کراچی کے ایک پاک ترک اسکول میں پرنسپل کے دفتر میں قائد اعظم محمد علی جناح اور ترک رہنما کمال اتاترک کی تصاویر آویزاں ہیں—فوٹو/ عامر بیگ/ ڈان ڈاٹ کام
کراچی کے ایک پاک ترک اسکول میں پرنسپل کے دفتر میں قائد اعظم محمد علی جناح اور ترک رہنما کمال اتاترک کی تصاویر آویزاں ہیں—فوٹو/ عامر بیگ/ ڈان ڈاٹ کام

کراچی: ترک سفیر کی جانب سے جلا وطن رہنما فتح اللہ گولن سے متاثرہ حزمت تحریک کے تحت چلائے جانے والے تمام اداروں کی بندش کے مطالبے کے بعد پاکستان میں موجود پاک ترک اسکولز غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

یہ اسکولز پاک ترک انٹرنیشنل اسکولز اینڈ کالجز نیٹ ورک کے تحت قائم کیے گئے تھے تاہم ترکی میں فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد ترک حکام نے فتح اللہ گولن سے وابستہ افراد اور اداروں کے خلاف کریک ڈائون شروع کررکھا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی ترک صدر رجب طیب اردگان سے قربت اور پاکستان کے ترکی کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے سبب وفاقی حکومت پر شدید دبائو ہے کہ وہ ایسا فیصلہ کرے جس سے پاکستان کا قریبی دوست ملک ناراض نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان فتح اللہ گولن کے تمام ادارے بند کرے، ترکی

پاکستانی دفتر خارجہ ترک سفیر کے اس مطالبہ پر انتہائی سنجیدگی سے غور کررہا ہے اور اس حوالے سے سیکریٹری خارجہ نے ایک اجلاس کی سربراہی بھی کی جس میں اس مطالبے پر عمل درآمد کے حوالے سے آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔

اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، کراچی، حیدرآباد، خیر پور اور جامشورو میں موجود تقریباً 28 اسکولوں کے اس نیٹ ورک میں اسٹاف کی تعداد تقریباً 1500 ہے جبکہ زیر تعلیم طلباء کی تعداد 10 ہزار کے قریب ہے جو پرائمری تا اے لیول تک تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

پاک ترک ایسوسی ایشن کے سندھ میں ڈائریکٹر ایجوکیشن علی یلماز کہتے ہیں کہ 1995 سے ہمارے تعلیمی ادارے پاکستانی طالب علموں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کررہے ہیں اور ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے اور نہ ہی کسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹاف میں موجود ترک ارکان این جی او ویزے کے تحت پاکستان میں قانونی طور پر کام کررہے ہیں۔

پاک ترک نیٹ ورک باضابطہ طور پر اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اس کے کسی بھی سیاسی اور مذہبی تحریک سے کوئی تعلق ہے تاہم ترک حکومت بڑی حد تک یہ سمجھتی ہے کہ گولن کے حامیوں کی جانب سے کئی دہائیوں سے پاکستان اور دیگر ممالک میں تعلیمی ادارے چلائے جارہے ہیں۔

پاک ترک اسکول کے ایک عہدے دار نے استفسار کیا کہ 'کیا علامہ اقبال پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اقبال تحریک کا حصہ ہیں'؟

انہوں نے کہا کہ جب بات معیاری تعلیم کی فراہمی کی ہو تو ہم گولن کے فلسفے سے اتفاق کرتے ہیں لیکن وہ ہمارے رہنما نہیں ہیں، ہمارا کوئی بانی یا رہنما نہیں۔

مزید پڑھیں: ترکی میں فوجی بغاوت کے خلاف ہوں، فتح اللہ گولن

نیٹ ورک کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ترک سفیر کی جانب سے اسکولوں کی بندش کے حوالے سے بیان ترک صدر طیب اردگان کی ترکی میں مخالفین کی آواز دبانے کی کوششوں میں وسعت کے مترادف ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ایسوی ایشن اور اسلام آباد میں موجود ترک حکومت کے نمائندوں کے درمیان رنجش میں اضافہ ہورہا ہے۔

پاک ترک اسکول نیٹ ورک کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک رکن نے بتایا کہ تین برس قبل تک ترک سفیر ہمارے اسکولوں کے ساتھ بہت تعاون کرتے تھے، وہ اسکول میں ہونے والی تقریبات میں شرکت کرتے تھے، اسکول البم میں ان کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ترک سفیر حکومتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے ایسے بیانات دے رہے ہیں، ہمارے اسکولز کا نیٹ ورک آج بھی وہی کررہا ہے جو یہ 20 برس قبل کرتا تھا تبدیلی حکومت کے موقف میں آئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ ابتداء میں حکومت نے ہمیں سپورٹ کیا لیکن اب اردگان طاقت کے نشے میں ہیں، ملک کی صورتحال کا سوچ کر ہمیں نیند نہیں آتی، پانچ برس قبل تک ترکی مسلم دنیا کیلئے باعث فخر تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

انہوں نے ترک صدر کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ ترکی میں بغاوت کی کوشش کے پیچھے فتح اللہ گولن کا ہاتھ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی میں ناکام فوجی بغاوت، 265 افراد ہلاک

انہوں نے سوال کیا کہ 87 برس کا کوئی شخص کیوں اقتدار پر قبضے کی کوشش کرے گا، وہ جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر ایجوکیشن سندھ نے پاکستان میں تعلیم اور انسانی ترقی کے شعبے میں اپنے اسکولز کے کردار کی نشاندہی کی اور کہا کہ ہمارے اسکولز 30 فیصد طالب علموں کو اسکالرشپ دیتے ہیں اور اس میں دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے اسکولز کے بچوں نے اولمپک کھیلوں کی تقریبات اور امریکا و برطانیہ سمیت 7 دیگر غیر ملکی مقابلوں میں حصے لیے ہیں اور جو کوئی بھی یہ جانتا ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں وہ ہم سے خوش ہے۔

حکومت کیلئے فیصلہ لینا مشکل

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے کوئی فیصلہ کیا جائے گا اور ہم ترک حکومت کے خدشات کو ضرور سنیں گے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کیا جائے گا اور دفتر خارجہ تمام صوبوں کو تحریری طور پر آگاہ کرے گا کیوں کہ تعلیم صوبائی حکومت کا معاملہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں یہ بات بھی مد نظر رکھنی ہوگی کہ ان اسکولوں میں ہزاروں بچے زیر تعلیم ہیں اور حکومت ایسا فیصلہ کرے گی جس سے طالب علموں کا نقصان نہ ہو۔

اس معاملے سے واقف ایک حکومتی عہدے دار نے بتایا کہ اسکولز گولن سے وابستہ ہیں اور کافی عرصے سے طیب اردگان کیلئے باعث اشتعال بنے ہوئے ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ ترک حکومت پاکستان سے ان اسکولوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے لیکن ہم نے اس مطالبے کے خلاف مزاحمت کی۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں پاک ترک نیٹ ورک نے اسکول کیلئے زمین مانگی لیکن اسے لیز نہیں کیا گیا اور اسی وجہ سے ان کی سرگرمیوں میں پنجاب حکومت کی شراکت داری کم ہوگئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فتح اللہ گولن کی یہ خاصیت ہے کہ وہ قانونی طور پر بہت مستحکم ہیں اور حکومت کے پاس ان کے خلاف کارروائی کی کوئی وجہ نہیں لیکن اب مجھے نہیں لگتا کہ حکومت ان اسکولوں کو قائم رکھ سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی بندش کیلئے طیب اردگان کی جانب سے بے پناہ دبائو ہوگا اور حکومت پاکستان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔

یہ خبر 24 جولائی 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی