ایف آئی اے اہلکاروں پر انسانی اسمگلنگ کا الزام

04 ستمبر 2016

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی( ایف آئی اے) کے پانچ اہلکاروں کے خلاف انسانی اسمگلنگ کے الزام میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ایف آئی اے کے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل کی جانب سے ایف آئی آر میں شفٹ سپروائزر ضیاء الحسن، جنرل چیکر سب انسپکٹر قاری ارشد، ہیڈ کانسٹیبل فیصل کہوٹ، انسپکٹر عظمت اور سب انسپکٹر شبانہ کو نامزد کیا ہے۔

دیگر تین ملزمان ادراش ملک، کامران اور ارسلان کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق انسانی اسمگلنگ میں ملوث یہ گروہ اس وقت منظر عام پر آیا جب 16 اگست کو براستہ ترکی لیبیا جانے کی کوشش کرنے والے تین پاکستانیوں کو ترک حکام نے روک لیا اور انہیں 24 اگست کو ڈی پورٹ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: لڑکی کے ساتھ زیادتی، ایف آئی اے افسر ملوث

ایئرپورٹ پر تعینات امیگریشن حکام نے ان افراد کو حراست میں لے کر پاسپورٹ سیل کے حوالے کرنے کے بجائے جانے دیا۔

ایف آئی اے اسلام آباد سرکل کے ڈائریکٹر مظہر الحق کاکاخیل کی ہدایات پر اس معاملے کی تحقیقات شروع کی گئیں اور یہ معلوم ہوا کہ ڈی پورٹ کیے جانے والے پاکستانیوں کے پاس جعلی ویزے تھے اور اس بات کی تصدیق اسلام آباد میں لیبیا کے سفارتخانے نے بھی کی۔

ایف آئی آر کے مطابق مزید تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایف آئی اے کے کئی اہلکار انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہیں جس کے بعد اس معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی تاہم ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی اور گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

مزید پڑھیں: چوہدری نثار کا ایف آئی اے تحلیل کرنے کا انتباہ

نومبر 2015 میں ایف آئی اے نے انسانی اسمگلرز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا جس کا مقصد مہاجرین کے بہاؤ کو خاص طور پر یورپ جانے سے روکنا تھا۔

اس وقت وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ ایف آئی اے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے تاہم اس حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔


ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں