چترال کی ہر دلعزیز شخصیت، ڈپٹی کمشنر اسامہ وڑائچ کی یاد میں

اپ ڈیٹ 09 دسمبر 2016

چترال کے لوگوں کی ہر دل عزیز شخصیت اسامہ، اپنی اہلیہ اور اپنے واحد بچے کے ساتھ حویلیاں کے قریب طیارہ پے کے 661 کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ سول سروس کی 32 کامن بیچ سے تعلق رکھنے والے ان کے بڑے بھائی سعد احمد وڑائچ اس وقت فارن سروسز میں کام کر رہے ہیں اور امریکا میں تعینات ہیں۔

اسامہ احمد وڑائچ، ڈپٹی کمشنر چترال سے ہماری پہلی ملاقات 26 نومبر 2015 کو رات ساڑھے 8 بجے ان کے دفتر میں ہوئی۔ ہم سے گفتگو کرتے وقت انہوں نے 26 اکتوبر کے زلزلہ متاثرین کے لیے دو دو لاکھ روپے کے امدادی چیکس پر دستخط کا سلسلہ جاری رکھا۔

37 کامن کے اس نوجوان ڈی ایم جی افسر اسامہ نے سول سروسز اکیڈمی سے 2010 میں گریجوئیشن کی۔ انہوں نے خیبر پختونخواہ سول سروس کور کو بطور اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد جوائن کیا، جس کے بعد آگے جا کر انہوں نے اے ڈی سی پشاور کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیں اور پھر 2015 میں چترال کے ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر تعینات ہوئے۔

ایبٹ آباد کے مقامی لوگوں کو وہ اسامہ اب بھی یاد ہیں جو اپنے ماموں ڈی آئی جی ذوالفقار چیمہ (ریٹائرڈ) کو شاہراہِ قراقرم کے ساتھ موجود تجاوزات کو ختم کرنے کے جرات مندانہ اقدامات کی وجہ سے اپنا آئیڈیل سمجھتے تھے۔

وہ چترال آنے والے لوگوں کو دو سو بیڈ پر مشتمل سول ہسپتال چترال، جو کہ 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں تعمیر ہوا اور اس کے بعد سے خستہ حالی کا شکار رہا، کی بحالی میں مدد کے لیے درخواست کرتے۔

ہسپتال کی بحالی کے لیے ان کا مؤقف تھا کہ یہاں سے غریب مریضوں کو علاج کے لیے پشاور یا اسلام آباد پہنچنے کے لیے 15 سے 20 گھنٹوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

سول ہسپتال کے لیے مطلوب بنیادی میڈیکل سازو سامان کی ان کی جانب سے ترتیب دی گئی ایک فہرست اب بھی میری ای میل پر موجود ہے۔ اس سارے ساز و سامان کی قیمت 1 کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ نہیں ہے۔

اکثر سول سرونٹس کے برعکس وہ ساز و سامان میں دلچسپی رکھتے تھے نہ کہ فنڈز میں۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ صوبائی یا وفاقی حکومت کی جانب سے اس ہسپتال کی بحالی کا کوئی آسرا نہیں۔

اسامہ کا خیال تھا کہ کراچی کے صنعت کاروں کو چترال کے ہنرمندوں اور اور سستی مقامی دستکاری مصنوعات، معدنیات، پھلوں اور سبزیوں پر سرمایہ کاری کا سوچنا چاہیے۔

وہ ہمیشہ سے لوواری ٹنل منصوبے کی تکمیل کو لے کر پرجوش رہتے۔ انہیں امید تھی کہ یہ منصوبہ ان کے عہد میں ہی مکمل ہو جائے گا۔

جب بھی اسلام آباد کے لیے شمالی علاقہ جات کی پروازیں دونوں طرف سے منسوخ ہو جاتیں تو وہ اپنا سارا دن نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سے زیرِ تعمیر لوواری ٹنل لوگوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دینے کی درخواستوں میں گزار دیتے۔

ایدھی ٹرسٹ، شہزاد رائے اور زندگی ٹرسٹ، جبران ناصر اور علاج ٹرسٹ، کراچی ریلیف ٹرسٹ اور دیگر فلاحی اداروں سے قریبی روابط ہونے کی وجہ سے اسامہ اکثر کراچی کے لوگوں کی فلاحی کاموں اور امدادی کاموں کی جانب محبت کو دیکھ کر تعجب کا اظہار کرتے تھے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں