بھٹو نام کا پردہ کب تک ساتھ دے گا؟

اپ ڈیٹ 05 دسمبر 2016

ای میل

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے مطابق وہ 2018 کے الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے خود وزیراعظم پاکستان بنیں گے اور ایوان صدر میں ایک بار پھر کسی جیالے کو بٹھائیں گے نیز تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی پی پی سے ہی ہوں گے۔

آسان الفاظ میں کہیں تو پی پی کلین سوئپ کرے گی۔ ان کے باقی دو اعلانات کا تو پتہ نہیں البتہ بلاول کو اسمبلی میں لانے کی تیاری اس وقت پوری ہے۔ خبروں کے مطابق فریال تالپور اپنی این اے 207 قمبر شہداد کوٹ کی نشست چھوڑ دیں گی اور وہ اسی خالی کی گئی نشست پر انتخاب لڑ کر اسمبلی میں پہنچیں گے یا پھر لاڑکانہ، یا کراچی میں لیاری سے کھڑے ہونے کا آپشن بھی استعمال ہوسکتا ہے۔

بظاہر تو بلاول کے اس اعلان یا خواہش میں کوئی خرابی نہیں ہے، کیوں کہ ہر سیاسی جماعت کے سربراہ کی یہ ہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی پارٹی انتخابات میں کامیاب ہو۔

مگر ہمارے یہاں کی عجیب سی جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کے اندرونی نرالے سیٹ اپ میں یہ لازم ہوچکا ہے کہ کامیابی کی صورت میں پارٹی سربراہ ہی وزیراعظم بنے گا، لہٰذا بلاول کا ابھی سے خود کو وزیراعظم کے منصب کے لیے نامزد کرنا بھی حیران کن نہیں ہے۔ البتہ جو بات باعثِ تشویش اور حیرانگی ہے، وہ بلاول بھٹو کا زمینی حقائق سے دور ہونا ہے۔

پیپلز پارٹی کے پچھلے دورِ حکومت کو ابھی اتنے سال تو نہیں گزرے کہ پارٹی قیادت یا عوام اس دور کی بدعنوانی بھلا بیٹھیں یا سندھ میں پی پی کی آٹھ سالہ کارکردگی پر سوال اٹھنا بند ہوجائیں۔

پڑھیے: مضبوط کرپشن، کمزور جمہوریت

جب عوام رینٹل پاور کیس، سوئس اکاؤنٹس، مکمل اختیارات کے باوجود بینظیر بھٹو کے قاتلوں تک پہنچنے میں ناکامی، تھر کے بچوں کی اموات، ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کو نہیں بھولے، تو ہمارے عوامی لیڈر بلاول بھٹو زرداری کیسے بھول گئے؟

یوں محسوس ہوتا ہے کہ بلاول کے مشیران انہیں حالات کی صحیح تصویر نہیں دکھا رہے جس کے باعث وہ درست اعلانات و اقدامات ںہیں کر پا رہے۔ انتخابات میں کامیابی کا دار و مدار کارکردگی پر ہوتا ہے، اور اس تناظر میں پی پی کے آگے سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔

اب تو یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ مدت پوری نہیں کرنے دی گئی یا کام نہیں کرنے دیا جا رہا۔ اندرون سندھ کو تو چھوڑ ہی دیں، آپ صرف کراچی کو دیکھ لیں۔ صوبائی دارالحکومت کراچی کا انفرااسٹرچکر زبوں حالی کا شکار ہے، پانی کے بحران نے کراچی کے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے، گندگی کے ڈھیر اس شہر کی خوبصورتی کو کھا گئے، جرائم اتنے کہ شہری ہر دم عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یہ ہے آپ کی حکومت کی کارکردگی جس کے گن اخبارات میں اشتہار دے کر گائے جاتے ہیں۔

سندھ کے حالات جو پارٹی لگاتار آٹھ سال حکومت کرکے بھی نہ بدل سکی، وہ اگلے بارہ مہینوں میں بھی کوئی معجزہ کرنے سے قاصر ہے۔ وہ بلاول کے آگے پیچھے دائیں بائیں کھڑے لوگوں کو بھی کئی سالوں سے جانتے ہیں جن کے ہاتھ اور کردار کرپشن اور نااہلی سے لتھڑے ہوئے ہیں۔

پڑھیے: کرپشن کرنے اور چُھپانے کے راہنما اصول

بلاول بھٹو نے ووٹ لینے اسی عوام کے پاس آنا ہے جس کو پی پی دور کی بیڈ گورننس پر تحفظات ہیں۔ ان کے تحفظات کیسے دور ہوں گے؟ کیا بلاول آئندہ الیکشن میں تمام پرانے چہروں کو پیپلز پارٹی سے باہر کردیں گے؟ کیا پی پی کے دورِ حکومت میں عین ناک کے نیچے کی جانے والی کرپشن کا پیسہ لوٹا دیا جائے گا؟ کیا تھر میں سسکتی انسانیت کے لیے زندگی آسان ہوگئی؟ اگر ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کو حقیقت کی دنیا میں آ کر اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسا لیڈر پاکستان کو دوبارہ نہیں ملا۔ وہ مشکل ترین حالات میں برسرِ اقتدار آئے اور اتنے ہی مشکل اور بڑے فیصلے کر کے تاریخ اپنے نام کر گئے۔ غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں، بھٹو سے بھی ہوئیں لیکن ان کی شخصیت کا سحر، ایک پست حوصلہ زخم خوردہ قوم کے اعتماد اور وقار کی بحالی کے لیے جو محنت انہوں نے کی، اس سے انکار نا ممکن ہے۔

لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پی پی کی موجودہ پالیسی بھٹو کے نام کو کیش کروانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ آپ بلاول کی تقاریر دیکھ لیں، ہر تقریر میں یہ بار بار کچھ اس طرح اپنے اور ذوالفقار علی بھٹو کے رشتے کا ذکر کرتے ہیں جیسے لوگ اس سے نابلد ہوں۔

یہ ان کی پھانسی کا ذکر بھی خاندان کے بیانیہ میں کرتے ہیں، ان سے بھٹو کی طرح تقریر کروانے کی کوشش بھی کی جاتی رہی اور نواسے کو نانا جیسا آستین کے کھلے کف والا حلیہ دینے کی بھی سعی کی گئی لیکن کام کچھ بنا نہیں۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ بلاول کی سیاست کو کیوں حوالوں اور لاحقوں میں قید کردیا گیا ہے۔ یہ ’میں بھٹوکا نواسہ ہوں‘، ’بھٹو کا سیاسی جانشین‘، ’بی بی کا بیٹا‘ سے آگے بڑھنے کو تیار ہی نظر نہیں آتے۔ ملکی مسائل پر بات کرنی ہو تو پہلے نانا پھر والدہ پھر والد کا حوالہ آئے گا، اس کے بعد مصلحتوں میں جکڑی ہوئی ان کی اپنی پوزیشن یا پھر بے ہنگم ٹوئٹ۔

پیپلز پارٹی اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے۔ کبھی چاروں صوبوں میں مضبوط ووٹ بینک رکھنے والی جماعت اندرونِ سندھ تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ حکومت کی ہر کوتاہی اور فاش غلطی پر بھرپور مؤقف دینے کے بجائے مفاہمت در مفاہمت کی پالیسی نے اس جماعت کے دیرینہ کارکن کو بددل کر دیا ہے۔

تصاویر: پاکستان پیپلز پارٹی کے 49 برسوں کی تصویری کہانی

ایسے میں آئندہ انتخابات میں پی پی کا مستقبل کچھ خاص تابناک نظر نہیں آتا۔ ویسے بھی اب عوام چوبیس گھنٹے ہر چھوٹی بڑی، مثبت یا منفی سیاسی ڈیولپمنٹ سے آگاہ رہتے ہیں۔ اقتدار کی چھتری تلے ہونے والی مالی بدعنوانیاں اور ذاتی مفاد کے لیے ہونے والے سیاسی گٹھ جوڑ کیسے اور کیوں کر چھپیں گے؟

بلاول بھٹو زرداری اگر واقعی اپنی خواہش کو حقیقت کا روپ دینا چاہتے ہیں تو انہیں خلوصِ نیت کے ساتھ پیپلز پارٹی کو کرپشن کے بوجھ سے چھٹکارا دلوانا پڑے گا۔ انہیں فرینڈلی اپوزیشن کے الزامات سے بھی آزاد ہونا ہوگا اور سوچنا ہوگا کہ آخر کب تک وہ اپنی جماعت کی موجودہ ناکامیوں کو ذوالفقار علی بھٹو نام کے پردے سے ڈھکنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

انہیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اپنے ہم عمر پاکستانیوں کو پیپلز پارٹی کے ووٹر میں ڈھالنے کے لیے کارکردگی کی ضرورت ہے، معاشی ترقی، روزگار، بنیادی سہولیات، اور پاکستانی پاسپورٹ کی قدر میں اضافے کی ضرورت ہے، جو محض نعروں یا جذباتی ٹؤٹس سے ممکن نہیں ہے۔

انہیں پیپلز پارٹی کی آٹھ سالہ پالیسی کی ناکامی پر غورکرنا ہوگا۔ انہیں اندرونِ سندھ کے لوگوں کی خستہ حالت اور سندھ کی حکومت کے شاہانہ خرچوں کا موازنہ کرنا ہوگا۔ لیکن اگر اسی طرح چلتا رہا تو بلاول اتنے بوجھ سمیت معلوم نہیں کس طرح وزیرِ اعظم بن پائیں گے۔