جب کپتان نے شیخ رشید کو تنہا چھوڑ دیا

اپ ڈیٹ 24 اکتوبر 2016

ای میل

صبح سے اک شور و غل مچا تھا، سپریم کورٹ کے احاطے میں محشر کا سا سماں تھا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے جانے کے بعد سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے پر بنے جس میڈیا ڈائس پر الو بولتے تھے، آج وہاں چوٹی کے سیاسی حریفوں کا دنگل ہونے کو تھا۔

پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے دائر کئی درخواستوں پر سماعت سپریم کورٹ کے بینچ نمبر ایک میں تھی۔ پاناما معاملے پر پہلے ہی تحریکِ انصاف کی درخواست کو، جسے رجسٹرار نے مضحکہ خیز قرار دیا تھا، پی ٹی آئی والے اسی پر دل جلے تھے۔ پھر درخواست چیف جسٹس کے سامنے سننے کا موقع بھی آن پہنچا۔

نیلے ملگجے شلوار قمیض میں ملبوس چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سب کی نگاہوں کا مرکز تھے۔ پورے تام جھام سے بینچ نمبر ایک میں نشتوں کی پہلی صف میں براجمان ہوئے، دائیں جانب شیخ رشید اور بائیں طرف جہانگیر ترین بیٹھ گئے۔

سب سے پہلے ایڈووکیٹ طارق اسد کا نام پکارا گیا۔ یہ وہی طارق اسد ہیں جو لال مسجد شہداء فاؤنڈیشن کے باضابطہ وکیل اور اہم ذمہ دار ہیں۔ طارق اسد نے سیدھا عمران خان کے دھرنے سے بات شروع کی۔ بولے کہ سپریم کورٹ دھرنا رکوائے۔ بالکل عقب میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے عمران خان اپنا چہرہ ہاتھ سے تھامے مسکرانے لگے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا، "مدعا بتائیں، اب آپ چاہتے ہیں کہ یہ کام بھی ہم کریں؟"

اگلی باری وطن پارٹی کے بیرسٹر ظفر اللہ کی آئی۔ بیرسٹر صاحب عمر رسیدہ، جہاندیدہ اور نہایت پیچیدہ انسان ہیں، قوم کی ہر مشکل گھڑی میں ان کی پٹیشن ریڈی میڈ دستیاب ہوتی ہے، ہر پٹیشن سپریم کورٹ سے مسترد ہوتی ہے ، اور پھر ایک اور پٹیشن تیار۔

خیر بیرسٹر ظفر اللہ کی باری آئی، انہوں نے پاناما معاملے کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے پر زور دیا اور کہا کہ کچھ عناصر کی جانب سے عدالت کو ڈرایا جا رہا ہے، دھرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس پر ترکی بہ ترکی جسٹس خلجی عارف گویا ہوئے کہ ہمیں اپنی طاقت کا اندازہ ہے، ہمیں کوئی نہیں ڈرا سکتا۔

جماعت اسلامی کے سراج الحق کے وکیل اسد منظور بٹ نے پاناما معاملے پر ابھی دلائل کا پہلا منٹ بھی مکمل نہیں کیا تھا کہ چیف جسٹس نے فریقین کو نوٹسز جاری کرنے کی ہدایت کردی۔

پھر آئی پی ٹی آئی کی باری۔

کمرہء عدالت پی ٹی آئی کے جلسے کی طرح کھچا کھچ بھرا تھا، فرق اتنا تھا کہ یہاں پی ٹی آئی کی سپورٹ کے لیے خوش شکل، کم عمر اور غالباً تعلیم یافتہ کالے کوٹ والے نوجوان آئے تھے، جو کہ کرسیاں کم ہونے کے باعث جتھے کے جتھے کھڑے تھے۔

حامد خان نے پاناما تحقیقات سے متعلق عمران خان کی پٹیشن کا اہم حصہ یعنی درخواست بیان کی۔ حامد خان ملکی عدالتی حلقوں میں ایک مستند نام ہیں، ججز نے بنا کسی مزید سوال و جواب کے فوراً فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے۔

جو لوگ قانون کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، جانتے ہیں کہ یہ نوٹس دراصل اس امر پر کیے گئے ہیں کہ آیا سپریم کورٹ اس درخواست کو سننے کی مجاز بھی ہے کہ نہیں، تاہم تحریک انصاف والوں کے لیے اتنی تھوڑی کامیابی بھی بہت تھی۔

یہاں حامد خان ڈائس سے واپس مڑے، وہاں عقبی نشت سے چمکتے چہرے کے ساتھ نعیم الحق اٹھ کھڑے ہوئے، یکایک عمران خان، جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، سب ہی ان کے ساتھ ہو لیے۔ وزیرِ اعظم کو نوٹس ہوجانے کی خوشی ایسی تھی کہ یہ صاحبان بھول گئے کہ پیچھے شیخ رشید ابھی باقی ہیں۔

'تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے' کے مصداق عمران کمرہءِ عدالت سے کیا گئے، رونق ہی چلی گئی، رپورٹرز پیچھے پیچھے ہو لیے، یہاں کورٹ ریڈر نے شیخ رشید بنام نواز شریف کا نام پکارا، وہاں مڑ کر دیکھا تو یارانِ نیک نام غائب شد۔

شیخ رشید تنہا ہی کوئی بھی شو کامیابی سے چلانے میں ماہر ہیں، سو ڈائس پر آگئے۔ کمرہءِ عدالت میں اب شیخ رشید کی واہ واہ کے لیے ڈھیروں سپریم کورٹ کے وکلاء اور ن لیگی وزراء دانیال عزیز، خواجہ آصف، سعد رفیق اور طارق فضل چودھری موجود تھے، البتہ شیخ صاحب کے ڈائس پر آتے ہی سب کے چہرے کھکھلا اٹھے۔

شیخ صاحب گویا ہوئے، جج صاحب ملک کو کرپشن کے اندھیروں سے نکالنے کا یہ سنہری موقع ہے۔

چیف جسٹس نے شیخ رشید کو بھی نوید سنائی کہ آپ کی بھی درخواست پر فریقین یعنی وزیرِ اعظم نواز شریف بمعہ اہل و عیال کو نوٹس جاری کیا جا رہا ہے۔

شیخ صاحب ٹھہرے ذرا جذباتی سے آدمی، فوراً پکارے "جج صاحب صرف نوٹس سے کام نہیں چلے گا، انہیں تو آپ شوکاز نوٹس جاری کریں۔" یہی وہ لمحہ تھا جب ججز بھی اپنی مسکراہٹ دبا نہ سکے۔

کمرہءِ عدالت سے باہر آتے ہی عمران خان نے بے قراری میں اپنے وکیل حامد خان سے پوچھا، "کیا نوٹس ہوگیا، جواب طلب کرلیا ہے نا؟" جواب شاہ محمود قریشی کی جانب سے عجلت میں آیا کہ ہاں ہاں طلب کرلیا۔

اندر شیخ رشید اپنے وکیل آپ تھے، تنہا ہی اپنا مقدمہ لڑ رہے تھے اور باہر ان کے سیاسی یار دوست میڈیا ٹاک کی تیاری کر رہے تھے۔

لاکھ کرسی کا زور سہی، ہزار پروٹوکول کے ششکے سہی، اور سینکڑوں حمایتیوں کا جلوس سہی، مگر پاناما کیس کی پہلی سماعت کے بعد حکمران جماعت کے مشعل بردار وزراء سوٹڈ بوٹڈ ہو کر بھی اپنی چہروں پر اُڑتی ہوائیاں نہ چھپا سکے۔