ایک امریکی خاتون کو پاکستان کیسا لگا؟

01 اگست 2016

ای میل

ایسا شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے جب سیاح پرستاروں اور فالورز کے تصورات بدلنے کی کوشش کریں، عام طور پر لوگ صرف اپنی تصاویر مختلف کیپشنز کے ساتھ پوسٹ کرتے ہیں، مگر پاکستان کے لیے سابق خیرسگالی سفیر سنتھیا ڈی رچی ان میں سے نہیں۔

فوٹو بشکریہ سنتھیا رچی انسٹاگرام
فوٹو بشکریہ سنتھیا رچی انسٹاگرام

انہوں نے نہ صرف پاکستان میں اپنی سیاحت کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا بلکہ ٹوئٹر کے ذریعے لوگوں کے سوالات کا جوابات دے کر ان کے ذہنوں کو بھی تبدیل کیا۔

سنتھیا نے خیبر پختونخوا، سندھ، لاہور، اسکردو سمیت پاکستان بھر کا سفر کیا اور ٹوئٹر کے ذریعے اپنی تصاویر کو شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر سوالات کے جوابات بھی دیئے۔

جب لوگوں نے ان کے سفر کے تجربے کے باے میں پوچھا تو وہ پاکستان اور یہاں کے عوام کے بارے میں انتہائی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔

اپنے ایک ٹوئیٹ میں انہوں نے کہا " غیرمعمولی ملک اور لوگ، جسے بلاشبہ متعدد چیلنجز کا سامنا ہے مگر میں نے یہاں اختلافات سے زیادہ مشترکہ چیزیں دیکھی ہیں"۔

ایک ٹوئیٹ میں ان کا کہنا تھا " حیرت انگیز، ملک بھر کے سفر کے دوران میں نے بہت دیکھا اور بہت کچھ سیکھا، اس کے علاوہ خوراک کے باعث وزن میں بھی کچھ اضافہ ہوا"۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان اور پاکستانی انہیں پسند آئے تو ان کا جواب تھا " پاکستان اور اس کے لوگ بہت پسند آئے، حیرت انگیز حد تک مہمان نواز"۔

سنتھیا کے پی کے میں پولیس ٹریننگ سینٹر کے سامنے
سنتھیا کے پی کے میں پولیس ٹریننگ سینٹر کے سامنے

اس سلسلے کا آغاز اس وقت ہوا جب 2010 میں انہیں پاکستان کی سیر کے لیے مدعو کیا گیا اور پھر انہوں نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔

" 2010 میں ہیوسٹن میں ایک پاکستانی نژاد امریکی نے اپنے ملک کو دیکھنے کے لیے مدعو کیا"۔

اور یہاں کی خوبصورتی نے انہیں دنگ کیا جس کا اظہار ایک ٹوئیٹ میں ان الفاظ کے ساتھ کیا " یہاں فوٹو شاپ کی کوئی ضرورت نہیں، کیا ایسا نہیں؟ پاکستان ایڈونچر ٹریول کے لیے قدرتی اور جادوئی مناظر سے بھرپور ہے"۔

کشمیر (بائیں) اور پنجاب کا علاقہ روات
کشمیر (بائیں) اور پنجاب کا علاقہ روات

پاکستان میں رہنے والے ایسے افراد جنھیں اپنے ملک میں سفر کرنے کا موقع نہیں ملا، ایسے افراد جنھیں سیکیورٹی تحفظات تھے، ان کے سوالات کے جوابات انہوں نے خوشی سے دیئے۔

ایک سوال میں جب کہا گیا کہ قدرتی مناظر اور مہم جوئی کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں جب تک سیکیورٹی مسائل حل نہیں ہوجاتے تو ان کا جواب تھا " کیا کسی فرد کی اہمیت اس وقت ختم ہوجاتی ہے جب اس کے بازو میں کینسر ہوجائے؟ نہیں آپ جسم کو کینسر سے نجات دلاتے ہیں، تو ایسا ہی ایک قوم بھی کرتی ہے"۔

کچھ لوگوں نے انہیں ایک بار پاکستان آنے کی دعوت دی تاکہ وہ مقامات دیکھ سکیں جو اب دیکھنے سے محروم رہیں۔

ان کے ٹوئیٹس کی سے خاص بات اپ لوڈ کی گئیں تصاویر تھیں جنھیں #شکریہ پاکستان کے ہیش ٹیگ کے ساتھ پوسٹ کیا گیا۔

پاکستان کے لیے ان کے جذبات دیکھ کر انہیں سرحد کی دوسری جانب سے بھی مدعو کیا گیا جس کا اظہار انہوں نے ایک ٹوئیٹ میں کرتے ہوئے کہا " شکریہ میں اس سے پہلے صرف ایک دہلی آئی ہوں، مگر مزید دوروں کی توقع ہے کیونکہ یہ میرے سفری مقاصد کی فہرست کا حصہ ہے"۔

انہوں نے پاکستان جانے کی خواہش رکھنے والے افراد کے لیے بھی ٹوئیٹ کیا " سن کر اچھا لگا، آپ لوگوں کو وہاں کے رہنے والے اور لذیذ پکوان پسند آئیں گے، اپنے کھلے ملبوسات پیک کریں یا شلوار قمیض خرید لیں"۔

اب سنیتھا پاکستان کے سفر کو فلمانے کا منصوبہ بنا رہی ہیں وہ ایک اچھے مقصد کے لیے تاکہ 'پاکستان کی اصل روح' سے عالمی سطح پر لوگوں کو متعارف کراسکیں اور انہیں یہاں کی خوبصورتی، مہمان نوازی اور نیک دلی کے بارے میں بتاسکیں۔