ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران کیا کرنا چاہیے؟

اپ ڈیٹ 28 اگست 2016

ای میل

گزشتہ کچھ عرصے سے فضائی سکیورٹی ایک بہت ہی اہم موضوعِ بحث بن چکی ہے مگر اس ضمن میں صرف اس بات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے کہ حکام اور ایئر لائنز کو کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔

جہاز میں سوار مسافر کے طور پر آپ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے نتیجے میں اپنی اور ممکنہ طور پر دوسروں کی کچھ مدد کی غرض سے مخصوص ردِ عمل دینا ہوتا ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ردِ عمل کیا ہے؟

جب دوران پرواز آپ کے سامنے ہنگامی حالات کے اقدامات کا عملی مظاہرہ پیش کیا جا رہا ہوتا ہے تو کیا آپ اس پر دھیان دیتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی ہوائی جہاز میں اپنے سامنے موجود سیٹ پاکیٹ سے ایمرجنسی کارڈ پڑھا ہے؟

حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ہوائی جہاز کی ایمرجنسی لینڈنگ کی ویڈیو زیرِ بحث ہے۔ کئی لوگوں نے ویڈیو دیکھ کر اس بات کی مذمت کی کہ مسافر جہاز سے نکلنے کے بجائے اپنا قیمتی وقت سامان کو اوپر سے باہر بھینکنے میں ضایع کر رہے تھے۔ دیگر کے مطابق آخر یہ کیسے ممکن ہے کوئی اپنا قیمتی سامان پیچھے چھوڑ جائے۔

ایئرلائن کے عملے سے اس بارے میں پوچھنے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی صورتحال میں مسافروں کا واحد مقصد جلد سے جلد جہاز سے باہر نکلنا ہی ہونا چاہیے۔

بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ طریقہ کار کے مطابق کسی بھی ہوائی جہاز کی ایمرجنسی لینڈنگ ہونے کے 90 سیکنڈز کے اندر جہاز کو مسافروں سے خالی کروا دینا چاہیے۔

مگر اتنے کم وقت میں یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟

عام طور پر جہاز کے عملے کو کپتان کی جانب سے ایمرجنسی لینڈنگ کے لیے خبردار کر دیا جاتا ہے۔ ایسی اطلاع ملتے ہی عملہ مسافروں کو کچھ ضروری ہدایات دے گا کہ:

  • آپ کو کس انداز میں بریس پوزیشن اختیار کرنی ہے، کس طرح آکسیجن ماسک پہننا ہے (ہمیشہ پہلے خود اپنی حفاظت کریں پھر دوسروں کی مدد کریں)۔

  • اگر کوئی صحتمند اور فٹ مسافر اکیلے سفر کر رہے ہیں تو جہاز کا عملہ ان سے مدد کرنے کی درخواست کرے گا اور اگر وہ مسافر راضی ہوجاتے ہیں تو پھر انہیں ضروری ہدایات دی جائیں گی۔

  • ایمرجنسی ایگزٹ دروازوں کی طرف بیٹھے مسافروں کو جلد سے جلد ایک بار پھر ضروری اقدامات کی ہدایات دی جائیں گی (یاد رکھیے اگر آپ مدد کرنے کی حالت میں نہ ہوں تو ایمرجنسی سیٹ کا انتخاب نہ کریں، بھلے ہی وہ سیٹ پورے کیبن میں کتنی ہی آرامدہ کیوں نہ ہو۔)

  • عملہ آپ کو ایمرجنسی سلائیڈ استعمال کرتے ہوئے اونچی ایڑی والے جوتے یا دیگر تیز دھار چیزوں کو اتارنے کی ہدایت دے گا۔ (ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ سلائیڈ میں شگاف نہ پڑ ے اور اس میں سے ہوا خارج نہ ہوجائے۔ کیونکہ پانی میں لینڈنگ کے دوران وہ سلائڈ ایک رافٹ یا بیڑے کا کام دے سکتی ہے۔)

  • عملہ آپ کو اپنا مکمل سامان اور چیزیں پیچھے چھوڑنے کی ہدایت دے گا۔ (یہ انتہائی اہم بھی ہے کیونکہ باہر نکلتے ہوئے اگر آپ اپنا سامان یا دیگر چیزیں اٹھاتے ہیں تو اس طرح آپ خود کو یا دیگر مسافروں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس طرح آپ کو اور آپ کے پیچھے قطار بنائے کھڑے مسافروں کو باہر نکلنے میں چند سیکنڈز کی ہی سہی لیکن دیر ہو سکتی ہے۔)

مشورہ: ایئرلائن عملہ مسافروں کو قریب ترین ایمرجنسی ایگزٹ دروازے سے اگلی اور پچھلی سیٹوں کی قطاریں گننے کا کہتے ہیں۔ یہ مشورہ اس لیے دیا جاتا ہے کیونکہ بلیک آؤٹ یا فلور لائٹس خراب ہونے کی صورت میں آپ کو اپنی سمت کھونے کا کافی خدشہ ہوتا ہے اور آپ گر بھی سکتے ہیں۔

قیمتی چیزوں کا کیا کریں؟

سفر کے دوران سب سے قیمتی چیز سفری دستاویزات ہونی چاہیئں۔ گو کہ ایمرجنسی کی صورتحال میں ایئر لائن اور حکام دونوں اس دستاویز کا متبادل آسانی فراہم کر سکتے ہیں مگر پھر بھی وہ ایک عارضی سفری اجازت نامہ یا ایک نیا پاسپورٹ ہوسکتا ہے، مگر پرانا پاسپورٹ کھو دینے سے آپ عام طور پر اپنا سفری ریکارڈ کھو بیٹھتے ہیں۔

تمام سفر مندرجہ ذیل چیزیں اپنے ساتھ رکھیں:

  • پاسپورٹ

  • شناختی کارڈ

  • فون

  • کریڈٹ کارڈ یا/اور کیش

  • دوائیوں کا ڈبہ (خاص طور پر جب آپ متواتر دوائی لیتے ہوں)

ایسا آپ کس طرح کر سکتے ہیں؟: ایک مناسب لباس کا انتخاب کریں۔

  • سفر کے دوران ایسے کپڑے پہنیں جس میں کئی ساری جیبیں ہوں۔

  • ایک سفری پاؤچ اپنے پاس رکھیں جو آپ سے بندھا ہوا ہو یا جسے باآسانی اپنے گلے میں لٹکا سکیں۔

مشورہ: لباس میں موجود وہ جیبیں جو زپ سے بند بھی ہو سکتی ہوں وہ سب سے محفوظ ہوتی ہیں ورنہ ایمرجنسی کی افراتفری یا جھکنے پر بھی آپ کی شرٹ یا پینٹ کی جیبوں سے آپ کی قیمتی چیزیں باآسانی نکل سکتی ہیں۔

ہمیشہ اپنے ساتھ سفری دستاویزات رکھنے کے کئی سارے فوائد ہیں:

  • کسی ایمرجنسی کی صورتحال میں باآسان شناخت

  • دستاویزات کھونے کا کم سے کم خدشہ

  • آپ انہیں چوری ہونے سے بھی بچا سکتے ہیں (کچھ مسافروں سے ایسا بھی جاننے کو ملا ہے کہ جنہوں نے سکیورٹی چیک پوائنٹس سے گزرتے وقت سفری دستاویزات کھو دیے کیونکہ یا تو وہ بیگ سے نکل جاتے ہیں یا پھر اسکریننگ کے دوران پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ہوائی جہاز میں بنے سامان رکھنے کے ریک میں اگر وہ تھیلوں میں ڈھیلے انداز میں رکھے گئے ہوں تو ان تھیلوں کو دوبارہ ترتیب دینے کے دوران وہ باآسانی نکل سکتے ہیں)۔


وہ پاکستانی جو بیرونِ ملک سفر کے دوران اپنا پاسپورٹ کھو بیٹھیں انہیں ان باتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔


  • آپ کو ایک عارضی سفری دستاویز فراہم کی جائے گی جس کے ذریعے آپ کو صرف پاکستان جانے کی اجازت ہوگی۔ اگر آپ تیسرے ملک میں مقیم ہیں یا یہاں تک کہ آپ کے پاس اس ملک کی شناختی دستاویزات ہیں تب بھی شاید آپ کو دوبارہ داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔

  • آپ کو ایک نیا پاسپورٹ بھی فراہم کیا جاسکتا ہے مگر یہ سفارتی مشن کی دستیابی پر منحصر ہے، اور اس میں ایک ہفتے سے 10 دن کا عرصہ درکار ہو سکتا ہے۔

مندرجہ ذیل کوائف کو ثابت کرنے کے لیے دستاویزی ثبوت:

  • آپ کی قومیت: اس کے لیے آپ کے قابلِ قبول کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور قومی شناختی کارڈ برائے بیرون ملک پاکستانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی نقل بھی ہو سکتی ہے یا اگر اس کا نمبر یاد ہو تو وہ بھی ٹھیک ہے۔

  • اُس ملک میں آپ کی قانونی حیثیت:

  • آپ اس ملک میں کب پہنچے (اصل تاریخ، یا لمبا عرصہ گزر جانے کی صورت میں اندازاً عرصہ، یا امیگریشن اسٹیمپ)

  • ٹرانسپورٹ کے ذرائع (ایئر لائنز کے بورڈنگ پاسز، ٹرین کے ٹکٹس، کرائے پر کار لینے کا معاہدہ، وغیرہ)

  • اس ملک میں داخل ہونے کا آپ کون سی اجازت رکھتے ہیں (ویزا، رہائشی اجازت نامہ، وغیرہ)

  • آپ نے کہاں اور کس طرح پاسپورٹ کھویا:

دستاویزات گم ہو جانے کی صورت میں مقامی پولیس رپورٹ لازمی ہے خاص طور پر اگر ان کے گم ہونے کا تعلق ایئرلائن یا ٹرین کی ایمرجنسی سے نہ ہو (کیونکہ عام طور پر ایمرجنسی کی صورت میں ٹرانسپورٹیشن حکام مدد کرتے ہیں۔)

آپ کس طرح تمام دستاویزات کے ریکارڈز کی اپنے پاس موجودگی یقینی بنا سکتے ہیں:

  • آپ اپنے پاسپورٹ کے شناختی صفحات، ویزا، کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ، نائیکوپ، ٹکٹس، ہوٹلز کی بکنگ یا سفر سے متعلقہ دیگر دستاویزات جیسے پاسپورٹ پر لگے داخلی اور خارجی ٹھپے سب کی آن لائن کاپی رکھیے۔ (آپ جیسے ہی اس ملک میں پہنچیں تو امیگریشن کے فوراً بعد ٹھپوں کی تصویر لے کر خود کو ای میل کیجیے۔ اگر آپ کے پاس ڈیٹا رومنگ ہے تو ای میل یا انٹرنیٹ کے لیے اس کا استعمال کریں یا پھر وائی فائی کا استعمال کریں جس کی سہولت اکثرو بیشتر بین الاقوامی ایئرپورٹس پر باآسانی دستیاب ہوتی ہے۔)

  • عارضی دستاویزات پر ایک بار پاکستان واپس پہنچنے کے بعد امیگریشن حکام کی جانب سے آپ سے دیگر کارروائی متوقع ہوتی ہے۔ وہ ایک بار پھر آپ کی قومی شناخت معلوم کرتے ہیں اور اور اس بات کی تصدیق بھی کریں گے کہ آپ نے جن دستاویزات کے تحت سفر کیا ہے وہ قانونی طور پر جاری شدہ ہیں۔

  • اس کے بعد آپ کو نئے پاسپورٹ کی درخواست دینے کے لیے پاسپورٹ آفس جانا ہوگا۔

مشورہ: آپ کو جاری ہونے والی ہر دستاویز کی نقل اپنے پاس رکھیں کیونکہ وہ ایئرلائن، امیگریشن حکام اور پاسپورٹ آفس میں کسی بھی جگہ مطلوب ہوسکتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ مستقبل میں ویزا درخواستیں دینے کی صورت میں آپ سے پاسپورٹ گم ہوجانے کا جواز فراہم کرنے کو کہا جائے گا۔

اگر آپ کے گم شدہ پاسپورٹ پر ویزے ہیں تو اس بارے میں ویزا جاری کرنے والے متعلقہ سفارت خانے یا قونصل خانے کو اطلاع دیں۔ اس طرح آپ کا ویزا/پاسپورٹ بلاک ہو جائے گا اور اس کا کوئی غلط استعمال نہیں کر پائے گا۔

سفر بخیر۔

انگلش میں پڑھیں۔