ہنزہ:عید قرباں کی وہ روایت جس سے ہر گھر میں گوشت یقینی

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2016

ای میل

— فوٹو: بشکریہ علی اکبر
— فوٹو: بشکریہ علی اکبر

پاکستان کے انتہائی شمال میں پاک ۔ چین سرحد کے قریب، سبز پہاڑوں میں گِھری وادی ہنزہ ناصرف اپنی مہمان نوازی، ثقافت اور موسیقی کے لیے مشہور ہے، بلکہ عید الاضحیٰ کے موقع پر یہاں قربانی کی بھی منفرد روایت قائم کی جاتی ہے۔

وادی کے کمیونٹی سینٹر کے سرسبز گارڈن میں تقریباً 130 جانور قربانی کے لیے موجود تھے، جبکہ مقامی افراد اور رضاکار اپنے آلات کو دھار لگا رہے تھے، گارڈن میں موجود کسی شخص کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان جانوروں کے مالکان کون ہیں۔

نماز عید کے بعد، مجمع میں موجود چند افراد نے زور دار آواز میں نمازیوں سے درخواست کی کہ وہ قربانی کے لیے اپنے جانور پیش کرنے والوں کے لیے خصوصی دعا کریں۔

تمام جانور ایک ہی کمیونٹی سینٹر میں ذبح کیے گئے، جس کے بعد ان کا گوشت مقامی افراد میں برابر تقسیم کیا گیا اور ہر کسی کو، چاہے اس نے خود قربانی کی ہو یا نہیں، گوشت کا ایک جتنا حصہ دیا گیا۔

ہنزہ کے علاقے علی آباد کے ایک رہائشی اور قربانی اور مقامی افراد کے ساتھ مل کر گوشت کی تقسیم کے انتظامات کو سنبھالنے والے رضاکاروں کے گروپ کے سربراہ شیر افضل کا کہنا تھا کہ ’یہ صدیوں پرانی روایت ہے، جس سے ہم مطمئن ہیں، کیونکہ ہم اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔‘

علاقے میں قربانی کی اس منفرد روایت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شیر افضل کا کہنا تھا کہ ’رضاکاروں کا گروپ، جسے قربانی کے انتظام کی ذمہ داری دی جاتی ہے، وہ یہ نوٹ کرتا ہے کہ کون کون قربانی کا خواہشمند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وجذبے سے منائی گئی

انہوں نے کہا کہ ’مقامی افراد کے گائے، بکرے اور دنبے سمیت قربانی کے اپنے جانور ہوتے ہیں اور وہ اس روایت کے تحت اپنے جانور قربانی کے لیے پیش کرتے ہیں، جبکہ جن کے اپنے جانور ہوتے ہیں ان کے نام دیگر لوگوں سے خفیہ رکھے جاتے ہیں۔

شیر افضل نے کہا کہ ’رواں سال عید الاضحیٰ کے موقع پر ہمیں گائے، بیل، بکرے اور دنبے سمیت 130 جانور قربانی کے لیے موصول ہوئے، جنہیں رضاکاروں نے اللہ کی راہ میں قربان کیا اور گوشت کے ٹکڑے کیے اور جب یہ عمل مکمل ہوا تو کُل گوشت کا وزن کیا گیا، جو تقریباً 5 ہزار 200 کلو گرام تھا، جو برابری کے لحاظ سے علاقے کے ایک ہزار 300 گھروں میں تقسیم کیا گیا، یعنی فی گھر کو 4 کلو گوشت ملا۔‘

ان کا کہنا تھا ’علاقے کے زیادہ تر افراد قربانی کا جانور خریدنے کی سَکت نہیں رکھتے، لیکن اس طرح انہیں برابر گوشت مل جاتا ہے۔‘

ویڈیو دیکھیں: عید الاضحٰی پر ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات

انہوں نے دعویٰ کیا کہ قربانی کا صدیوں پرانا یہ روایتی طریقہ گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں میں بھی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔

علی آباد علاقے کے ایک اور رہائشی پیار علی کا کہنا تھا کہ ’ہم عید الاضحیٰ اس کی اصل روح کے مطابق مناتے ہیں، اور ہر گھر میں برابر گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔‘

ہنزہ کے ایک رہائشی نے کہا کہ ’میں قربانی کا جانور ذبح کرنے کی سَکت نہیں رکھتا، لیکن اس کے باوجود ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر مجھے گوشت مل جاتا ہے۔‘