نمود و نمائش اور اسراف کے معیشت پر اثرات

اپ ڈیٹ نومبر 09 2016

ای میل

سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اپنا ہاتھ گردن سے باندھ کر نہ رکھو (کنجوسی نہ کرو) اور نہ ہی اسے بالکل کھول دو (بے تحاشا خرچ کرنے لگ جاؤ۔ اگر ایسا کرو گے) تو تم ملامت کا نشانہ بنو گے اور افسوس سے ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے۔"

مال خرچ کرنے میں عموماً تین انسانی رویوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ پہلا یہ کہ مال سمیٹ سمیٹ کر رکھا جائے اور جہاں مال خرچ کرنا ضروری ہو وہاں بخیلی کا مظاہرہ ہو۔ اس رویے کو بخل کہا جاتا ہے۔

دوسرا رویہ یہ ہے کہ مال بے دریغ خرچ کیا جائے۔ ذاتی پیسہ ہو تو اشیائے تعیش پر خرچ کیا جائے، سرکاری روپیہ ہو تو انعام و اکرام اور عیش کوشی میں اڑایا جائے۔ یہ رویہ اسراف یا فضول خرچی کہلاتا ہے۔

مذکوہ بالا دونوں رویے معتدل ذہن کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ تیسرا رویہ یہ ہے کہ اتنا ہی خرچ کیا جائے جس قدر ضرورت ہو، اور ضرورت خود بخود پیدا ہو، نہ کہ پیدا کی جائے اور ضرورت پورا کرنے کے لیے اعتدال کا اسلوب اختیار کیا جائے، یعنی اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے جائیں۔ یہ طریقہ خرچ کے حوالے سے معتدل ہے۔

قرآن پاک کی درج بالا آیت کی روشنی میں اگر ہم اپنی روز مرہ زندگی کا جائزہ لیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ خرچ کرنے کے معاملے میں ہم سب اعتدال کی راہ سے ہٹ چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بے شمار معاشی، سماجی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ہوٹلز، ریسٹورنٹس، شاپنگ مالز اور مہنگے سنیما گھروں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہماری سوسائٹی Consumption Oriented Society بنتی جا رہی ہے یعنی کماؤ، کھاؤ پیو، خرچ کرو، اور عیش کرو۔

ہمارے معاشرے میں امارت اور غربت کے درمیان فاصلہ بتدریج زیادہ ہوتا جارہا ہے۔ غریب ضروریاتِ زندگی کے پیچھے بھاگ بھاگ کر ادھ موا ہو رہا ہے جبکہ امراء آسائشوں اور عیاشیوں پر بے دریغ پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔

پڑھیے: معیشت پر بھاری 'چائنہ کا مال'

سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد ربانی ہے: "فضول خرچی نہ کرو، فضول خرچ لوگ شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔"

آئیں اس آیت کی روشنی میں رسم و رواج خصوصاً شادی بیاہ پر ہونے والے اخراجات کا جائزہ لیتے ہیں۔ پہلے صرف ایک نظر دلہن کے جہیز پر ڈالیں۔ 50 ملبوسات دلہن کے، 20 سوٹ دولہے کے، دلہن کے سونے کے زیورات، فرنیچر، الیکٹرونکس اور کراکری وغیرہ کے انبار، سسرالی رشتے داروں کے کپڑے اور سونے چاندی کے تحائف بھی جہیز کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

شادی کی مختلف رسومات مایوں، مہندی، بارات، ولیمہ، مکلاوہ وغیرہ پر آرائش اور کھانے کے اخراجات، بارات اور ولیمے کے دن دولہا اور دلہن کے خصوصی لباس، برائیڈل میک اپ، فوٹو سیشن اور مووی میکنگ کے اخراجات، اسٹیج کی سجاوٹ اور مختلف تحائف کا لین دین، ان سب چیزوں پر 10 سے 12 لاکھ روپے پانی کی طرح بہا دیے جاتے ہیں۔

ایسی رسومات ہمارے معاشرے میں ایک سماجی دباؤ کی صورت اختیار کر چکی ہیں اور کئی افراد جو اتنے اخراجات برداشت کرنے کی حالت میں بھی نہیں ہوتے، مگر معاشرے میں بدنامی کے ڈر سے قرض لے کر ہی سہی، مگر یہ سب چیزیں کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

