ہندوستان : ’بیک وقت تین طلاقیں خواتین کے حقوق کے خلاف‘

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2016

ای میل

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر الہٰ آباد کی عدالت نے بیک وقت تین طلاقوں کو خواتین کے حقوق کے منافی قرار دے دیا۔

بھارت کے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الہٰ آباد کی عدالت نے موقف اختیار کیا کہ ’بیک وقت تین طلاقیں دینا ظلم ہے اور کسی کمیونٹی کے نجی قوانین کو آئین کے فراہم کردہ حقوق پر فوقیت نہیں دی جاسکتی‘۔

ہائی کورٹ کے جج جسٹس سنیت کمار نے موقف اپنایا کہ وہ اس معاملے پر اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتے کیوں کہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔

الہٰ آباد کی عدالت نے 23 سالہ حنا اور اس کے شوہر کی درخواست کو خارج کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے۔

حنا کے شوہر نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے کر اس سے شادی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بیک وقت 3 طلاقوں کو 'جرم' قرار دینے کی سفارش

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے تین طلاقوں کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر ہے اور درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ خواتین کو فیس بک، اسکائپ اور واٹس ایپ کے ذریعے طلاق دے دی جاتی ہے۔

جسٹس سنیت کمار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’بھارت میں جو مسلم قوانین رائج ہیں وہ قرآن و حدیث کی روح کے منافی ہیں اور اسی غلط فہمی کی وجہ سے خواتین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے‘۔

واضح رہے کہ رواں برس اکتوبر میں وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں موقف اپنایا تھا کہ بیک وقت تین طلاقیں آئین میں درج بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اتر پردیش میں ایک ریلی کے دوران اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’ان کی حکومت نے سپریم کورٹ میں واضح موقف اپنایا ہے کہ مذہب کی بنیاد پر عورتوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے‘۔

مزید پڑھیں: بیک وقت تین طلاقیں درست ہیں یا غلط

واضح رہے کہ بھارت کا آئین ملک کی سب سے بڑی اقلیتی برادری مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے ضابطہ دیوانی کے تحت شادیاں، طلاق اور وراثت کے معاملات نمٹاسکتے ہیں۔

دوسری جانب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی مذہبی معاملات میں عدالتی مداخلت کی سخت مخالفت کی اور موقف اپنایا کہ ’آئینی ضمانتوں کو چھیڑنا نہیں چاہیے اور نہ ہی عدالت کو شرعی قوانین میں تبدیلی کرنی چاہیے‘۔

بھارت میں خواتین کے حقوق کی تنظیمیں ایسے قانون کا مطالبہ کررہی ہیں جس میں کثیر الازدواجی، یکطرفہ طلاق، کم عمری کی شادی اور حلالہ پر پابندی ہو۔

حکومت یہ واضح کرچکی ہے کہ یکساں ضابطہ دیوانی اتفاق رائے سے ہی لاگو کیا جاسکتا ہے۔