نکاح پڑھائیں گے یا پرچہ کٹوائیں گے؟

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2016

ای میل

موضوع حساس سہی مگر خاموش رہنا بھی شریک جرم ہونے کے مترادف ہے۔ عزت و تکریمِ رسول ﷺ پر صد جان فدا، حرمتِ خاتم النبین ﷺ پر ہم قربان، نامِ مصطفیٰ ﷺ سے محبت ہمارا ایمان، یہاں تک کہ قانونِ توہینِ رسالت سو بار بجا، مگر قانونِ توہینِ رسالت کا ذاتی عناد کی تسکین یا محض مذہبی جذبات کی تسکین کے لیے استعمال سو بار ناقابل قبول ہے اور ہونا بھی چاہیے۔

آسمان نے یہ منظر بھی دیکھا کہ کیسے کوٹ رادھا کشن میں رحمت اللعالمین ﷺ کے چاہنے والوں نے بعض فتنہ پروروں کے بھڑکانے پر قانون ہاتھ میں لیا اور مبینہ طور پر قرآن کریم کے اوراق کی بے حرمتی کرنے والے مسیحی میاں بیوی کو عدل و انصاف، اور مؤقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر دہکتی بھٹی میں جھونک دیا۔

سپریم کورٹ میں یہ کیس ایک عرصے تک چلتا رہا جہاں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ جلائی جانے والی مسیحی خاتون کا باپ عملیات کا ماہر تھا اور قرآن کا کوئی نسخہ اس کے پاس تھا۔ اس کے مرنے کے بعد خاتون نے اس قرآنی نسخے کو تلف کرنے کے لیے جلا دیا اور یہی واقعہ اس کی کم بختی کی بنیاد بن گیا۔

مقام وہی کوٹ رادھا کشن ہے مگر اب کی بار نشانہ ایک امام مسجد اور ان کا شاگرد ہے، جہاں 17 سالہ ایک لڑکا قرآن پاک کے بوسیدہ اوراق جلاتا ہوا دیکھا گیا۔ استفسار پر لڑکے نے بتایا کہ قرآن پاک کے بوسیدہ اوراق سنبھالنے کا یہی ایک طریقہ ہے کہ انہیں جلا کر اس کی راکھ دفنا دی جائے اور یہ کہ یہ سب وہ اپنے استاد، مقامی مسجد کے پیش امام کی ہدایت کے مطابق کر رہا ہے۔

لڑکے کے استاد یعنی پیش امام صاحب کو بلایا گیا تو انہوں نے بھی لڑکے کے اس فعل کی تائید کی اور بوسیدہ قرآنی اوراق کو سنبھالنے کے حوالے سے ایک حدیثِ نبوی ﷺ کا حوالہ بھی دیا۔

ذرائع کے مطابق اہلِ محلہ نے اس مسئلے پر مقامی پیر صاحب سے ماہرانہ رائے مانگی، جن کے مشورے پر استاد و شاگرد کے خلاف قرآن پاک کی بے حرمتی کا پرچہ کٹوا دیا گیا، اب یہ استاد و شاگرد قید ہیں۔

اب الزام لگانے والے تو توہینِ قرآنی اوراق کا پرچہ کٹوا کر بری الذمہ ہوگئے مگر گرفتار استاد و شاگرد جیل کی کال کوٹھری میں بیٹھے اس وقت کو کئی برس کوستے رہیں گے جب ان سے یہ فعل سرزد ہوا۔

سوال تو کچھ الزام لگانے والوں کے اپنے نکمے پن پر بھی اٹھتا ہے کہ آخر حرمتِ قرآن پاک پر اس قدر حساس ہوجانے والے کیوں ایسا کوئی بنیادی مکینزم نہیں بناسکے جس کے تحت بوسیدہ قرآنی اوراق کو کسی مناسب جگہ پر اسٹور کیا جاتا۔

ہر شادی پر قرآن کے سائے میں بیٹی بیاہ دی جاتی ہے، ہر مدرسے میں لکڑی کی بینچوں پر جھکے بچے جھوم جھوم کر اس کلام الٰہی کو پڑھتے ہیں، ہر مسجد، منبر اور مجلس کی شان یہی قرآن پاک کے نسخے ہیں جن کا کاغذ وقت گزرنے اور استعمال ہونے کی وجہ سے فطری طور پر بالآخر بوسیدہ ہو جاتا ہے۔

کوئی ان حساس مزاجوں سے پوچھے کہ بھائی اتنا خیال تھا تو پھر تم نے خود کیوں اس نیکی کی جانب قدم نہیں اٹھایا۔ پیر صاحب نے جس قرآن پاک کی آیات کے ورد کر کے عملیات کا علم حاصل کیا، ان کو ایف آئی آر کٹوانے کا خیال تو خوب آیا مگر عملیات کی جگہ نیکی کا ایک عمل کرنے کی زحمت نہ ہوسکی۔

کہانی کا رخ جو بھی ہو مگر الزام لگانے والوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وفاقی شرعی عدالت نے ایک مقدمے میں اس نکتے پر زور دیا ہے کہ توہین کے مرتکب کی نیت کو پرکھنا بھی لازم ہے، آیا توہین انجانے میں تو نہیں ہوئی؟ کیا توہین کے مرتکب کو معلوم بھی تھا کہ جو وہ کر رہا ہے اس سے کسی مسلمان کے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے؟

پھر اہم سوال یہ بھی ہے کہ جن آسمانی کتب پر ہمارا ایمان ہے، جس عقیدے نے ہمیں ان کتب کی عقیدت سکھائی، کیا توہین کرنے والا اس عقیدے اور عقیدت کا پیروکار بھی ہے یا نہیں؟ اور فرض کر لیں کہ توہین کا مرتکب کوئی مسلمان ہی ہے تو یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ اس تک اسلامی تعلیمات مکمل طور پر پہنچی بھی ہیں یا نہیں؟

ہمارے چینل کے ایک دوست جنوبی پنجاب کے دور دراز گاؤں کا ایک واقعہ سناتے تھے جہاں ایک غریب مزدور نوجوان اپنی شادی میں دولہا بنا بیٹھا تھا۔ بڑے شہر کے مشہور مولوی صاحب تبلیغ کی غرض سے گاؤں میں ایک روز کے لیے موجود تھے۔ دولہے بیچارے کی تو اتنی حیثیت نہ تھی، مگر کسی یار دوست نے انہی مولوی صاحب کو نکاح پڑھانے کے لیے تیار کیا۔

نکاح ہوا ہی چاہتا تھا کہ مولوی صاحب کو جانے کیا سوجھی، فرمائش کر ڈالی کہ دولہا میاں پورا کلمہ سنائیں، نوجوان دولہے نے شرماتے شرماتے کلمہ سنایا مگر مخارج کی غلطیوں سے پُر۔

مولوی صاحب جلال میں یکایک اٹھ کھڑے ہوئے کہ "دولہا بالغ اور عاقل ہے پھر بھی اسے درست کلمہ تک نہیں آتا، یہ شادی نہیں ہوسکتی۔" معاملہ بگڑا تو دولہے کے یار دوستوں نے منانے کی کوشش کی مگر مولوی صاحب نہ مانے۔

آخر دولہے میاں کو خود پوزیشن سنبھالنی پڑی، اور بول اٹھے کہ "جب سے ہوش سنبھالا، سرخ ایندھن سے دہکتے بھٹے میں سرخ اینٹیں تھوپ رہا ہوں، گھر کی غربت نے اتنی مہلت نہیں لینے دی کہ مدرسے جانے کا وقت نکلتا، جو کبھی مسجد میں سن لیا تو سن لیا، اس لیے میں مسلمان تو ہوں مگر جو کلمہ سنایا ہے بس وہی آتا ہے۔

مولوی صاحب اب کہیں، نکاح پڑھائیں گے یا پرچہ کٹوائیں گے؟"