’پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بد عنوانی کے خاتمے میں بے بس‘

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2016

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما خورشید شاہ نے مختلف سرکاری محکموں میں کرپشن اور بے ضابطگیوں کی وجہ عوام کے پیسوں کے ضیاع کو روکنے میں حکومتی بے بسی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرپرسن خورشید شاہ نے قومی اسمبلی میں تین رپورٹس پیش کیں اور کمیٹی کے اختیارات میں اضافے کا مطالبہ کردیا۔

ایوان سے خطاب میں خورشید شاہ نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آزاد، موثر اور مزید کارآمد بنانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔

پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے اجلاس میں پاکستان کونسل برائے سائنس و ٹیکنالوجی بل 2016 کی منظوری دی گئی جبکہ قانون و انصاف کمیٹی نے متنازع پاکستان کمیشنز آف انکوائری بل 2016 پر اپنی رپورٹ پیش کی۔

اپوزیشن کی جانب سے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی پ رڈپٹی اسپیکر جاوید عباسی کو ایجنڈے میں شامل دیگر دو بلوں کو موخر کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی: کرپٹ افسران کو فارغ کرنیکی ہدایت

خورشید شاہ نے سال 99-1998، 4-2003 اور 8-2007 کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رپورٹس پیش کیں اور بحث کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں تبدیلی چاہتے ہیں تاکہ یہ کرپشن کے خاتمے میں اپنا کردار بہتر طریقے سے ادا کرسکے، ایسا نہ کیا گیا تو پھر کمیٹی کا کوئی فائدہ نہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جن کیسز پر وہ کام کررہے تھے ان میں کرپشن اور بے ضابطگیوں میں ملوث افراد میں سے نصف تو انتقال کرگئے جبکہ 30 فیصد افسران ریٹائرڈ ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے کمیٹی کے لیے کوئی کارروائی کرنا ناممکن ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس انتہائی سینیئر اور تجربہ کار ارکان پارلیمنٹ موجود ہیں لیکن ان کے پاس کوئی اختیارات نہیں‘۔

فاٹا اصلاحات

گزشتہ تین اجلاسوں سے زیر بحث رہنے والے فاٹا اصلاحات کے معاملے کو سمیٹے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات میں وفاقی منتظم شدہ قبائلی علاقے(فاٹا) کے عوام کو صوبائی اسمبلی کے لیے اپنے نمائندگان کو منتخب کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ’اسٹیبلشمنٹ، فاٹا اصلاحات میں تاخیر کی ذمہ دار‘

واضح رہے کہ سرتاج عزیز فاٹا اصلاحات کمیٹی کے سربراہ ہیں جو ستمبر میں اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے چکی ہے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا کا انضمام بہترین دستیاب آپشن ہے تاہم آئی ڈی پیز کی واپسی اور جنگ زدہ علاقوں کی بحالی نو تک ایسا فوری طور پر نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر 2018 میں فاٹا کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی نہ ملی تو یہ معاملہ مزید 5 سال کے لیے موخر ہوجائے گا‘۔

سرتاج عزیز نے فاٹا کے لیے مختص فنڈز میں بھی اضافے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسے 20 ارب روپے سے بڑھا کر 90 ارب روپے کیا جائے تاکہ علاقے میں غربت کا خاتمہ ہو اور انفرااسٹرکچر بہتر ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں لوکل گورنمنٹ سسٹم پر کام شروع کردیا گیا ہے جبکہ اسمبلی کی سفارشات کے ساتھ فاٹا کمیٹی کی رپورٹ آئندہ چند ہفتوں میں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کردی جائے گی۔

یہ خبر 22 نومبر 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی


تبصرے (0) بند ہیں