کرپشن کرنے اور چُھپانے کے راہنما اصول

اپ ڈیٹ 11 نومبر 2016

ای میل

— خاکہ مریم علی/ہیرالڈ
— خاکہ مریم علی/ہیرالڈ

واقعی یہ بڑی خداداد صلاحیت ہے۔ ذرا سی مزاج میں حرام خوری کرنے کی خو موجود ہو تو حرام کی کمائی کے در ایسے وا ہوتے ہیں کہ بندے کو خود اپنے نصیب پر پیار آنے لگتا ہے۔

بعض اسے "یہ سب تمہارا کرم ہے آقا" کے نام سے منسوب کرتے ہیں، اور کسی کی حرام خوری کی کمائی کچھ زیادہ ہی پھل پھول گئی تو اسے "ھٰذا من فضل ربی" کا سنہری ٹائٹل دے کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے۔

تو کرپشن کی دنیا کے بے تاج بادشاہ بننے کے شوقین خواتین و حضرات کے لیے پیش خدمت ہیں کرپشن کرنے، کر کے چھپانے اور چھپا کر ہڑپنے کے چند سنہری اصول۔

اگرچہ ذاتی طور پر میں نے ان راہنما اصولوں کا تجربہ نہیں کیا مگر اتنے سال سپریم کورٹ اور قومی احتساب عدالتوں کی رپورٹنگ کرنے کے بعد مشاہدہ کہتا ہے کہ بس حرام خوری کی دل میں ٹھان لی جائے تو سپریم کورٹ تو کیا انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کا سفید بالوں والا کوئی جہاندیدہ جج بھی نہیں پکڑ سکتا۔

کرپشن کا پہلا لیول: خود آگہی

آپ کو اپنے کام، نام، آرام اور اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں، یہ محض دقیانوسی باتیں ہیں۔ آپ کا اصل مقصد مال بنانا اور اسے اڑانا ہے۔ سیانے کوے کی طرح دل کہتا ہے اپنا مال اپنا، پرایا مال بھی اپنا۔

اکثر اپنے آگے بڑھتے ساتھیوں کی کامیابی دیکھ کر دل جلتا ہے؛ اپنے سے امیر دوست اور رشتہ دار برے لگتے ہیں؛ دل کرتا ہے ان کی ساری دولت چھین کر اپنا گھر بھر لیا جائے؛ معاشرے میں پیسے والوں کی عزت دیکھ کر حسد ہوتا ہے، بالکل درست سمجھے۔ اگر یہ سب خصوصیات آپ میں موجود ہیں تو آپ کے ایک کامیاب کرپٹ انسان بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ حالات سازگار ہیں۔

کرپشن کا کاف — ابتدائی قاعدہ

آپ میں چوں کہ شیطان کا چیلا بننے کی خواہش سر اٹھا رہی ہے، اس لیے ہمیشہ معمولی کرپشن سے ذلالت کے اس سفر کا آغاز کریں، مثلاً سرکاری نوکر ہیں تو تنخواہ پوری اور محنت پھوٹی کوڑی، بزنس مین ہیں تو سروس تھکڑ قسم کی اور کمائی کا مارجن زیادہ، ٹھیکیدار ہیں تو پیسہ پورا اور مال ناقص، سیلزمین ہیں تو کمیشن زیادہ لیں، مالک کو منافع کم دیں۔

دودھ بیچتے ہیں تو اس میں پانی، سوڈے اور گھی کی ملاوٹ، تربوز بیچیں تو اس میں انجکشن والی مٹھاس کی ملاوٹ کریں۔ کام والی ماسی ہیں تو گھر کے سامان کی چوری وغیرہ اینڈ وغیرہ۔ اگر آپ نے کرپشن کے یہ معمولی ٹاسک کامیابی سے مکمل کر لیے تو مبارک ہو کرپشن کی ریس میں آپ کو آگے آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

پری پلانڈ، گروہی کرپشن — ایک فن

دیکھیں معمولی کرپشن کرلینا کوئی کمال نہیں، یہ تو آج کل پاکستان میں ہر دوسرا شخص کمالِ مہارت سے کر کے چھپا رہا ہے۔ آپ کا اصل امتحان ہے پری پلانڈ کرپشن کرنا۔ اس کے لیے آپ کو اپنے ہمنوا بنانے ہوں گے جو آپ جیسے ہی سیانے کوے ہوں۔

دیکھیں اس اہم فیلڈ میں صرف اسپیشلائزڈ کمینے ہی کامیاب ہوتے ہیں، اس لیے کرپٹ افراد کا حلقہءِ احباب بناتے ہوئے سوچ سمجھ کر سلیکشن کریں۔ نیز یہ سلیکشن ان افراد کی جانب سے کی جانے والی کرپشن کی ہٹ اسٹوریز، ان کی بے ضمیری کی داستانوں کی تصدیق کے بعد کی جائے۔

پلان کے ساتھ کی جانے والی کرپشن میں مال خوب بنتا ہے، ایک بار جال بچھانے کی دیر ہے، پھر یہ گروپ مل کر لمبے عرصے تک لوٹ مار کر سکتا ہے۔

چوں کہ لوگوں سے "فضلِ ربی" کی زبردستی وصولی سب مل کر کرتے ہیں اور وصولی کے حصے بانٹے جاتے ہیں، اس لیے ایک دوسرے کی عیب پوشی بھی باآسانی ہوجاتی ہے، جیسے پولیس اسٹیشن کا اسٹاف، زمینوں کی رجسٹری کا دفتر، ڈی سی او دفتر، نچلی عدالتیں، سرکاری مراعات و پنشن وصولی کا دفتر اور عوامی ڈیلنگ کے دفاتر وغیرہ۔

ان سرکاری محکموں میں اوپر کی کمائی کے بڑے چانسز ہوتے ہیں۔ یہاں اگر آپ باس بن کر جاتے ہیں تو کچھ عرصہ محنت کر کے ان افراد کی نشاندہی کر لیں جن کے ضمیر ابھی زندہ ہیں۔

یہ فرض شناس سرکاری ملازم نہ خود کھاتے ہیں نہ کھانے دیتے ہیں۔ شاید انہیں بھوک نہیں لگتی۔ یہ احمق فرض شناسا افراد آپ کے "کرپشن ایک اہم مشن" نامی پروجیکٹ میں روڑے اٹکا سکتے ہیں، فوری ان کا ٹرانسفر کروائیں۔

باقی آپ جیسے حرام خور افسران اور ماتحت کلرک چند ہی ہفتوں میں خود کو آپ کی فریکوئنسی کے ساتھ آٹو سیٹ کرلیں گے۔ یہ بائیک میں پٹرول ڈلوانے، بچے کی سالگرہ پر دو ہزار روپے دینے یا کئی دن تک ڈیوٹی پر بغیر آئے حاضری لگانے جیسی معمولی فرمائشیں پوری کرنے پر خوش ہوجاتے ہیں۔

بے فکر رہیں آپ کرپشن کو بھی منظم طریقے سے کر رہے ہیں، یہ آپ کے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت ہے۔ بزنس ہو یا نوکری، آپ کرپشن کرتے رہے، کھاتے کھلاتے رہے، تو آپ کی ترقی 'فاسٹ فارورڈ' ہوجائے گی۔

نوٹ: آپ ابھی اس میدان میں نئے ہیں۔ لوٹا گیا مال اور نوٹوں کی گڈیاں کبھی گھر کے انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک یا کچن کیبنٹ میں رکھنے کی غلطی نہ کیجیے گا۔ چھاپہ پڑا اور اندر ہوئے، تو باہر آنے کے لیے پورے واٹر ٹینک میں بھرا جمع جوکڑا ان بدبختوں کو کھلانا پڑے گا۔ دیکھو ذرا کیسے سخت دل ہوتے ہیں یہ چھاپے والے۔

کالا دھن، دے دھنا دھن — کرپشن کا اعلیٰ مقام

پری پلانڈ، منظم کرپشن کر کر کے آپ کی توند غبارے جیسی پھول گئی ہے جس میں پن چبھوئی جائے تو اندر سے سونا اور ڈالرز ابل پڑیں گے۔ بنگلوں کی تعداد، قبضے کی زمینوں کی تعداد، آپ کے گھر کے مکینوں کی تعداد، بیوی کے علاوہ گرل فرینڈز کی تعداد، مختلف کاروبار میں سرمایہ کاری کی تعداد اور اندرون و بیرونِ ملک بینک اکاؤنٹس کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، آپ کا معاشرتی، معاشی اور خاندانی اسٹیٹس بڑھ گیا ہے، اب آپ کسی مزار کے خود ساختہ اعزازی گدی نشین بن سکتے ہیں، اس پر غور کریں۔

