الطاف حسین کی تقریر:فاروق ستارکے ناقابل ضمانت وارنٹ

28 ستمبر 2016

ای میل

کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان مخالف تقریر کیس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 22 اگست کو ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے کارکنوں سے خطاب میں پاکستان مخالف نعرے لگوائے تھے، جس پر کارکنوں نے مشتعل ہوکر نجی نیوز چینل اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ کردیا تھا، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اورآنسو گیس کا استعمال کیا، اس موقع پر فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔

مزید پڑھیں:الطاف حسین نے کیا کہا ...

الطاف حسین کی تقریر کے بعد 2 مقدمات درج کرائے گئے تھے۔

فاروق ستار پر الزام ہے کہ کہ انھوں نے 22 اگست کو الطاف حسین کی تقریر کے انتظامات کیے، اسے سنا اور سہولت کاری کی۔

عدالت میں پیش کی گئی چارج شیٹ میں فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن سمیت ایم کیو ایم کے 52 رہنماؤں کو نامزد کیا گیا جبکہ 15 سو سے 2 ہزار کارکنان کو مفرور قرار دے دیا گیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے منتظم جج نے الطاف حسین اور فاروق ستار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کیس مزید سماعت کے لیے اے ٹی سی 2 کو بھیج دیا۔

22 اگست کو پریس کلب میں خطاب کے بعد الطاف حسین نے امریکا میں بھی کارکنان سے خطاب کیا تھا، جس کی آڈیو کلپ انٹرنیٹ پر سامنے آئی جس میں الطاف حسین نے کہا کہ 'امریکا، اسرائیل ساتھ دے تو داعش، القاعدہ اور طالبان پیدا کرنے والی آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج سے خود لڑنے کے لیے جاؤں گا'۔

بعدازاں پریس کلب پر میڈیا سے گفتگو کے لیے آنے والے ایم کیو ایم رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو رینجرز نے گرفتار کرلیا تھا جبکہ ڈاکٹر عامر لیاقت کو ان کے دفتر سے گرفتار کیا گیا،ان رہنماؤں کو اگلے دن رہا کیا گیا۔

دوسری جانب ان واقعات کے بعد رینجرز اور پولیس نے شہر بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر نائن زیرو سمیت متعدد سیکٹرز اور یونٹس بند کرنے کے ساتھ پارٹی ویب سائٹ کو بھی بند کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم کے فیصلے اب پاکستان میں ہوں گے، فاروق ستار

23 اگست کو دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے پارٹی کے تمام فیصلے پاکستان میں کرنے کا اعلان کیا، بعدازاں پارٹی کی جانب سے اپنے بانی اور قائد سے قطع تعلقی کا بھی اعلان کردیا گیا اور ترمیم کرکے تحریک کے بانی الطاف حسین کا نام پارٹی کے آئین اور جھنڈے سے بھی نکال دیا گیا، اسی روز سے ڈاکٹر فاروق ستار نے متحدہ قومی موومنٹ کی سربراہی سنبھال لی تھی۔

الطاف حسین کے پاکستان مخالف بیان پر حکومت بانی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کے لیے ریفرنس برطانیہ بھیج چکی ہے۔

دوسری جانب ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مقدمے کی کارروائی کے لیے بھی سندھ اسمبلی میں ایک مشترکہ قراردار منظور کی جاچکی ہے، جس کی حمایت ایم کیو ایم ارکان اسمبلی نے بھی کی تھی۔