امریکا اور روس شام میں جنگ بندی پر متفق

10 ستمبر 2016

ای میل

شام میں امریکا باغیوں کی جبکہ روس صدر بشارالاسد کی حمایت کرتا ہے—فوٹو/ اے پی
شام میں امریکا باغیوں کی جبکہ روس صدر بشارالاسد کی حمایت کرتا ہے—فوٹو/ اے پی

جنیوا: امریکا اور روس شام میں جنگ بندی کے معاہدے پر متفق ہوگئے جس کے بعد پیر سے وہاں سیز فائر کا آغاز ہوجائے گا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شام میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات جاری تھے جو اس بار کامیاب رہے، مذاکرات میں امریکا کی نمائندگی وزیر خارجہ جان کیری جب کہ روس کی نمائندگی وزیر خارجہ سرگئی لارووف کررہے تھے۔

مزید پڑھیں:شام میں روسی کارروائی،امریکا کو تشویش

اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بتایا کہ ’روس اور امریکا شام میں جنگ بندی کے معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں‘۔

معاہدے کی تفصیلات

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ شام میں جنگ بندی کا آغاز پیر 12 ستمبر سے ہوگا اور جنگ بندی کے دوران شامی افواج اور فضائیہ باغیوں کے خلاف کارروائیاں نہیں کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ شامی حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی کو اس معاہدے کی پاسداری کرنی ہوگی، معاہدے کے تحق شامی فضائیہ اپوزیشن کے زیر اثر علاقوں میں بمباری نہیں کرے گی جس کی وجہ سے بے گناہ شہری بھی مارے جاتے ہیں۔

جان کیری نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد شامی حکومت کی جانب سے بیرل بموں کے استعمال کا سلسلہ رک جانا چاہیے جو عام شہریوں کی ہلاکت اور نقل مکانی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:تنازع شام پر امریکا اور روس کے مذاکرات بے نتیجہ

جان کیری اور سرگئی لارووف نے میڈیا کو بتایا کہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے 7 روز گزرنے کے بعد امریکا اور روس شام میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرہ فرنٹ اور داعش کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے ملٹری کو آرڈینیشن پر کام شروع کریں گے۔

جان کیری نے بتایا کہ النصرہ فرنٹ کے خلاف کارروائی کے فیصلے کو کوئی دوسرا گروپ اپنے لیے رعایت نہ سمجھے، شامی اپوزیشن میں شامل وہ جماعتیں جو چاہتی ہیں کہ ان کی قانونی حیثیت برقرار رہے وہ خود کو ہر طریقے سے داعش اور النصرہ فرنٹ سے علیحدہ کرلیں۔

کیری کے مطابق امریکی و روسی ماہرین داعش اور النصرہ فرنٹ کو شکست دینے کے لئے مل کر کام کریں گے اور اس حوالے سے دونوں ممالک معلومات کا تبادلہ بھی کریں گے جبکہ مشترکہ سینٹر بھی قائم کیا جائے گا۔

روسی صدر سر گئی لارووف کا کہنا تھا کہ طے ہونےوالے معاہدے سے شامی حکومت کو آگاہ کردیا گیا ہے اور وہ اس پر عمل کرنے کے لیے آمادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:شام بحران مذاکرات : سعودیہ اور ایران کا شرکت کا اعلان

جان کیری نے بتایا کہ جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں محصور شہریوں تک امداد کی رسائی بھی ممکن ہوسکے گی۔

امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنگ بندی اسی وقت ممکن ہوسکے گی جب شامی حکومت اور باغی گروپس دونوں ہی اس کا احترام کریں گے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف نے بتایا کہ ’ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ امریکا اور روس دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں گے اور ان علاقوں پر بھی اتفاق ہوگیا ہے جہاں کارروائیاں کی جائیں گی اور وہاں صرف امریکی یا روسی فضائیہ ہی کارروائی کرے گی‘۔

واضح رہے کہ شام میں گزشتہ پانچ برس سے خانہ جنگی جاری ہے اور اس دوران اب تک 2 لاکھ 90 ہزار کے قریب افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔

امریکا شام میں باغی گروپس کی حمایت کرتا ہے جنہیں وہ معتدل کہتا ہے جب کہ روس شامی صدر بشار الاسد کا حامی ہے۔