وہ میٹھادر کا باپو، عبدالستار ایدھی

اپ ڈیٹ 09 جولائ 2016

ای میل

میں نے باپو کو خستہ لاشوں کے ٹکڑے چنتے تو نہیں، مگر شکستہ روحوں میں پھر سے زندگی بھرتے ضرور دیکھا ہے — اے ایف پی/فائل
میں نے باپو کو خستہ لاشوں کے ٹکڑے چنتے تو نہیں، مگر شکستہ روحوں میں پھر سے زندگی بھرتے ضرور دیکھا ہے — اے ایف پی/فائل

آپ ایدھی کہیں، ہمارے تو وہ باپو تھے، باپو یعنی باپ۔ گجراتی زبان میں جس بزرگ کا نام لیتے ہوئے بھی ادب آڑے آجائے انہیں باپو یا باپا ہی پکارتے ہیں۔ ایک ہم ہی کیا، ایدھی صاحب کا مسکن یعنی جڑواں علاقے کھارادر، میٹھادر، ایدھی ہومز کے لاوارث یتیم مکینوں، ایدھی فاؤنڈیشن کے ہزاروں کارکنان، ایدھی صاحب سب کے باپو ہی تو تھے۔

میرا آبائی گھر کراچی کے قدیم ترین ساحلی علاقے کھارادر میں ہے۔ اس علاقے کو ہندوستان کی ریاست گجرات سے ہجرت کرنے والی میمن کمیونٹی نے کراچی آ کر اپنا مسکن چنا۔

بچپن سے یہی معمول رہا کرتا تھا کہ صبح ابو نے حلوہ پوری کھلائی۔ امی نے بستہ پہنایا اور ہم ابو کی انگلی پکڑ کر اپنے میٹھادر میں واقع اسکول کی جانب چل دیتے۔

ننھے قدموں کے ساتھ کھارادر سے میٹھادر کے سفر میں جو ایک مقام روز آتا تھا، وہ تھا ایدھی سینٹر۔

بچپن تو پھر بھی بچپن، اتنی سمجھ کہاں تھی کہ یہ جانتے کہ جو میٹھادر کے اس ایدھی سینٹر کے باہر بے آرام سی اسٹیل کی ایک کرسی پر بیٹھا ہے، وہ اس دور کا ولی ہے۔

میں اسکول جاتی اور جونہی اس ایدھی سینٹر کے قدیم دواخانے کا موڑ آتا تو میں ابو کا ہاتھ چھڑا کر بھاگتی اور ان بزرگ کے آگے ہاتھ کر دیتی۔ ابو جھینپ کر روز ایک ہی بہانہ بناتے (باپو یہ آپ سے ہاتھ ملانے آئی ہے)۔ کبھی کبھی صبح اسی تنگ سی گلی کے نکڑ پر بزرگ کے ساتھ ان کی ہنس مکھ سی بیگم بیٹھی ہوتیں، وہ تو آتے جاتے بچوں کو اپنی شفیق مسکراہٹ دیتیں۔

وہ بزرگ وہ ولی اللہ عبدالستار ایدھی اور وہ شفیق سی خاتون ان کی بیگم بلقیس ایدھی ہیں۔ میں نے جن گلیوں میں بچپن گزارا، جہاں اسکولنگ کی اور جہاں شعور کی دنیا میں قدم رکھا، مجھے فخر ہے کہ وہ گلیاں وہ علاقہ عبدالستار ایدھی کا ہے۔

اسکول سے ہوم ورک ملا میری پسندیدہ شخصیت پر مضمون لکھنے کا، تو سیدھا ایدھی سینٹر جا پہنچی۔

نہ کوئی روک نہ ٹوک۔ نہ کسی کے سوال کہ "اے لڑکی تیری یہ مجال کہ تو ایدھی صاحب سے ملے، ان کا پروٹوکول ہے،" نہ کوئی پرسنل سیکریٹری نامی بلا کہ جس کو عرضی دی جائے کہ بھئی ایدھی صاحب سے ملوادو۔

اب ساتویں جماعت کے لیے مضمون لکھنا تھا سو ہم پہنچ گئے ایدھی صاحب کے پاس انٹرویو لینے۔

ایدھی صاحب اپنی کرسی پر بیٹھے تھے، سامنے میز پر وائرلیس سیٹ دھرا تھا جس پر وہ ایدھی ایمبولنس سروس کا کوئی مسئلہ نمٹا رہے تھے، ایمبولنس کال ختم ہوئی تو بولے "کرو تھیو باء؟"۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا "آپ کہاں پیدا ہوئے؟ آپ نے ایدھی سینٹر کب بنایا؟ ایدھی والے کیا کیا کام کرتے ہیں؟" میرے سوالات پر بڑی ہی محبت سے اپنی محنت کی پوری کہانی سنانے لگے۔

اب سوچتی ہوں کہ میں تو اس وقت محض ایک اسکول کی طالبہ تھی، کوئی صحافی نہیں، جسے ایدھی صاحب اس لیے انٹرویو دیتے کہ اگلے دن کے اخبار میں سجا دوں گی اور ان کی واہ واہ ہوجائے گی۔ باپو کو شاید اپنی واہ واہ کروانے کی غرض ہی نہ تھی۔

باپو ایسے ہی سادہ سے تھے، بہت سادہ۔ نہ کوئی غیر ضروری بات، نہ کوئی عیاری اور چالاکی، نہ گنجلک گفتگو نہ ہی منفی خیالات، ان کے پاس بس ایک جنون، ایک مشن ایدھی فاؤنڈیشن تھا اور کچھ نہیں۔

میں اس وقت میٹرک میں تھی، ایک کلاس فیلو دبئی گئی تو میچ کے ٹکٹ پر کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق کا آٹوگراف لے آئی۔ پورے اسکول میں اس آٹوگراف کی دھوم مچی تھی۔ ظاہر ہے میں بھلا کیوں پیچھے رہتی۔

اتوار کا دن آیا تو شام ہوتے ہی امی کے پیچھے لگ گئی کہ ایدھی دواخانے جانا ہے۔ امی حیران پریشان کے بھلا کیا ماجرہ ہوگیا۔ وجہ میں بتا نہیں سکتی تھی کہ دوست کی نقالی کر رہی ہوں اور جانا بھی ضروری ہے۔

عبدالستار ایدھی پر دیگر دلچسپ مضامین


- عبدالستار ایدھی، قوم کے ایک عاجز ہیرو

- عبدالستار ایدھی: خدمت کے 60 سالہ سفر کا اختتام

- کوئز: آپ عبدالستار ایدھی کو کتنا جانتے ہیں؟

خیر جیسے تیسے اگلی ہی گلی میں واقع ایدھی سینٹر پہنچ گئے۔ مغربی ملک سے آیا ہوا کوئی وفد ایدھی صاحب سے مل رہا تھا۔ اسی دواخانے کے کمرے میں پڑی سٹیل کی بینچ پر ہم بھی بیٹھ گئے۔ ایدھی صاحب متوجہ ہوئے تو میں نے کہا باپو آٹو گراف چاہیے۔

سوال اتنا بھی مشکل نہ تھا کہ انکار ہوتا۔ جواب میں مسکراہٹ کے ساتھ کہا لاؤ کہاں سائن کروں؟ مگر اتنا بتا دوں دستخط اردو میں کروں گا، انگریجی میرے کو نہیں آتی۔

مجھے آٹو گراف چاہیے تھا، اردو انگریزی کی پرواہ نہیں تھی۔ جھٹ میں نے ڈائری کے بیچ میں سے دس کا نوٹ نکالا اور ایدھی صاحب کے آگے کردیا۔

امی اپنی بیٹی کی اس حرکت پہ سٹپٹا کر رہ گئیں۔ غصے سے بولیں ڈائری پر لیتے ہیں آٹو گراف۔۔۔ تب تک میرے دس کے نوٹ پر باپو اپنا نام عبدالستار ایدھی لکھ چکے تھے۔

اب وضاحت ضروری ہوگئی تھی۔ میں نے صاف بتا دیا کہ "باپو سہیلیوں کو مرعوب کرنا ہے کہ جناب ایدھی صاحب کو جب میں اپنی پاکٹ منی سے 100 روپے چندہ دے رہی تھی تو دس کے نوٹ پر آٹو گراف لے لیا" ۔۔ میرا جاندار اسکرپٹ شاید ایدھی صاحب کو بھی پسند آیا تھا اسی لیے زور دار قہقہے سے ہمیں رخصت کیا تھا۔

