پاکستان کی کشمیر پالیسی کیا ہے؟

اپ ڈیٹ 02 ستمبر 2016

ای میل

لکھاری امریکا، ہندوستان اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر، اور عراق اور سوڈان میں اقوامِ متحدہ کے مشنز کے سربراہ رہ چکے ہیں۔
لکھاری امریکا، ہندوستان اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر، اور عراق اور سوڈان میں اقوامِ متحدہ کے مشنز کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

پاکستان کشمیر میں موجودہ صورتحال پر اپنے مؤقف پر عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہندوستانی مؤقف کے برعکس پاکستانی مؤقف قانونی، انسانی حقوق، اور مقبوضہ کشمیر کی وادی کی اکثریتی عوام، جو کہ ہندوستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں بھی اکثریت میں ہیں، کی خواہشات سے مطابقت رکھتا ہے۔ رائے شماری کے ذریعے مکمل سابقہ جموں و کشمیر کے لیے حقِ خودارادیت کا مطالبہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے عین مطابق ہے۔

کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ نام نہاد الحاق سلامتی کونسل کی جانب سے بے بنیاد اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان نے جو بھی پالیسی غلطیاں کی ہوں یا نہ کی ہوں، کشمیر کے لوگوں کے حقوق کا مطالبہ ہوا میں نہیں اڑایا جا سکتا۔

پڑھیے: سری نگر سے ایک خط: ظلم کی رات کب ختم ہوگی؟

مگر دنیا سیاسی، قانونی اور اخلاقی اعتبار سے بالکل بھی کامل نہیں ہے۔ طاقت، قومی مفادات، خوشنما مگر بے بنیاد دلائل، اور بدلتی ترجیحات و خدشات سیاسی پیش رفت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان نے کبھی بھی کشمیر کی جانب ایسی طویل مدتی پالیسی یا حکمتِ عملی تیار کرنے کی طرف توجہ نہیں دی ہے جس میں اخلاقیات اور قوانین نتائج پر اثر انداز ہو سکیں۔

پاکستان نے طویل مدتی حکمتِ عملیوں کو اس لیے نظرانداز کیے رکھا ہے کیونکہ یہ طبقاتی نظام پر مبنی اشرافیہ دوست اور قومی سلامتی کی ریاست ہے۔ لہٰذا یہ عوامی تحریکوں سے دور رہتی ہے پھر بھلے ہی وہ ان مقاصد کے لیے ہوں جن کی ریاست سرکاری طور پر حمایت کرتی ہے۔

اس کے نتیجے میں معاشی ترقی، شراکت داری اور مضبوط اداروں پر مبنی جمہوریت، عوام کے تمام حقوق، انسانی حقوق اور 'کشمیر کاز' کی حمایت، یہ تمام وہ نکات ہیں جن کا ڈھنڈورا علامتی طور پر پیٹا جاتا ہے، اور اکثر بڑی شدت کے ساتھ پیٹا جاتا ہے۔

مگر ہمارے رہنما اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کے حصول کے لیے کوئی بھی منظم اور کامیاب عوامی تحریک جنم لینے نہ پائے۔ کیوں؟ اس لیے کہ مقتدر حلقہ اور اونچا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کی تحریکیں اس سیاسی 'اسٹیٹس کو' کو کمزور کر دیں گی جس پر ان کی حکومت قائم ہے۔

چنانچہ ہمارا تضاد یہ ہے کہ ہمارے پاس ایک غیر منصفانہ، اسٹیٹس کو پر مبنی حکمران اشرافیہ ہے جو کشمیر تنازعے کا ایک منصفانہ حل چاہتی ہے۔ اگر کوئی قلیل مدتی حل موجود ہوتا تو شاید اس تضاد سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ پر کیوں کہ ایسا کوئی قلیل مدتی حل موجود نہیں ہے، اس لیے کشمیر تنازعے کے حل کے لیے صرف طویل مدتی طریقہ ہی کارگر ثابت ہوگا۔

یہ بات پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے لیے کبھی بھی قابلِ قبول نہیں رہی ہے کیوں کہ ایسا کرنے کے لیے بلاشبہ پاکستان میں سیاسی اسٹیٹس کو میں تبدیلیاں لانی ہوں گی۔

مزید پڑھیے: ہماری آنکھیں ہم سے مت چھینیں

انڈیا جو کہ خود بھی بڑے پیمانے پر ایک سیاسی اسٹیٹس کو ہے، اور کشمیر میں اسٹیٹس کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، اسے اس تضاد کا سامنا نہیں ہے، خاص طور پر حقیقی دنیا میں، اور وہ بھی قلیل مدتی تناظر میں۔ بدقسمتی سے پاکستان کی کشمیر پالیسی — جو اس کی مقامی سیاست پر ہی منحصر ہے — صرف قلیل مدت کی ناکام پالیسیوں کا مجموعہ ہے جنہوں نے کبھی بھی ایک طویل مدتی پالیسی کا روپ نہیں لیا ہے۔ لہٰذا ہمارا ملک کشمیر پر ہندوستانی مؤقف اور اس کی پالیسیوں کی طویل مدتی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوا ہے۔

