ایوب دور کی وہ باتیں جو ہمیں نہیں بتائی جاتیں

اپ ڈیٹ 17 جنوری 2018

ای میل

پاکستانی بھی بہت خطا بخش لوگ ہیں۔ خاص طور پر اُن کے لیے تو اور بھی زیادہ خطا بخشی کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں جو وفات پاچکے ہوتے ہیں۔ سول اور فوجی ڈکٹیٹرز، فاشسٹ، نفرت پھیلانے والی مذہبی شخصیات اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کے بھی لوگ عقیدت مند بن جاتے ہیں اور اُن کے مزارات بنا دیتے ہیں۔

فوجی ڈکٹیٹرز اِس معاملے میں تھوڑے زیادہ خوش قسمت ہیں۔ آج بھی وردی یا عام کپڑوں میں ملبوس جنرل ایوب خان کے حمایتیوں کی ایک بڑی تعداد اُس سنہری دور کے گن گاتی ہے جب ’جنرل صاحب‘ صاحبِ اقتدار تھے۔

وہ اُس درخشاں دور کو یاد کرتے ہیں جب دودھ اور شہد نہروں اور نالیوں میں بہتا تھا، اور جب اقتصادی ترقی جنوبی کوریا یا کسی اور ایشیئن ٹائیگر یا کیٹ کے برابر تھی۔

اِس 27 اکتوبر کو جنرل ایوب خان کے نافذ کردہ مارشل لا کو 59 سال برس ہوچکے ہیں۔

اب چونکہ ہمارے پاس ماضی کو پرکھنے کا موقع ہے سو ہم اُن ’سنہری دنوں‘ کی جانب لوٹ سکتے ہیں تاکہ اُس خوشحالی اور ہم آہنگی کے بارے میں ہونے والے دعوؤں کی صداقت کو پرکھا جاسکے، جو کئی بار گردانے جاتے ہیں مگر اُن کی تصدیق شاید ہی کبھی کی گئی ہو۔

پڑھیے: ایک 'خیالی' کہانی، عمران خان کی زبانی

نہ چاہتے ہوئے بھی اقتدار ترک کرنے کے قریب 50 برس بیت جانے کے بعد بھی ایک بہتر ساکھ رکھنے پر تمام دھاروں اور ادوار کے سیاسی لیڈران جنرل ایوب خان سے حسد ضرور رکھتے ہوں گے۔

ایوب دور (1969-1958) کے بارے میں عام خیال سننے کو ملتا ہے کہ اُن کے دور میں اقتصادی ترقی، خوشحالی پیدا ہوئی اور دنیا میں پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوا۔

مگر اُس دور کے اقتصادی حقائق، اگر بھیانک نہ بھی ہوں تو بھی اتنے بہتر نہیں۔

جنرل ایوب خان کی پالیسیوں اور اقدامات کا خصوصی جائزہ لیا جائے تو پائیں گے کہ اُن کا بنیادی مقصد اپنی حکومت کو بحال رکھنا اور طول دینا ہی تھا، یوں اُن کی حکومت نے ہی بنگلہ دیش کی علیحدگی کا بیج بویا اور اُس پودے کو بے تحاشہ پانی فراہم کیا گیا، پھر اگلے چند برسوں میں سقوطِ ڈھاکا کا واقع پیش آگیا۔

اُنہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف حمایت حاصل کرنے کے لیے مذہبی بنیاد پرستوں کو مضبوط کیا۔

کئی لوگ اقتصادی ترقی کو اُن کی غیر معمولی کامیابی گردانتے ہیں مگر اُس دوران آمدنی میں عدم مساوات کو فروغ ملنے سے ملک میں صرف 20 گھرانوں کو عروج نصیب ہوا جنہوں نے قومی وسائل پر اپنا اختیار جما لیا اور اپنے پاس کالا دھن جمع کیا، اِس طرح باقی لوگوں میں غربت، بھوک اور مایوسی پھیلی رہی۔

چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا جنم

جنرل ایوب خان کی اقتدار میں ڈرامائی آمد ایک دہائی کی سیاسی کشیدگی کے بعد ہوئی۔ 1947ء سے 1958ء تک پاکستان میں 4 گورنر جنرلوں اور 7 وزرائے اعظم کی حکومت رہی۔

اقتدار کے لیے سیاسی رسہ کشی نے اُس وقت کے صدر جنرل اسکندر مرزا کو بے بس کردیا تھا اِس لیے انہوں نے پارلیمنٹ معطل کردی اور جنرل ایوب خان کے ساتھ مل کر خود بطورِ وزیر اعظم نئی کابینہ تشکیل دے دی۔

تاہم کچھ دنوں کے اندر ہی ایوب خان نے جنرل اسکندر مرزا کو معاوضے کے ساتھ جبری طور پر لندن جلا وطن کرکے فارغ کردیا۔ جنرل ایوب خان نے خود کو 27 اکتوبر کو صدرِ پاکستان نامزد کردیا مگر اُس کے ساتھ ہی ساتھ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا بھی قلمدان سنبھالا۔ جنرل ایوب خان کے الفاظ تھے کہ،

پڑھیے: تاریخ کے گمشدہ اوراق: پاکستان اور ڈان کے 70 سال

میجر جنرل اسکندر مرزا جو کچھ دیر پہلے صدرِ پاکستان تھے، انہوں نے قلمدان سے دست بردار ہوکر تمام اختیارات مجھے سونپ دیے ہیں۔ اِس لیے میں نے اِس شب صدارت کا قلمدان سنبھال لیا ہے اور صدارتی اختیارات اور اُس سے متعلقہ دیگر اختیارات اپنے ذمے لے چکا ہوں۔

ووٹ دینے لائق پڑھے لکھے نہیں ہیں مگر ایک الگ وطن بنانے کے لائق پڑھے لکھے ضرور ہیں

اقتدار سنبھالتے ہی جنرل ایوب خان نے عوام اور جمہوری عمل کو مایوس کیا۔ اُن کے نزدیک عوام اِس قدر ان پڑھ اور غریب تھی کہ اُن کے ووٹ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا تھا۔

سو اُنہوں نے چند ہزار افراد پر مشتمل الیکٹوریٹ (بنیادی جمہوریت) تشکیل دیا جس میں سے 95 فیصد نے جنرل ایوب خان کو اپنا سربراہ منتخب کرلیا۔

پاکستان کے یہ اَن پڑھ اور غریب لوگ اتنے قابل تو ضرور تھے کہ وہ ایک نئی مملکت کے لیے اپنے دل، دماغ اور پیروں کے ساتھ ووٹ دے سکیں، جس مملکت نے جنرل ایوب خان کو آرمی چیف کے عہدے پر تعینات کیا تھا، کیا وہ اِس قابل بھی نہ بن پائے تھے کہ جنرل ایوب خان اُن کے ووٹوں پر اعتماد پیدا کرسکیں؟

جنرل ایوب خان نے ’داخلی افراتفری کی صورتحال‘ کا سیدھا ذمہ دار سیاستدانوں کو ٹھہرایا اور اُن پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ذاتی مفادات کے لیے 'ملک کا سودا' کیا۔

وہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے مرکزی سیاستدانوں کو جیل میں ڈالنا چاہتے تھے۔ اُن کے بعد آنے والے فوجی آمروں نے بھی اِسی طرح سیاستدانوں کی توہین کی۔

غیر مساوی معاشیات

عالمی بینک کے سابق ماہرِ معاشیات، شاہد جاوید برکی نے عوام اور ایوب جنتا (Junta)، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) اور دیگر بڑی سطح پر ہونے والی معاشی ترقی کے اعداد و شمار کے ساتھ 10 سالہ اقتداری جشن منا رہی تھی، کے درمیان موجود بنیادی لاتعلقی کی درست انداز میں نشاندہی کی۔

تاہم عوام نے مجموعی شماریات کو زیادہ اہمیت نہیں دی کیونکہ وہ مہنگائی اور آمدنی میں موجود وسیع طور پر عدم مساوات کے خلاف جدوجہد میں زیادہ کامیاب نہیں ہو پائے تھے۔

پڑھیے: پنجاب نے بھٹو کو سر آنکھوں پر کیوں بٹھایا

برکی اِس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اِس نام نہاد معاشی ترقی کی جڑیں غیر مساوی آمدنی میں پیوست تھیں جوکہ کلیاتی معاشیات اور علاقوں اور لوگوں کے درمیان وقت کے ساتھ بدتر ہوتی گئی۔

اِس کا نتیجہ عیاں تھا: نصف صنعتی دولت پنجاب میں چنیوٹیوں اور ہجرت کرکے آنے والے میمنوں، بوہریوں اور کھوجوں کے حصے میں آگئی تھی۔

اِسی اثناء میں جنرل ایوب خان نے بیرونی ماہرین کے لیے دروازے کھول دیے جو پاکستان کی معیشت سے لا علم اور اجنبی تھے۔

وہ اِن پالیسیوں سے لیس ہوکر آئے جو شاید کہیں اور تو کارآمد ثابت ہوتیں مگر پاکستان کو درپیش چیلنجز کے لیے بالکل بھی مناسب نہ تھیں۔

جنرل ایوب خان کے اقتصادی فن کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کی ضرورت نہیں۔ اُن کی مرکزی منصوبہ بندی کے لیے اُن کی ترجیحات دوسرے 5 سالہ پلان میں واضح نظر آتی ہیں۔

ہندوستان سے دگنی بیرون ملک دولت کی آمد سے صنعتوں میں اضافہ ہوا جس سے اشیاء صَرف میں سہارا حاصل ہوا۔

آپ کو اِس بات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ اِس ترقی میں اضافہ کس چیز سے آیا اور صنعتی شعبوں نے نتیجے طور پر کون سے گل کھلائے۔

اس معاملے پر تھوڑا نزدیکی سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ترقی میں کچھ بھی ملکی ساختہ حصہ داری شامل نہیں تھی۔ اس میں مرکزی حصہ بیرونِ ملک امداد کا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے 9/11 کے بعد امریکی امداد کے ذریعے جنرل مشرف کی حکومت کو مکھن لگایا گیا تھا۔

پڑھیے: خواجہ ناظم الدین: وزارتِ عظمیٰ سے تنگدستی تک

دسمبر 1961ء تک، بیرونی امداد بیرونی قرضوں کے حجم سے دُگنے سے بھی زیادہ ہوگئی تھی۔ 1964ء میں دوسرے 5 سالہ پلان میں کُل سرمایہ کاری میں سے 40 فیصد حصہ بیرونی امداد پر منحصر تھا۔

اور صرف یہی نہیں۔ بیرونی امداد درآمدات کی رقم کا 66 فیصد کور کرتی تھی۔ آپ کو وہاں اِس چیز کا کریڈٹ دینا ہوگا جہاں دینا چاہیے، اور یہاں یہ کریڈٹ بیرونی امداد کو جاتا ہے۔

امداد اور قرضے کی صورت میں بیرونی سرمایہ کاری اور حکومت کی جانب سے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی خاطر عوامی ورکس پروگرام کے باوجود بے روزگاری اپنی جگہ قائم رہی اور اِس سے بھی بدتر بات دوسرے 5 سالہ پروگرام کے دوران ہوئی جب مشرقی پاکستان میں 1960ء سے 1961ء تک شہریوں کا بیروزگاری کا وقت 55 لاکھ افرادی سال تھا جو 1964ء سے 1965ء کے سالوں میں 58 لاکھ افرادی سال ہوگیا تھا۔

حکومت کی جانب سے ایٹمی قوت کے لیے مختص کی گئی رقم سے دگنی رقم اُس کی ٹیکنیکل تربیت کے لیے مختص کی گئی۔

بیرونی امداد کے ذریعے ایوب حکومت میں تیزی سے ہونے والی صنعت کاری کا کیا ہوا؟ جیسے ہی صنعتوں نے روینیو پیدا کرنا شروع کیا تھا کہ حکومت نے جلد ہی اُنہیں نجی سرمایہ کاروں کے حوالے کردیا۔

1964ء سے 1965ء کے دوران، نجی شعبوں میں حکومت کی جانب سے قرضوں اور ایڈوانسز کی مد میں صنعت کی جانب سے کی جانے والی براہِ راست سرمایہ کاری سے دُگنی ہوگئی۔

مگر، منافع بخش یونٹس جوکہ اصل میں بنیادی طور پر صنعت کو ہی بنانے تھے، حکومت ایسے یونٹس بنا کر بغیر پیسوں کے صنعت کاروں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے تھا۔

وہ لوگ جو ایوب خان کی حکومت کا دفاع کرتے ہیں وہ اُس دور میں امن اور ہم آہنگی کی غلط یادیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ کیا ایسے دعوے عملی سکیورٹی کے منظرنامے میں نظر آتے ہیں؟

برکی، رونق جہانگیر کا حوالہ دیتے ہیں، جن کے مطابق ایوب دور کے دوران اشتعال انگیزی میں، خاص طور پر بنگلہ دیش (مشرقی پاکستان) کے اندر، بے تحاشہ اضافہ ہوا۔

تو اگر 60ء کی دہائی میں اتنا ہی امن اور سکون تھا تو 1969-1968 میں پیدا ہونے والی بے چینی شدید اشتعال انگیزی میں کیسے تبدیل ہوئی؟

وہ اقتصادی ترقی نہیں تھی بلکہ چند افراد کے ہاتھوں میں بڑھتی ہوئی دولت اور طاقت کی بہتات تھی جس نے محرومیوں کو جنم دیا اور یوں اشتعال انگیزی کو فروغ ملا۔

پڑھیے: چوہدری محمد علی: 'بااثر بیوروکریٹ' یا 'معصوم وزیرِ اعظم'؟

منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ صرف 20 گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں۔

پاکستان کے انقلابی شاعر حبیب جالب اِس ناانصافی کو نظر انداز نہ کرسکے۔ اجتماعات میں جب وہ اُن 20 نو دولتیوں پر ملامت کرتے ہوئے اپنی شاعری سناتے، جو کروڑوں کو غربت میں چھوڑتے ہوئے خود اور بھی امیر بن گئے تھے، تو سننے والوں پر سکتہ طاری ہو جاتا تھا،

جالب نے لکھا:

بیس گھرانے ہیں آباد

اور کروڑں ہیں ناشاد

صدر ایوب زندہ آباد

جنرل ایوب خان کے عالمی مداح

اُن کے مداحوں میں بااثر شخصیات شامل تھیں۔ فرانس کے ڈی گال سے لے کر امریکی صدر جانسن تک مغربی لیڈران پاکستان میں اقتصادی ترقی کے گن گا رہے تھے۔

حتیٰ کہ اُس دور کے عالمی بینک کے صدر ربرٹ مک نمارا نے بھی ایوب خان کے زیرِ اہتمام پاکستان کو ’دنیا میں ترقی کے حصول کی ایک سب سے بڑی کامیابی‘ قرار دیا تھا۔

تاہم ماہرین نے جلد ہی اِس نکتے کو ظاہر کیا کہ ڈی گال، جانسن مک نمارا اور دیگر نے صرف اقتصادی ترقی پر غور کیا اور دولت کی تقسیم کو نظر انداز کردیا تھا جس کے نتیجے میں بے چینی، اشتعال انگیزی پیدا ہوئی اور جو بالآخر مشرقی اور مغربی پاکستان کا الحاق کی وجہ بنی۔