یوں متمول گھرانوں کے افراد اکثر نمود و نمائش کی خاطر بے دریغ ایسی رسومات پر صرف کر رہے ہیں، جبکہ نچلے اور متوسط طبقے کے خاندان مجبوراً ان رواجوں کی پیروی کر رہے ہیں۔

معاشیات کے اصول کے مطابق آمدنی کا تھوڑا حصہ خرچ کیا جاتا ہے اور تھوڑا حصہ بچایا جاتا ہے۔ پھر ان بچتوں سے سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ اگر بچت سرمایہ کاری کے بجائے بار بار خرچ کی جائے گی تو ملکی ذرائع سے سرمایہ کاری کا رجحان کم ہو جائے گا۔ اس طرح اگر ہمارے ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو ہمارا انحصار دیگر ممالک پر بڑھتا چلا جائے گا۔

پڑھیے: منافع بخش سرمایہ کاری کا آسان طریقہ

ہمارے معاشرے میں نمود و نمائش، بے جا اسراف اور مادی ترقی کی دوڑ کے تباہ کن معاشرتی اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناجائز اور حرام طریقوں سے آمدنی میں اضافہ کیا جاتا ہے۔

اس نمود و نمائش سے غریب، محروم اور تنگدست لوگوں کی دل شکنی ہوتی ہے جس سے مایوسی، حسد اور بغض جیسے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ بعض اوقات غریب طبقے کی مایوسی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ ناجائز طریقوں کی جانب گامزن ہو جاتا ہے۔

آج پاکستانی معاشرے میں ایک طرف ڈپریشن بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف کرپشن اور ناجائز طریقوں سے مال و اسباب میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس بیماری کی بنیاد نمود و نمائش اور شدید فضول خرچی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

"کھاؤ پیو، مگر حد سے نہ گزرو، اللہ تعالیٰ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا"۔

روز مرہ ضروریاتِ زندگی پر اسراف سے اشیاء کی زائد طلب پیدا ہوتی ہے اور یہ زائد طلب (دیگر وجوہات کے علاوہ) افراط زر یا عرف عام میں مہنگائی کا سبب بنتی ہے۔

رواں مالی سال 2016 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح گزشتہ سال کی نسبت دگنی سے بھی زائد رہی۔ افراط زر کی شرح جو اگست 2015 میں 1.72 فی صد تھی، وہ اکتوبر 2016 میں بڑھ کر 4.21 فی صد ہوگئی۔

معاشرے میں مقابلے کی دوڑ میں شامل ہو کر بلند معیارِ زندگی برقرار رکھنے کے لیے غیر ملکی اشیاء کی طلب بڑھتی جا رہی ہے۔ درآمد شدہ اشیاء کی طلب کرتے ہوئے شاید ہی کوئی تجارتی خسارے کے بارے میں سوچتا ہو۔ مالیاتی سال 2016-2015 کے ابتدائی دس مہینوں میں تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالرز تک جا پہنچا ہے۔

ملکی برآمدات کی قیمت 17.3 ارب ڈالرز جبکہ ملکی درآمدت کی قیمت 36.3 ارب ڈالرز ہے۔ پاکستان کی مشہور مارکیٹس اور شاپنگ مالز چینی ساختہ درآمدی اشیاء سے بھری پڑی ہیں۔ 16-2015 کے مالی سال میں پاکستان کی چین برآمدات کی قیمت 1.903 ارب ڈالرز تھی، جبکہ درآمدات کی قیمت 8.126 ارب ڈالرز رہی۔ رواں مالی سال میں چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 6.223 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

دوسری طرف رواں مالی سال 17-2016 کے لیے وفاقی بجٹ کا خسارہ 1.2 کھرب روپے تک جا پہنچا ہے۔ بجٹ کا بغور جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غیر ترقیاتی اخراجات کا تناسب زیادہ ہے جبکہ ترقیاتی اخراجات کا حجم کم ہے۔ اخراجات آمدنی سے زیادہ ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے حکومت غیر ملکی ذرائع سے قرضہ لیتی ہے۔ بجٹ کے خسارے اور تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے سخت شرائط پر قرضے لینے پر مجبور ہے۔

آج پاکستان کا غیر ملکی قرضہ 73 ارب ڈالرز تک جا پہنچا ہے۔ بجٹ اور تجارتی خسارے کو عام شہری اور حکمران صرف اسراف میں کمی کر کے ہی پورا کرسکتے ہیں ورنہ ہماری معیشت قرضوں اور سود کی ادائیگیوں سے بد حالی کی زنجیروں میں جکڑتی چلی جائے گی۔