اسلام آباد: پاناما لیکس کی تحقیقات اور آف شور کمپنیوں میں لگایا گیا سرمایہ واپس لانے کے لیے جماعت اسلامی نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

جماعت اسلامی کی درخواست میں وفاق، وزارت خزانہ، قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سمیت دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا، تاہم اس میں وزیراعظم نواز شریف سمیت کسی سیاستدان کا نام شامل نہیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ آف شور کمپنیوں کے لیے غیر قانونی طریقے سے رقم باہر بھیجی گئی، عوامی عہدہ رکھنے والے بھی غیر قانونی رقم لوٹنے والوں میں شامل ہیں، جبکہ معاملے کو طول دینے کے لیے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) کو حتمی شکل نہیں دی جا رہی۔

درخواست دائر کرنے کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ قومی دولت لوٹنے والوں کو گرفتار کرکے تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

سراج الحق نے دیگر سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغل شہزادے اور سیاسی پنڈت گذشتہ 68 سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں، گھنٹی باندھنے کی بات سب کرتے ہیں لیکن باندھنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا اور نہ ہی حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے۔

مزید پڑھیں:پاناما لیکس کمیشن: حکومت جماعت اسلامی سے مدد کی خواہاں؟

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے اپوزیشن کو خود کو احتساب کے لیے پیش کرنا چاہیے اور نواز شریف، آصف علی زرداری، عمران خان، سراج الحق سب کا احتساب ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف عدالتی دروازہ کھٹکھٹانے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

سراج الحق نے مزید کہا کہ پاناما لیکس کے بعد 3 بار وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ذاتی صفائی پیش کی، دوسری جانب حکومت نے سپریم کورٹ کو خط لکھا کہ کمیشن بنایا جائے، سپریم کورٹ کے جواب کو 4 ماہ گزر گئے، لیکن حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں نے کمیشن کا مطالبہ کیا، ٹی او آر پر بنائی گئی کمیٹی کے 8 اجلاسوں میں بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا، لیکن حکومت وقت لے رہی ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں آف شور ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے مالی معاملات عیاں ہوئے۔

تحقیقاتی صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم (انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹیو جرنلسٹس) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے جس میں درجنوں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی 'آف شور' کمپنیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں : شریف خاندان کی 'آف شور' کمپنیوں کا انکشاف

ان دستاویزات میں روس کے ولادمیر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل ہیں،اس ڈیٹا میں وزیراعظم نواز شریف کے اہل خانہ کی آف شور ہولڈنگز کا ذکر بھی موجود ہے۔

ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، وزیراعظم کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔

پاناما لیکس میں نواز شریف کے بچوں کے نام پر آف شور کمپنیاں ہونے کے انکشاف کے بعد پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت کئی بڑی جماعتوں نے وزیراعظم سے استعفے اور ان کمپنیوں میں منتقل ہونے والی رقم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

اس سلسلے میں وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا تھا البتہ اس کمیشن کے ضابطہ کار پر حکومت اور حزب اختلاف میں اتفاق نہیں ہو سکا۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں