اسلام آباد: وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے سوشل میڈیا پر 'متنازع تصاویر' سامنے آنے پر مفتی عبدالقوی کی رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت معطل کردی۔

وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق مفتی عبدالقوی کی قومی علماء مشائخ کونسل کی رکنیت بھی معطل کردی گئی ہے۔

مفتی عبدالقوی اور قندیل بلوچ کی وائرل سیلفی—۔بشکریہ فیس بک
مفتی عبدالقوی اور قندیل بلوچ کی وائرل سیلفی—۔بشکریہ فیس بک

ترجمان کے مطابق مفتی عبدالقوی کی متنازع تصاویر کا معاملہ قومی علماء مشائخ کونسل کے سپرد کر دیا گیا ہے اور علماء کی رائے کے بعد ان کی رکنیت سے متلعق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق مزید احکامات سامنے آنے تک مفتی عبدالقوی اب رویت ہلال کمیٹی اور قومی علماء مشائخ کونسل کے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز فیس بک سے شہرت حاصل کرنے والی پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مفتی عبدالقوی کے ساتھ کچھ سیلفیز اَپ لوڈ کی تھیں، جو بعدازاں وائرل ہوگئیں۔

مفتی عبدالقوی کی قندیل بلوچ کے ساتھ تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد اس حوالے سے بھی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مذہبی ونگ سے ہے، تاہم تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق نے مفتی عبدالقوی سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے مذہبی ونگ کے سربراہ مفتی سعید ہیں۔

'پریشانی کی بات نہیں، عہدے آتے جاتے رہتے ہیں'

رویت ہلال کمیٹی اور قومی علماء مشائخ کونسل کی رکنیت کی منسوخی کے بعد ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو میں مفتی عبدالقوی نے کہا کہ انھیں ابھی تک اس حوالے سے نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا، تاہم پریشانی کی بات نہیں، عہدے آتے جاتے رہتے ہیں۔

قندیل بلوچ کے ساتھ سیلفیز کے حوالے سے مفتی عبدالقوی نے کہا کہ وہ جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں شرکت کی غرض سے کراچی کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے، جہاں قندیل خود ان سے ملنے ہوٹل آئیں۔

قندیل بلوچ کو پروپوز کرنے اور سوشل میڈیا پر پھیلی دیگر ویڈیوز کی صداقت کے حوالے سے مفتی عبدالقوی نے کہا کہ 'ویڈیو گمراہ کن ہے اور اس میں آواز میری نہیں ہے، ہر انسان میری آواز پہچانتا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں ایک کھلی کتاب ہوں اور میڈیا کے لوگ مجھ سے بات کر رہے ہیں'۔

رویت ہلال کمیٹی کے عہدیداران سے رابطہ کرکے اپنی پوزیشن واضح کرنے کے سوال پر مفتی عبدالقوی نے کہا کہ 'جس نے بھی رابطہ کرنا ہوگا وہ مجھ سے خود رابطہ کرلے گا۔'


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