کراچی انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے بعد نتیجہ آنے تک چھٹیوں کا وقفہ عموماً کئی ماہ پر محیط ہوتا ہے۔ فارغ تھی سوچا کیوں نا کوئی کام کیا جائے۔ جی ہاں درست سمجھے، ہمیشہ کی طرح مجھے ایک بار پھر باپو ہی یاد آئے۔

یہ پچھلی گلی میں تو گھر تھا باپو کا اگلی صبح سویرے میں ایدھی سینٹر کے دفتر میں تھی۔ ایدھی صاحب سے ملنے کا سب سے آئیڈیل وقت علی الصبح تھا۔ اس کا اندازہ مجھے اپنی پرائمری کلاسز سے تھا۔ میں ذرا بڑی ہوئی تو عادتیں بھی بدل گئیں۔ اب صبح کا مطلب نو بجے تھا۔

میں ساڑھے نو بجے تک ایدھی سینٹر پہنچی تو پتا چلا باپو اب بھی سویرے ہی میٹھادر سینٹر کا کام نمٹا لیتے ہیں۔ جس کے بعد کراچی کے طول و عرض میں پھیلے ہر ایدھی ہوم کا دورہ شروع ہو جاتا ہے۔ میری کوتاہی کے سبب ایدھی صاحب تو نہ ملے مگر بلقیس آپا بڑے تپاک سے ملیں۔

میں نے کہا انٹرن شپ کرنا ہے وہ بھی ایدھی سینٹر میں بلامعاوضہ۔ جواب ملا کہ ایدھی صاحب کے نام درخواست لکھ دو۔ میں نے والنٹیرشپ کی درخواست میں اپنی پھوپھی سے بلقیس آپا کے پڑوسنو والے رابطوں سے لے کر بچپن میں ایدھی صاحب سے ہاتھ ملانے تک، سب حوالے دے ڈالے۔

درخواست ایدھی فاؤنڈیشن میں والنٹیئرشپ کی دی جواب میں سیدھی نوکری مل گئی۔ ایدھی ہوم کلفٹن کراچی میں گھروں سے فرار ہو جانے والی، گھر والوں کی جانب سے تنہا چھوڑی جانے والی بچیوں کو پڑھانے کا مقدس فریضہ اگرچہ میں نے صرف چند ماہ ہی جاری رکھا تھا مگر بے آسرا، بے سہارا اور یتیم بچیوں کے کیا جذبات ہوتے ہیں، انہیں کس بات کا خوف سب سے زیادہ ستاتا ہے اور ایدھی جیسے باپو نے انہیں کتنا مضبوط سہارا دے رکھا ہے اس چیز کا بخوبی اندازہ ہوگیا۔

ایدھی ہومز کے جونئر اسکول سیکشن کلفٹن کو باپو کی بڑی صاحبزادی کبریٰ ایدھی چلا رہی تھیں۔ یہاں ہر ہفتے ایدھی صاحب صبح سویرے بچوں سے ملنے آتے، اسے باپ کی کمی کہہ لیں یا شفقت پدری کی شدید ضرورت، ایدھی صاحب جونہی دروازے سے داخل ہوتے وہ یتیم و یسیر بچے باپو باپو کہتے اس سفید باریش کمزور بدن سادہ و پرانے لباس میں ملبوس عبدالستار ایدھی سے چمٹ جاتے۔

حالت کچھ ایسی ہوتی کہ ایدھی فاؤنڈیشن کی استانیاں بچوں کو شانے پکڑ پکڑ کر کھینچتیں، ادھر باپو اپنے بہت سے ننھے بیٹے بیٹیوں کے ناز نخرے اٹھا رہے ہوتے۔

میں نے باپو کو خستہ لاشوں کے ٹکڑے چنتے تو نہیں، مگر شکستہ روحوں میں پھر سے زندگی بھرتے ضرور دیکھا ہے۔

اب نہ باپو ہیں نہ وہ ایدھی صاحب رہے، مگر یقین جانیں جب بھی کسی حادثے یا سانحے کے بعد دہشت کی خاموشی کو چیرتی ہوئی ایدھی ایمبولنس کے سائرن کی آواز آئے گی، تو باپو کے ہاتھوں سے میٹھادر میں لگائے ایدھی فاؤنڈیشن کے گھنے درخت کا سایہ ہزاروں میل دور بھی محسوس ہوگا۔