یمن: ’سعودی اتحاد‘ کی بمباری میں 140 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2016

ای میل

بمباری کا نشانہ بننے والا ہال تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے — فوٹو: اے ایف پی
بمباری کا نشانہ بننے والا ہال تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے — فوٹو: اے ایف پی

صنعا: یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ’سعودی اتحاد‘ کی جنازہ ہال میں کی گئی فضائی بمباری کے نتیجے میں 140 سے زائد افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' نے صنعا کی وزارت صحت کے انڈر سیکریٹری ناصر الارغلی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فضائی بمباری میں525 افراد زخمی بھی ہوئے۔

پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی یہ تعداد حتمی نہیں ہے اور اس میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق بمباری کے بعد کئی انسانی اعضا بکھرے ہوئے دکھائی دیے اور متعدد لاشیں مکمل طور پر مسخ ہوچکی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: یمن میں عرب اتحاد کی فضائی بمباری، 20 ہلاک

دوسری جانب حوثی باغیوں کے زیر کنٹرول صنعاء کی وزارت صحت کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ فضائی حملے میں تقریباً 450 افراد ہلاک ہوئے تاہم آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

بمباری کا نشانہ بننے والے ہال میں حوثیوں کے ممتاز مقامی عہدیدار کے والد کے جنازے کے لیے سیکڑوں افراد موجود تھے اور باغیوں نے اس حملے کا الزام عرب اتحاد پر لگایا ہے۔

باغیوں کے زیر کنٹرول المراعش ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں صنعاء کے میئر عبد القادر ہلال بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: یمن: فوجی مرکز پر داعش کا حملہ، 71 افراد ہلاک

حملے کے ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ پہلے ایک طیارے نے بمباری کی اور اس کے چند منٹ بعد ہی دوسرے طیارے نے حملہ کیا۔

حملے کے بعد بمباری کا نشانہ بننے والے ہال میں آگ لگ گئی اور وہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کی رپورٹ میں کہا گیا کہ یمن کے سیکیورٹی اور طبی حکام نے کہا کہ حملے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں میں حوثی باغیوں کے اہم عہدیداران بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ عرب اتحاد یمنی صدر منصور ہادی کی حمایت میں 18 ماہ سے یمن میں فضائی کارروائی کررہا ہے اور اس کے حملوں میں اکثر عام شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں عرب اتحاد کی فضائی کارروائی شروع ہونے سے اب تک ساڑھے 6 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودیہ کی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ

عالمی سطح پر یمن کے صدر تسلیم کیے جانے والے منصور ہادی کی حامی ملیشیا اور فورسز نے عدن کو اپنا عارضی بیس بنایا ہوا ہے اور انہیں صنعا پر قابض حوثی باغیوں اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔

سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد نے مارچ 2015 میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

اس عرب اتحاد کو امریکا کی بھی حمایت حاصل ہے اور اس میں 9 عرب ممالک شامل ہیں اور انہوں نے فضائی کارروائیوں کے ذریعے حوثی باغیوں کو جنوبی یمن سے دور ہونے پر مجبور کردیا ہے تاہم باغیوں کا اب بھی دارالحکومت صنعا پر قبضہ برقرار ہے جو انہوں نے 2014 میں حاصل کیا تھا۔