غیر معیاری پیٹرول کی درآمد،فروخت پر پابندی کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2016

ای میل

اسلام آباد: وزارت پیٹرولیم نے ملک بھر میں استعمال ہونے والے غیر معیاری پیٹرول کی درآمد اور فروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وزارت پیٹرولیم نے ملک بھر میں موجودہ پیٹرول 87 رون کی تیاری، فروخت اور درآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت پیٹرولیم کے حکام کے مطابق یکم اکتوبر سے ملک بھر میں صرف عالمی معیار کا پیٹرول 92 رون فروخت ہوگا اور اس حوالے سے وزارت پیٹرولیم نے سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی کو ارسال کردی ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ وزارت پیٹرولیم نے ریفائنریوں اور پی ایس او سمیت تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اس حوالے سے آگاہ کردیا ہے، تاہم پیٹرول کا معیار بہتر ہونے سے قیمت بھی 2 روپے 60 پیسے فی لیٹر بڑھ جائے گی۔

حکام کے مطابق ملکی ریفائنریاں 97 رون پیٹرول درآمد کرکے 87 رون میں مکس کرکے پیٹرول کا معیار 92 رون پر لائیں گی۔

تاہم ملکی ریفائنریوں کی مشینری پرانی ہے اور 92 رون کی قیمت زائد ہونے کے باعث ریفائنریوں کو مکسنگ کے عمل میں ناجائز منافع خوری کا موقع ملے گا۔

وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے مطابق پاکستان میں دنیا کا کم ترین معیار کا پیٹرول درآمد اور تیار ہورہا ہے، لیکن یکم اکتوبر سے صرف عالمی معیار کا پیٹرول 92 رون فروخت ہوگا۔

واضح رہے گاڑیوں میں ڈلنے والے ہائی اوکٹین کا معیار 97 رون ہوتا ہے، جبکہ پیٹرول کا معیار بڑھنے سے گاڑیوں کے موجودہ مائلیج اور انجن کی زندگی میں اضافہ ہوگا۔

پاکستان کے پڑوسی ملک ہندوستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی استعمال ہونے والے پیٹرول کا کم سے کم معیار 92 رون ہے۔