سقوطِ ڈھاکہ

اکثر ایک تنقید سننے کو ملتی ہے کہ سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بنگلہ دیش کا الحاق اُن کی منصوبہ بندی تھی تاکہ وہ آبادی کے لحاظ سے غالب مشرقی پاکستان میں شریک اقتدار یا اُس سے بھی بدتر اقتدار کھونے سے بچ جائیں۔

مگر دراصل یہ جنرل ایوب خان کی جانب سے برسوں تک مغربی پاکستان پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے کا ہی صلہ تھا، جس وجہ سے مشرقی پاکستانیوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔ وہ اِس مسلسل بے دھیانی کو نظر انداز نہیں کرسکتے تھے خاص طور پر جب جنرل ایوب خان نے تین بڑے منصوبوں، جن میں نئے دارالحکومت کی تعمیر (اسلام آباد) اور دو بڑے آبی منصوبے (منگلا اور تربیلا) صرف مغربی پاکستان تک ہی محدود رکھے۔

علاوہ ازیں جنرل ایوب خان نے کبھی بھی مشرقی پاکستان سے ایک بھی بھروسہ مند ساتھی نہیں رکھا کیونکہ اُن کے تمام خاص آدمیوں کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔

بہترین ارادوں پر بدترین عمل درآمد کرنے والی حکومت

زرعی اصلاحات جنرل ایوب خان کی سماجی و سیاسی تعمیرِ نو کے حوالے سے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں جس کے تحت محدود زمینیں رکھنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ بے زمین کاشتکاروں کے درمیان زمین اور وسائل کی مساوی تقسیم کو ممکن بنایا جاسکے۔

مگر لینڈ رفارمز زمین اور زمینداروں کے سیاسی اثر کو بھی محدود رکھنے میں زیادہ کامیاب نہیں رہے۔ اِس کے بجائے طاقت اور دولت، اور بھی زیادہ 20 بدنام گھرانوں کے پاس جمع ہوئی۔

پڑھیے: 23 مارچ 1940 سے 23 مارچ 2017 تک کی تصویری کہانی

ایوب حکومت نے 500 ایکڑ زرخیز زمین، 1000 ایکڑ خشک زمین اور 150 ایکڑ باغ کی زمین کی حد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 6 ہزار سے بھی زائد زمین مالکان کے پاس اِس نئی مقرر کردہ حد سے زیادہ زمینیں تھیں جن کی مجموعی اراضی 75 لاکھ ایکڑ تھی۔

مگر زمین مالکان حکومت کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے پہلے ہی اپنی زمینیں اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردیں تاکہ زمین کی ملکیت زمینداروں تک ہی محدود رہے۔ لہٰذا بے زمین کاشتکاروں کو زیادہ زمینیں منتقل نہ ہوسکیں۔

ایوب خان اور اسلام

ضیاء الحق، جنہوں نے اپنی آمریت کے 11 سال پاکستان کو ساتویں صدی کے قرون وسطیٰ کے تصوراتی دور میں لے جانے کے لیے گزارے، کے برعکس ایوب خان کافی جدت پسند تھے جو پاکستان کو گزرے زمانوں کی ایک صحرائی سلطنت میں تبدیل کرنے کی کوششوں سے محتاط تھے۔

ایک مدرسے میں خطاب میں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار یوں کیا کہ،

’اسے میں اسلام کے ساتھ ایک بڑی زیادتی تصور کرتا ہوں کہ ایسے عظیم مذہب کو ترقی مخالف کے طور پر پیش کیا جائے۔ بلکہ ایک بیسویں صدی کے آدمی پر ایسے حالات تھوپ دیے جائیں کہ اُسے خود کو ایک سچّا مسلمان ثابت کرنے کے لیے کئی صدیاں پیچھے جانا پڑجائے۔ یہ زندگی اور مذہب دونوں کے ساتھ ایک بڑی نا انصافی ہوگی۔‘

