دارالحکومت اسلام آباد میں جو پارٹی 2 نومبر کو شروع ہونا تھی، وہ اب اپنے طے شدہ وقت سے پانچ دن پہلے ہی شروع ہوگئی، جس کے بعد لگ رہا ہے کہ 2 نومبر کا دن "فُل آف ایکشن" ہوگا۔

بدھ کی پارٹی سے قبل پاکستان تحریکِ انصاف اور عوامی مسلم لیگ کا دوستانہ جلسہ تیسرے فریق، یعنی حکومت کی مسلح مداخلت کی وجہ سے نا ہوسکا اور میزبان شیخ رشید کو بھی لال حویلی سے فرار ہونا پڑا۔

تحریکِ انصاف کی قیادت بوجہ حکومتی اقدامات لال حویلی نہیں آئی، تاہم میزبان شیخ رشید اپنے وعدے کا پاس رکھتے ہوئے اور پنڈی کے پُتر ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جلسہ گاہ پہنچے اور مختصر خطاب کے بعد موٹرسائیکل پر سوّار ہو کر پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے نو دو گیارہ ہوگئے۔

جمعہ کی کشیدہ صورتحال دیکھ کر عام شہری پھر سے ایک بار پریشان ہوگئے ہیں اور اس سوچ میں مبتلا ہیں کہ جمعے کے روز عمران خان سمیت تحریکِ انصاف کی دیگر قیادت بنی گالہ سے باہر نہیں نکلی، لیکن 2 نومبر کو جب اصل پارٹی شروع ہوگی، تب کیا ہوگا؟ عمران خان اپنا ارادہ بدلنے والے نہیں اور حکومت بذریعہ طاقت ہی عمران خان کے احتجاج کو روکنے کی کوشش کرے گی جس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔

تحریکِ انصاف کی قیادت طے شدہ پلان کے مطابق لال حویلی نا پہنچ سکی، مگر اس وعدہ خلافی کا فائدہ شیخ رشید کو ہوا جو ہمیشہ کی طرح اکیلے ہی کئی گھنٹوں تک میڈیا پر چھائے رہے۔ میڈیا پر شیخ رشید کو ملنے والی کوریج دیکھ کر لگ رہا تھا کہ شیخ رشید نے اکیلے ہی پوری حکومت کو آگے لگا رکھا ہے، جس سے لامحالہ تحریکِ انصاف کی قیادت پر سوال اٹھانے کا موقع پیدا ہوا ہے۔

اس کے علاوہ 2 نومبر کی پارٹی سے پہلے ہی حکومت کی کارروائی درحقیقت ایک طے شدہ حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت حکومت نے لال حویلی کے مقام پر ہونے والے جلسے کے خلاف کارروائی کرکے تحریک انصاف کے جیالوں کو 2 نومبر کو ہونے والے متوقع ایکشن کا ٹریلر دکھا دیا۔

حکومت نے اسی حکمت عملی کے تحت ہی جمعرات کو اسلام آباد کے ایک شادی ہال میں جاری تحریک انصاف کے یوتھ فیسٹیول پر دھاوا بولا تھا جہاں مبینہ طور پر تحریکِ انصاف کے نوجوان 2 نومبر کو ہونے والی پارٹی کے لیے ڈانس اسٹیپس کی ریہرسل کر رہے تھے۔

تحریک انصاف کی قیادت کا لال حویلی نا پہنچنا بھی بظاہر تحریک انصاف کی حکمتِ عملی کا نتیجہ لگتا ہے۔ عمران خان سمیت دیگر قائدین پنڈی کی پتلی گلیوں اور چوکوں میں پڑے کنٹینرز کو دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ آج ان کی دال گلنے والی نہیں۔ لہٰذا جمعے کا جلسہ ملتوی کر دینا ہی بہتر ہوگا۔

