ہندوستان کابیک وقت 20 سیٹلائٹس خلاء میں بھیجنے کا ریکارڈ

اپ ڈیٹ 22 جون 2016

ای میل

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کا  راکٹ 20 سیٹلائٹس کو لے کر خلاء کی جانب گامزن ہے —فوٹو / اے ایف پی
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کا راکٹ 20 سیٹلائٹس کو لے کر خلاء کی جانب گامزن ہے —فوٹو / اے ایف پی

نئی دہلی: ہندوستان نے بیک وقت 20 سیٹلائٹس خلاء میں بھیجنے کا قومی ریکارڈ قائم کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا خلائی مرکز سے ایک راکٹ 20 سیٹلائٹس کو خلاء میں پہنچانے میں کامیاب رہا۔

جو مصنوعی سیارے خلاء میں بھیجے گئے، ان میں سے 13 سیٹلائٹ امریکا، 2 ہندوستانی یونیورسٹی اور بقیہ جرمنی، کینیڈا اور انڈونیشیا کے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر مدار میں پہنچ کر زمین کے ماحول کا جائزہ لیں گے اور متعلقہ ممالک کو ڈیٹا فراہم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ہندوستانی خلائی شٹل مریخ کے مدار میں داخل

رپورٹس کے مطابق ان سیٹلائٹس کو پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) سی 34 راکٹ کے ذریعے بدھ کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے 9 بجے کے قریب روانہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایک مشن میں سب سے زیادہ سیٹلائٹس خلاء میں بھیجنے کا ریکارڈ روس کے پاس ہے جس نے 2014 میں 33 مصنوعی سیارے بھیجے تھے جبکہ امریکی خلائی ایجنسی ناسا ماضی میں بیک وقت 29 سیٹلائٹس خلاء میں بھیج چکی ہے۔

کامیاب لانچ کے بعد ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ہمارا خلائی پروگرام ہر بار یہ ثابت کرتا رہا ہے کہ وہ لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ہندوستانی وزیراعظم نے سائنسدانوں کو کامیابی پر انھیں مبارک باد بھی پیش کی۔

یاد رہے کہ 2013 میں بھی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او) نے ایک راکٹ مریخ کے مشن پر بھیجا تھا جس پر صرف 7 کروڑ 30 لاکھ ڈالر لاگت آئی تھی جبکہ ناسا کے مشن مریخ پر 67 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اخراجات آئے تھے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