پہلے تو گلی کا کتا بھی آپ کے خاندان کو نہیں جانتا تھا، اب آپ کو خیال رکھنا ہوگا کہ آئندہ کسی ٹی وی یا اخباری انٹرویو میں اپنے خاندان کی روایتوں اور قدیم سونے چاندی کے برتنوں اور اپنے پردادا کے اسلحے کا بطور خاص ذکر کرنا ہے۔ نیز یہ بھی بتانا ہے کہ پیسوں کی گڈیاں اور اسلحہ آپ کے آبا و اجداد کی زینت رہا ہے۔

زینت سے یاد آیا کہ اگر آپ کی کوئی بیٹی شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہے تو اپنے مذموم مقاصد کے لیے اس کا گھر بسانے کی تیاری پکڑیں۔ کرپشن کی کالی دنیا میں نام روشن کرنا ہے تو کرپٹ رشتہ داروں کا برے وقت میں ساتھ چاہیے ہوگا۔ بیٹی کا رشتہ فوری طور پر کسی ریٹائرڈ فوجی افسر کے اس والے بیٹے سے جوڑنے کی تگ و دو کریں جس نے ابا میاں کا نام ڈبونے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی، وہی والا جس کی اپنی ہاؤسنگ سوسائٹی ہے۔

ملکی شوبز میں ایک ماڈل گرل حسینہ تاڑ کر رکھیں اور اسے گاہے بگاہے بلاوجہ نوازیں۔ ماڈل گرل شکنجے میں پھنس جائے تو اسے بھی اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل میں بے نام سپاہی کے طور پر استعمال کریں۔ یہ حسینہ فلم شوٹنگ کے نام پر ملک سے باہر جا کر آپ کا کالا دھن سیف ہیون میں رکھونے کے کام آئے گی۔

آپ کو ایلیٹ کلاس کے سماجی پروگرامز میں بلایا جائے گا۔ کچھ پیسے فالتو ہوں تو اپنے مرحوم شریف النفس والد کے نام پر ایک کالج/اسکول/ہسپتال قائم کردیں۔ یہ وہ انویسٹمنٹ ہے جو کمائی اور نیک نامی دونوں دے گی۔ چاہے گندہ دھندہ کریں یا اچھا، علاقے کی پولیس اور ڈی سی او کو ماہانہ 'ٹوکن آف لوو' بھیجتے رہیں۔

قوم کا مال لوٹ لوٹ کر آپ کئی آف دی ریکارڈ کمپنیوں کے شیئر ہولڈر بن جائیں گے۔ مال ہوگا تو بہت سی بااثر سیاسی شخصیات سے قربت بھی بڑھے گی، غیر ملکی دوروں میں کئی بڑے بزنس ٹائیکونز سے دوستی بھی ہوگی۔ فی الحال ان دوستیوں پر مزید انویسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔

اگر یہ سب کامیابی سے کر لیا تو شاباشے۔ آپ لائقِ تحسین ہیں کہ آپ نے کرپشن کو بالاخر اپنی مہارت کا شعبہ ثابت کرتے ہوئے لکشمی دیوی کو اپنے گھر کی لونڈی بنالیا ہے۔ کتنی ہی بیواؤں، یتیموں، ناداروں اور حقداروں کا پیسہ کھا کر بھی آپ کو بدہضمی نہیں ہوئی، بڑے سخت جان ہیں آپ۔ اب اس ڈگر پر سوچیں کہ آپ معروف سماجی شخصیت سے بڑھ کر اس ملک و ملت کی خاطر کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں۔

کرپشن کا پانچواں اور آخری گریڈ

آپ کرپشن میں گردن تک ڈوب چکے ہیں۔ اب آپ کو کسی کوچنگ نہیں بس ذرا سی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ خیر ہو جناب، آپ کی ذلالت میں اتنا دم ہے کہ کرپشن کی گنگا میں آپ بغیر چپو چلائے اپنی نیا پار لگا سکتے ہیں۔

کرپشن کا پانچواں گریڈ حاصل کرنے کے لیے بے ضمیری، خود غرضی، سفاکیت آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہونی چاہیے۔ ماضی میں منظم اور گروپ کرپشن کا وسیع تجربہ، اور کالا دھن سونگھ کر کتے کی طرح پہچاننے کی صلاحیت بدرجہ اتم ہونی چاہیے۔

اب آپ کے خدائی خدمتگار بننے میں صرف ایک قدم اٹھانا باقی رہ گیا ہے۔ پاکستان کی سیاست اچھی لیڈرشپ سے محروم ہے، یہاں آپ کی کامیابی کا بڑا اسکوپ ہے۔ یہی آپ کی کرپشن کا آخری میدان ہے، جہاں آپ نچلے پن کی عروج پر پہنچ سکتے ہیں۔

اس اسٹیج پر آکر آپ ماضی بھول چکے ہیں۔ بس اتنا یاد ہے کہ آپ نے زورِ بازو سے تھوڑا بہت کمایا، مگر دادا کی قائم شدہ فیکٹریوں سے اتنا کچھ ہاتھ آیا۔

آپ کی سیاست اور پیسہ دیکھ کر بعض شدت پسند، دہشتگرد، غنڈہ ٹائپ تنظیمیں آپ کی شاندار کامیابی کی معترف ہیں، انہیں بھی سال میں ایک بار پائے، حلیم اور چپل کباب کے ناشتے کرواتے رہیں، بوقتِ ضرورت یہ افراد کام آتے ہیں۔

آپ حرام کی کمائی سے کتنا ٹیکس دیتے ہیں، یہ اگر بتادیا تو کاہے کے کامیاب کرپٹ، یہی تو چھپانا وہ گر ہے جو آپ پچھلے کئی سالوں سے کر رہے ہیں۔

آپ کی رشوت ستانی، غبن، لوٹ مار اور چوری کے مال کو جس ماڈل گرل نے دبئی پہنچایا تھا، انہیں اب دبئی کے بینک نہیں سنبھال پائیں گے۔ نتاشا بتاشا تماشا کے نام پر جو بینک اکاؤنٹس کھولے تھے، سب ختم کریں اور سوئس بینکوں میں اکاؤنٹس کھلوائیں، اور کچھ مال کو پاناما میں آف شور رجسٹرڈ کمپنی بنا کر منتقل کرنے ٹائم آگیا ہے۔

ایسا ظاہر کریں کہ بیرون ملک آپ کے دوست آپ کے پاؤں پڑ گئے تھے، اس لیے مجبوراً آپ کو وہاں فیکٹریاں لگانی پڑیں۔ جو دولت ہے وہ آپ کی ذہانت سے پروان چڑھی ہے، رہائش کے لیے صرف ایک بیچاری سی حویلی ہے وہ بھی بیوی کے نام، آپ کی زینت نامی بیٹی آپ کے زیر کفالت ہے بھی اور نہیں بھی، باقی منو، پپو، گڈو، اور ببلی بھی آپ جیسے ذہین ہیں وہ بھی بیرونِ ملک بزنس میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ یہ معلومات الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت کام آئیں گی۔

کرپشن کے ابتدائی زمانے کے حصے داروں، غریب رشتہ داروں، درجن بھر گرل فرینڈوں، اور دبئی والی ماڈل گرل، سب سے اظہارِ لاتعلقی کر دیں۔

یاد رکھیں کہ ایف آئی اے، قومی احتساب بیورو، اینٹی کرپشن بیورو، سی آئی ڈی، سی ٹی ڈی، پی ٹی سی، اے بی سی، فلاں بیورو ڈھمکا بیورو۔۔ الم غلم نامی تمام کرپشن کے تفتیشی و احتسابی اداروں میں آپ جیسے ٹرینڈ افراد کی کمی نہیں۔

سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے آپ کا یہ ہوم ورک ہونا چاہیے کہ سیاسی زندگی میں جب کبھی آپ کی کرپشن پر سوال اٹھے تو جواب دینے کے لیے ان تفتیشی اداروں سے آپ کے بھائی بند آپ کو شریف النفس ثابت کرنے کے لیے فائلیں اٹھائے خود عدالتوں میں پیش ہوجائیں۔

اہم اعلان

اگر پاناما گیٹ کیس اور اس میں شامل تمام نیلے پیلے کالے دھن والوں کے مقدمات بخیر و عافیت نمٹ گئے، اگر احتساب عدالت سے ایک مردِ اول یوں ہی باعزت بری ہوتے رہے، اور ایک مین کائنڈ اینجل یونہی قانونی سرپرستی میں ناجائز قبضے کی زمینوں پر بری و بحری جنت آباد کرتا رہا، اور اگر یوں ہی شانوں پر لگے ستاروں کو دیکھ کر ان کی کرپشن نظر انداز کرنے کا چلن جاری رہا تو ان شاندار فتوحات پر جلد ہی "کامیاب کرپشن کے سنہری اصول" نامی کتاب شائع کی جائے گی۔ بس تھوڑا انتظار۔


یہ ایک طنزیہ مضمون ہے، مماثلت اتفاقیہ ہوگی۔