میانمار :’فوج مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف‘

اپ ڈیٹ 25 نومبر 2016

ای میل

اقوام متحدہ، امریکا اور پاکستان سمیت کئی ممالک نے روہنگیا لوگوں کی بگڑتی ہوئی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے—فوٹو: اے ایف پی
اقوام متحدہ، امریکا اور پاکستان سمیت کئی ممالک نے روہنگیا لوگوں کی بگڑتی ہوئی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے—فوٹو: اے ایف پی

ڈھاکہ: اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ذیلی ادارے کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف ہے، روہنگیا مردوں اور بچوں کو بے دردی سے قتل، خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ اور گھروں کو جلایا جا رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے پناہ گزین (یو این سی ایچ آر) کے بنگلہ دیش میں موجود عہدیدار جان مک کسک کا کہنا تھا کہ میانمار کی فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم و جبر کی وجہ سے 30 ہزار روہنگیا افراد متاثر ہوئے ہیں۔

یو این سی ایچ آر کے نمائندے کے مطابق میانمار میں روہنگیا خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا، مردوں اور بچوں کو بے دردی سے قتل کرکے ان کے گھروں کو جلایا جا رہا ہے، جس وجہ سے روہنگیا لوگ برما سے نکل کر بنگلہ دیش میں پناہ کے لیے آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میانمار سے فرار ہو کر ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش آمد
اقوام متحدہ کے مطابق میانمار کے فوجیوں نے آپریشن کے دوران خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا—فوٹو: اے ایف پی.
اقوام متحدہ کے مطابق میانمار کے فوجیوں نے آپریشن کے دوران خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا—فوٹو: اے ایف پی.

دوسری جانب بنگلہ دیش حکومت نے روہنگیا افراد کو پناہ دینے کی عالمی اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ میانمار حکومت روہنگیا افراد کی نقل مکانی کو روکے۔

یو این ایس ایچ آر کے مطابق بنگلہ دیش روہنگیا متاثرین کے لیے اپنی سرحدیں کھول کر اپنے لیے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتا، بنگلادیش چاہتا ہے روہنگیا افراد میانمار میں ہی رہیں۔

روہنگیا افراد پر ظلم و تشدد کے بیانات سامنے آنے کے بعد میانمار کے صدارتی ترجمان زا ہٹائے نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں کہ اقوام متحدہ سمیت دوسرے ادارے میانمار کے خلاف جھوٹے بیانات دے رہے ہیں۔

روہنگیا لوگوں کے خلاف حالیہ ظلم و جبر کی داستان سناتے ہوئے ایک متاثرہ شخص محمد ایاز کا کہنا تھا کہ میانمار فوج کے اہلکاروں نے ان کے گاؤں پر حملہ کرکے ان کی 25 سالہ حاملہ بیوی جناتن نائم کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے 2 سالہ بیٹے کو زخمی بھی کیا۔

مزید پڑھیں: میانمار میں کشیدگی کے باعث ہزاروں افراد کی نقل مکانی

محمد ایاز کے 2 سالہ زخمی بیٹے کے مطابق میانمار فوج کے اہلکاروں نے گاؤں پر حملے کے دوران 300 مردوں کو ہلاک کیا، درجنوں خواتین کے ساتھ ریپ کیا اور 300 گھروں کو آگ لگادی۔

میانمار فوج کے ظلم و ستم کے باعث ہزاروں روہنگیا افراد بنگلہ دیش کی جانب نقل مکانی کرگئے —فوٹو: اے ایف پی
میانمار فوج کے ظلم و ستم کے باعث ہزاروں روہنگیا افراد بنگلہ دیش کی جانب نقل مکانی کرگئے —فوٹو: اے ایف پی

روہنگیا مہاجرین کی مسلسل بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے بدھ 23 نومبر کو میانمار کے سفیر کو طلب کرکے روہنگیا افراد کے خلاف جاری آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں داخل ہونے کیلئے بارڈر سیکیورٹی اہلکاروں سے لڑ رہے ہیں، ہزاروں خواتین، بچے اور مرد ان کی سرحد پر جمع ہوئے ہیں جس کے بعد بنگلہ دیش کو اپنی سرحد پر سیکیورٹی میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔

بنگلہ دیش کی سرحد پر پہنچنے والے روہنگیا کاشت کار دین محمد نے بتایا کہ میانمار فوج نے ان کے گاؤں پر حملہ کرکے 50 خواتین اور لڑکیوں کو جنسی زیادتی اور تشدد کا نشانہ بنایا، بعد ازاں گھروں کو آگ لگادی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش : روہنگیا پناہ گزینوں سے شادی پر پابندی عائد
سیٹلائٹ تصاویر میں جلے گھروں کو دیکھا جا سکتا ہے—فوٹو: اے ایف پی.
سیٹلائٹ تصاویر میں جلے گھروں کو دیکھا جا سکتا ہے—فوٹو: اے ایف پی.

دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ نے میانمار فوج کی جانب سے حملے کے بعد جلائے جانے والے گھروں کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں، جن میں 1000 جلے ہوئے گھروں کو دیکھا جاسکتا ہے لیکن میانمار انتظامیہ نے گھروں کو جلائے جانے اور حملوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب روہنگیا لوگوں کے اپنے کارنامے ہیں۔

خیال رہے کہ میانمار، جسے برما بھی کہا جاتا ہے، میں بدھ مت مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے، روہنگیا کے مسلمان کئی دہائیاں قبل ہجرت کرکے بنگلہ دیش سے میانمار پہنچے تھے، میانمار کے لوگ ان کو بنگالی تسلیم کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:وہ جن کا کوئی ملک نہیں

روہنگیا لوگوں کی بہت بڑی تعداد میانمار کی مغربی ریاست راکھائن میں رہائش پذیر ہے، 10 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل روہنگیا لوگوں کو بنگلہ دیش کے لوگ برمی مانتے ہیں۔

بنگلہ دیش اور برما کے درمیان تنازع کا سبب رہنے والے روہنگیا لوگوں پر ظلم و ستم کے حوالے سے گزشتہ چند سالوں سے خبریں منظر عام پر آتی رہی ہیں جس کے باعث روہنگیا افراد مسلسل بنگلہ دیش کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس واچ، امریکا اور پاکستان سمیت کئی ممالک نے روہنگیا لوگوں کی دن بہ دن بگڑتی ہوئی حالت پر تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن میانمار حکومت تمام الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