اس کے علاوہ دیگر پیش رفتوں نے بھی پاکستان سے زیادہ ہندوستان کو فائدہ پہنچایا ہے۔ دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں، لہٰذا بین الاقوامی برادری کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ تصادم کو روکا جائے، اور جیسے تیسے ہی سہی، مذاکرات چلتے رہیں بجائے اس کے کہ مسئلہء کشمیر پر ہندوستان کی شدید مخالفت کے باوجود ایک منصفانہ حل زبردستی نافذ کر دیا جائے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان خطے اور عالمی سطح پر ایک اہم ملک کے طور پر ابھرا ہے اور دنیا کے بڑے ممالک اسے تنہا نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے برعکس پاکستان مشکلات کی شکار، اور ممکنہ طور پر ایک ناکام ریاست کے طور پر ابھرا ہے جس کی کشمیر کاز کے لیے حمایت جائز ہونے کے باوجود خود اس کاز کے لیے ایک بوجھ بن کر رہ گئی ہے۔

ان حقائق کا سامنا کرنے کے بجائے حکومت کی موجودہ جذباتی ڈپلومیسی ہماری بے سمت کشمیر پالیسی پر تنقید کرنے والوں کو جواب دینے تک محدود ہے۔ وادی میں اپنی بربریت کی وجہ سے ہندوستان واقعی مشکل پوزیشن میں ہے۔ عالمی طاقتیں انسانی حقوق کی صورتحال سے اچھی طرح واقف ہیں اور انہوں نے ہندوستان کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا ہے۔ مگر مجموعی طور پر وہ اس نکتہء نظر پر راسخ ہیں کہ کشمیر تنازع کا صرف ایک جغرافیائی اسٹیٹس کو پر مبنی حل نکالا جا سکتا ہے۔ ہمارا پیارا دوست چین بھی اسی نکتہء نظر کا حامل ہے۔

ہمارے جو بھی نمائندگان مختلف ممالک میں پاکستان کی پوزیشن واضح کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں، انہیں اس سوال کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا: کیا پاکستان ان حدود میں رہتے ہوئے کسی حل کی جانب پیش رفت کرنے کے لیے تیار ہے؟ اور اگر نہیں، تو یہ وادی کے لوگوں کی پریشانیوں کو کس طرح ختم کرے گا، اور ہندوستان کے ساتھ تباہ کن تنازعے سے کس طرح بچے گا؟

اگر پاکستانی وفود نے جواب میں صرف یہی کہا کہ عالمی برادری قانونی اور اخلاقی تقاضے پورے کرتے ہوئے ہندوستان پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کرنے کے لیے زور ڈالے تو وہ خالی ہاتھ ہی لوٹیں گے۔ مگر کہنے کا مقصد یہ بھی نہیں ہے کہ پاکستان ان قراردادوں سے خود ہی دستبردار ہوجائے۔

پڑھیے: کشمیر کے ایس ایچ او مارک زکربرگ

جذباتی اور بے فائدہ ڈپلومیسی کا متبادل کیا ہے؟ ہمیں ہندوستان اور کشمیر کی جانب ایک طویل مدتی حکمتِ عملی تیار کرنی ہوگی۔ ہاں اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ ایک طویل مدتی حکمتِ عملی کام کرے گی، خاص طور پر اگر ہندوستان کے انتہائی غیر لچکدار رویے کو مدِ نظر رکھا جائے۔

مگر جب تک ہم خود ایسی کسی حکمتِ عملی پر ایمانداری سے عمل پیرا نہیں ہوسکتے، تب تک دنیا کے کسی بھی دارالحکومت سے کوئی بھی ایسا مثبت پالیسی ردِ عمل نہیں آئے گا جو ہندوستان پر اثرانداز ہو سکے۔

بصورتِ دیگر کشمیریوں کے پاکستان کے بارے میں بدترین شکوک و شبہات یقین میں بدل جائیں گے۔ پاکستان پر ان کا تجدید شدہ اعتماد ختم ہوجائے گا۔ کشمیریوں کے احساسِ تنہائی اور ناامیدی سے کھیلنے کی مودی کی حکمتِ عملی سے بالآخر ایک کشمیری نوجوان کی لازوال قربانی کی اہمیت کم لگنے لگے گی۔

ہمارے وفود کشمیر کی حالیہ صورتحال کو کشمیری عوام، ہندوستان اور پاکستان کے لیے قابلِ قبول حل کی حکمتِ عملی کے تناظر میں کس طرح پیش کریں گے جب ہمارے پاس ایسی کوئی حکمتِ عملی ہے ہی نہیں؟

ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا سوچنا آج چاہے جتنا ہی مشکل اور پرخطر لگتا ہو، مگر اس امکان پر غور، اور ساتھ ساتھ وادی میں انسانی اور سیاسی حقوق کی بحالی، اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق سمجھوتہ ہی واحد راستہ ہے۔ تمام دیگر حکمتِ عملیاں خلوص سے عاری ہوں گی۔ وزیرِ اعظم کو فوری طور پر طویل مدتی کشمیر حکمتِ عملی کے نکات واضح کرنے چاہیئں۔

لکھاری امریکا، ہندوستان اور چین میں پاکستان کے سابق سفیر، اور عراق اور سوڈان میں اقوامِ متحدہ کے مشنز کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 2 ستمبر 2016 کو شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