر جانبدار اعلٰی عدالتی احتسابی کمیشن قائم کیا جائے، سرتاج عزیز

ان دنوں اپوزیشن رہنما میاں نواز شریف نے اس وقت کے صدر فاروق لغاری کے نام دو خطوط بھی لکھے تھے (پہلا 2 جون جبکہ دوسرا 18 جون کو) جن میں صدر محترم سے ریفرنڈم کروانے اور اپنا آئینی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ میاں صاحب کے مشہور زمانہ دو خطوط نے 'ماحول' بنا کر لوہا گرم کر دیا تھا جس کے بعد اب صرف چوٹ مارنے کی دیر تھی۔

26 مئی 1996 کو نوائے وقت کے صفحہء اول کا عکس۔
26 مئی 1996 کو نوائے وقت کے صفحہء اول کا عکس۔

اس مخصوص ماحول کے بعد 19 جون سے لے کر 30 جون 1996 کے اخبارات میں کیا کچھ چھپا؟ ذرا دیکھیے تو!

ہماری جدوجہد آخری مرحلے میں داخل ہونے والی ہے، نوازشریف 19 جون

نواز شریف نے 23 جون کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے دی

سرے محل وزیراعظم سے واپس لے کر غریبوں کا مقدر سنواریں گے، نواز شریف، 21 جون

قاضی حسین احمد کا 24 جون کو پرائم منسٹر سیکریٹیریٹ پر دھرنے دینے کا اعلان

اپوزیشن لیڈر نواز شریف نے قاضی حسین احمد کے دھرنے کی حمایت کردی

اپوزیشن کو لاش کی تلاش ہے، بے نظیر 23 جون

راولپںڈی میں پولیس کی اندھا دھند فائرنگ، 4 افراد جاں بحق، 85 زخمی

وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف، قتل مقدمہ کی درخواست

حکومت بدمعاشی کر رہی ہے، بلدیاتی ارکان اداروں پر قبضہ کرلیں، نواز شریف

ججوں کو اقتدار کا دانہ ڈال دیا گیا ہے، بے نظیر، 30 جون

مندرجہ بالا 'ماحول' کی روشنی میں یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو امپائر کی انگلی کا طعنہ دینے والے یہ 'مہان' اصل میں اندر سے وہ 'بونے' ہیں جن کو ماضی کے امپائر پوری انگلی پکڑانا توہین سمجھتے، اور صرف 'ناخن' پر ہی نچاتے رہے ہیں۔

بیس سال پہلے میاں نواز شریف کی سربراہی میں اپوزیشن نے بات لندن کے سرے محل سے شروع کر کے 'موقع محل' تک پہنچا دی تھی اور یوں فائدہ اٹھانے والوں نے موقعے سے پورا فائدہ اٹھا لیا تھا۔ کہانی اس بار بھی لندن کے مے فیئر فلیٹ سے شروع ہو کر پانامہ لیکس اور آف شور کمپنیوں سے ہوتی ہوئی بلاامتیاز احتساب تک پہنچی ہے۔

مگر اس بار فرق یہ ہے کہ 'سرے محل' اور 'موقع محل' والے 'سپنوں کا محل' سجانے والوں کے خلاف اندرون خانہ ایک ہیں، اس لیے ہونا کچھ نہیں ہے، لہٰذا ستو پی کر سوئے رہیں جناب!