جنرل ایوب کا سب سے زیادہ غیر معمولی اور پائیدار اقدام 1961ء میں مسلم خاندانی قانون آرڈینینس کا اطلاق ہے جس نے خواتین کو، خاص طور پر شادی اور طلاق کے معاملات پر بااختیار بنایا۔

گو کہ جس کمیشن نے اِن سفارشات کو تیار کیا تھا وہ 1954ء میں تشکیل دیا گیا تھا، مگر ایوب حکومت نے خواتین کو اختیار دلانے والے قوانین پر عملدر آمد کے لیے اقدامات اُٹھائے۔

اِن قوانین کے اطلاق سے قبل، نہ شادیوں اور نہ ہی طلاقوں کی رجسٹریشن کی ضرورت ہوتی تھی۔ اِس طرح اُن طلاق یافتہ خواتین کے لیے سنگین مسائل پیدا ہوجاتے تھے جو دوبارہ شادی کرلیتی تھیں۔

اُن کے سابق شوہر اُن پر کینہ پروری کا مظاہرہ کرسکتے تھے، اور چند نے ایسا کیا بھی، وہ اُن پر زنا کا الزام دے دیتے کیونکہ اُن کے پاس اپنے پہلے شوہر سے طلاق کا کوئی بھی ثبوت نہیں ہوتا تھا۔

اِس نئے قانون کے تحت مردوں کو بھی دوسری شادی کرنے سے قبل پہلی بیوی سے باضابط اجازت نامہ لینے کا پابند بنایا گیا۔

مختصراً، ایوب خان کے دور میں متعارف ہونے والے آرڈینینس نے ایک سے زائد شادی کرنے کے رجحان کو کم کیا، ’بیویوں کے حقوق کا تحفظ کیا اور بیٹا یا بیٹی کی اولادوں کو وراثت میں حقوق فراہم کیے۔‘

معاشرے کو جدید بنانے میں یقین اور چاہت رکھنے کے باوجود جنرل ایوب خان جلد ہی مذہبی قدامت پسندی کی لپیٹ میں آگئے کیونکہ پالیسی میں آنے والے یکسر موڑ نے اقتدار پر اُن کے اختیار کو طول دیا۔

چونکہ جنرل ایوب خان نے 1963ء کی قراردادِ مقاصد کے اہم نکات، جنہیں پہلے آئین سے خارج کردیا گیا تھا، کو بحال کیا، اِس لیے سرفراز حسین انصاری نے پالیسی کو دوبارہ دستاویزی صورت دی۔

مزید برآں، جہاں 1962ء کے آئین میں پاکستان کو بطور ایک باضابطہ نام کے طور پر استعمال کیا گیا تھا وہاں جنرل ایوب خان مذہبی قوتوں کے آگے جھک گئے اور دسمبر 1963ء میں ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا۔

بالآخر اسلامی نظریاتی ایڈوائزری کونسل بھی ایوب خان کا ہی دیا ہوا ایک تحفہ ہے جو آج تک ہمیں بہت نواز رہا ہے اور جو پاکستانیوں کو اپنے فرسودہ اور خواتین مخالف تشریحات اسلام سے شرمسار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔

اب راج کرے گی خلقِ خدا

فوجی حکومتیں چاہے کتنی بھی مؤثر کیوں نہ ہو مگر آخر میں حکمرانی کے ڈرامے میں ہیرو کو سیاسی عمل کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑ ہی جاتے ہیں۔

جنرل ایوب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔

سیاستدانوں اور سیاسی طریقہ کار کے بارے میں خدشات کے باجود اُنہوں نے ایک سیاسی جماعت، کنوینشنل مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی، جس کا نسخہ ہمیشہ پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے پاس دستیاب رہا ہے جب وہ وردی کے بغیر اقتدار میں آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جنرل ایوب خان جانتے تھے کہ سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے سے اُنہیں کامیابی حاصل نہیں ہونی تھی۔ وہ اِس کا باعث بیان کرتے ہیں۔ وہ جماعت میں اس لیے شامل ہوئے کہا تھا کہ