یہ بات ماننے کی ہے کہ 2014 میں 126 دنوں کے دھرنے کے دوران حکومت نے خندہ پیشانی سے کام لیتے ہوئے اسلام آباد میں دھرنے کو برداشت کیا تھا اور اتنا طویل ہوجانے دیا تھا کہ آخر کار عمران خان کو سانحہءِ پشاور کو بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دھرنا ختم کرنا پڑا تھا۔

اس بار حکومت کے لیے حالات پہلے سے زیادہ سازگار ہیں، اور اس کی وجہ یہ کہ تحریکِ انصاف کے کارکنان پڑھے لکھے تعلیم یافتہ افراد ہیں۔ وہ کبھی بھی قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے احتجاج نہیں کریں گے، اسی وجہ سے شیخ رشید کی انتھک محنتوں کی وجہ سے ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری کو احتجاج میں شریک ہونے کے لیے راضی کیا گیا، تاکہ احتجاجی تحریک میں مزید گرمی پیدا کی جا سکے۔

پاکستان میں ایسا طرزِ سیاست ہے جس میں ہر سیاستدان، چاہے وہ حکومت کا حصہ ہو یا اپوزیشن کا، وہ عوام اور ملک کی بہتری کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔ حکومتی سیاستدان پارلیمان میں بیٹھ کر عوامی بہتری کا ٹھیکا اٹھائے رکھتے ہیں اور اپوزیشن والے عوامی مسائل پر آواز اٹھا کر عوامی خدمت کرنے کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔

حیرانگی کی بات یہ ہے کہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، فائدہ سیاستدانوں کو ہی رہتا ہے اور جن کی بہتری کے لیے حکومت اور اپوزیشن والے دعوے کرتے ہیں، وہی ان دونوں کی لالچ اور سیاسی دشمنیوں کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔

پچھلی کئی دہائیوں سے پاکستانی عوام کی قسمت میں ایسے لالچی اور مفاد پرست سیاستدان آئے ہیں، جنہیں عوام چنتے تو اپنے فائدے کے لیے ہیں، مگر ہر بار یہ منتخب رہنما کھوٹے نکلتے ہیں۔ جو اپنی باری آنے پر فائدہ اٹھاتے ہیں اور پھر مدتِ اقتدار مکمل ہونے پر اپوزیشن کا حصہ بن جاتے ہیں اور بیچاری عوام آنکھوں میں خواب سجائے آنکھیں ملتی رہ جاتی ہے۔

آج کل بھی حکومت منصوبوں پر منصوبے شروع کرتے ہوئے ملکی ترقی کے دعوے کر رہی ہے اور دوسری طرف اپوزیشن حکمرانوں کی سابقہ ادوار میں کی گئی کرپشن کا رونا پیٹ رہی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اپنے اپنے بیانات کے مطابق عوام اور ملک کی بہتری چاہ رہے ہیں مگر درحقیقت دونوں کی وجہ سے نقصان عوام اور ملک کا ہورہا ہے۔ پانامہ لیکس کی تحقیقات میں وزیر اعظم اور ان کا خاندان قصور وار نکلتا ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر ان احتجاجی تحریکوں کی وجہ سے ملک کو جو سیاسی اور معاشی طور پر نقصان پہنچ رہا ہے، اس کی طرف کسی کی نظر نہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ جمہوریت میں احتجاج کرنا ہر کسی کا حق ہے مگر جس حق کے استعمال سے عوام کو نقصان پہنچے، اُس احتجاج سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔

پانامہ لیکس کی تحقیقات کے نتائج سامنے آتے ہیں یا نہیں، مگر احتجاج کے دوران ہلاک اور زخمی ہونے والے وہی لوگ ہوں گے جن کے فائدے کے لیے یہ احتجاج کیا جائے گا۔

اور لیڈر چاہے اپوزیشن میں رہیں یا حکومت میں، لوگوں کے حصے میں ایک ہی چیز آئے گی: ٹھینگا۔