’وہ اپنے اصولوں کے مطابق اِس کھیل کو کھیلنے میں ناکام رہے اور اِس لیے مجھے اب اُن کے اصولوں کے مطابق کھیلنا ہوگا اور اصولوں کا تقاضا ہے کہ میری کسی کے ساتھ وابستگی ہو وگرنہ پھر مجھ سے کوئی وابستہ نہیں ہوگا۔ اِس لیے یہ سادہ سی بات ہے اور کسی بھی لحاظ سے میرے حصے کی شکست کا اعتراف ہے۔‘

آپ سوچتے ہوں گے کہ کاش جنرل ایوب کے قدموں پر چلنے والے ضیاء اور مشرف بھی اُن کے اِن الفاظ کو جانا یا سمجھا ہوتا۔

آخر میں حکمرانی کا حق لوگوں کو حاصل ہے اور کیا بھی ہو یہ حق ہر بار اُنہی کو ہی حاصل رہتا ہے، لازوال کامیابی صرف اُنہیں ہی حاصل ہے نہ کہ کسی سویلین یا فوجی آمر کو حاصل ہے۔

اگر اُن کی صحت کے مسائل نہ ہوتے تو کیا جنرل ایوب پھر بھی رضاکارانہ طور پر اقتدار چھوڑنے پر غور کرتے؟ 1968ء کے جنوری مہینے میں وہ وائرل انفیکشن کے نتیجے میں نمونیا میں مبتلا ہوگئے جس وجہ سے اُن کے پھیپھڑوں میں پانی جمع ہوگیا۔

1968ء کی خزاں آنے تک اُن کی صحت اور بھی زیادہ بگڑ گئی۔

اُسی وقت ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت نے بھی زور پکڑنا شروع کیا۔ 21 فروری 1969ء کو ہار مانتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ 1970ء میں دوبارہ انتخابات نہیں کروائیں گے۔ مارچ کے آنے تک یحیٰ خان بطور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹراقتدار پر قابض ہوگئے۔

پاکستان میں بار بار فوجی حکومت کے ناکام تجربات سے یہ بات تو ایک بڑی حد تک واضح ہوجاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوب مشرقِ ایشیاء کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے برعکس جہاں فوجی ڈکٹیٹرز طویل المدت حکمرانی کرتے ہیں، پاکستانیوں کو اپنی آزادی سے پیار ہے اور وہ اپنی سیاسی آزادی پر زیادہ عرصہ قدغن لگانے کی کوششوں کو برداشت نہیں کرتے۔

جنرل ایوب خان کے مارشل لا کی ابتداء میں ہی مغربی پاکستان کی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ایم آر کیانی نے کراچی میں بار ایسوسی ایشن کو خطاب میں لوگوں کی آزادی اور آزادی سے چاہت کے حوالے سے بیان کیا کہ،

’ایسے چند ہزار لوگ ہیں جن کے پاس دو عدد کپڑے بھلے ہی نہ ہوں مگر وہ اظہار کی آزادی ضرور رکھتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو ایک قوم کو جنم دیتے ہیں وہ لوگ نہیں جو قوم کو جنم نہیں دیتے جو دفاتروں، لائسنز کے پیچھے بھاگتے ہیں، یہاں تک کہ مٹی میں ہل چلانے والے اور پانی ڈھونے والے بھی نہیں۔‘

صرف دو دن بعد ہی چیف جسٹس کو فوجی افسران کی توہین کرنے پر معافی مانگنے پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔

پاکستان قانون کے نفاذ میں اپنی جدوجہد، تشدد اور ناقص بنیادی ڈھانچوں کے باجود آج مضبوطی سے اِس لیے کھڑا ہے کیونکہ کوئی بھی چیف جسٹس سے آئین اور جمہوری اصولوں کا تحفظ کرنے پر معافی مانگنے کا دباؤ ڈالنے کی جرات نہیں کرسکتا۔

انگلش میں پڑھیں۔